مجھ پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم رہا کہ ابتدا ہی سے مطالعہ، غور و فکر اور تحقیق کی عادت نصیب ہوئی۔ بالخصوص اکابر علماءِ امت کی سوانح، خدمات اور افکار کا مطالعہ میرا مستقل ذوق رہا۔ انہی بزرگوں کی زندگیوں سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ علم، دعوت، سیاست، قیادت، تحقیق، تدریس، اصلاح اور جہاد، سب میں اعتدال، توازن، وسعتِ نظر اور حکمت بنیادی اصول ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اعتدال میری فکر اور عملی زندگی کا مستقل حصہ بنتا گیا۔
یہ میری تحقیقی، مطالعاتی اور مشاہداتی رائے ہے کہ اکابرینِ علماءِ دیوبند اور ان کے سلف نے ہمیشہ اعتدال کے ساتھ دعوت و تبلیغ، سیاست و قیادت، تحقیق و تدریس اور تحریک و جہاد کا کام کیا۔ وہ جس میدان میں بھی اترے، وہاں اپنی علمی، فکری اور عملی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑے، مگر کبھی افراط و تفریط کا شکار نہیں ہوئے۔ انہوں نے اختلاف کیا تو اصولوں کی بنیاد پر، تعاون کیا تو امت کی مصلحت کے پیشِ نظر، اور مخالفت کی تو اخلاق و دیانت کے دائرے میں رہ کر۔ آپ یہ سب جاننے کے لیے کھبی ان کو پڑھیں تو سہی، اکابرین کو پڑھے، سمجھے اور سنے بغیر اکابر اکابر کی گردان کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
انہی مطالعاتی اثرات کی وجہ سے مجھے گلگت بلتستان کے تقریباً تمام مکاتبِ فکر کے اہلِ علم و کمال سے تعلق پیدا کرنے کا موقع ملا۔ میں ان کی علمی، فکری اور سماجی محفلوں میں جاتا رہا، ان سے سیکھتا رہا، گفتگو بھی کرتا رہا اور ان کے مثبت کاموں پر لکھتا بھی رہا۔
اس طرزِ عمل کا بہت سے لوگوں نے میرا مذاق اڑایا، طعنے دیے، بعض نے گالیاں بھی دیں، کچھ نے باقاعدہ مہم چلائی۔ لیکن چونکہ میرے فکر، نظر اور وژن میں کوئی ابہام نہیں تھا، اس لیے میں نے ان آوازوں کی پروا کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ الحمد للہ!
دو نوجوان مولوی صاحبان، جو عمر میں مجھ سے کافی چھوٹے اور بعد کے فضلاء ہیں، ابتدا میں میرے دوست تھے، شاید کچھ متاثر بھی تھے۔ تاہم وہ میری ان سرگرمیوں سے سخت نالاں رہتے تھے۔ پہلے سمجھاتے رہے، پھر میرے خلاف لکھتے رہے، اور بعد میں باقاعدہ مہم بھی چلائی۔ لیکن وقت ہمیشہ انسان کا بہترین استاد ثابت ہوتا ہے۔
اب چند سال سے ان دونوں کی صورتحال مسلسل بدلتی جا رہی ہے۔ ایک صاحب مکمل سیاسی تجزیہ کار بن چکے ہیں، ایک مذہبی سیاسی جماعت سے وابستہ بھی ہوگئے ہیں، صحافت بھی کرنے لگے ہیں، اور ہر اہم تقریب و شخصیت کی کوریج کے لیے کمرہ ہاتھ میں پکڑ کر، ہر ممکن کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسرے صاحب بھی خاصے مقبول ہوئے، مگر مختلف اوقات میں ان کے کئی مختلف چہرے سامنے آئے۔ بالخصوص 2026ء کے انتخابات سے پہلے اور بعد میں ان کی فکری اور عملی تبدیلیاں نمایاں رہیں۔ یہ سب دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوتی رہی کہ انسان اگر اخلاص رکھتا ہو تو بالآخر تجربات اسے بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ پھر جب پہلے نوجوان کی دوسرے کے خلاف ایک تحریر دیکھی تو مزید حیرت ہوئی۔ میں نے دل ہی دل میں کہا، زندگی خود بھی ایک بڑی درسگاہ ہے۔
بہرحال، میری گزارش صرف ان دو افراد سے نہیں بلکہ تمام نوجوان علماء، بالخصوص نئے فضلاء کرام سے ہے کہ بار بار ہچکولے کھانے، ہر چند ماہ بعد نئی صف بندی کرنے، ہر موسم میں نئے نعرے لگانے، کبھی "زندہ باد” اور کبھی "مردہ باد” کے جذباتی نعروں میں بہنے، اور ہر مرحلے پر اپنا چہرہ بدلنے سے بہتر یہ ہے کہ ایک مرتبہ سنجیدگی سے بیٹھ کر اپنے وژن کو واضح کر لیا جائے۔
اکابرِ ملت کی زندگیاں پڑھیں، قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ کریں، تاریخ امت سے سبق حاصل کریں، اپنے مقاصد اور ترجیحات متعین کریں، پھر استقامت کے ساتھ اسی راستے پر چلتے رہیں۔ حالات بدلیں تو حکمتِ عملی بدل سکتی ہے، مگر اصول اور وژن بار بار نہیں بدلتے۔
قرآن کریم بھی اہلِ ایمان کو استقامت کا حکم دیتا ہے
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ
"پس آپ اسی طرح ثابت قدم رہیے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے۔” (ہود: 112)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ "اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی سوچ اور اپنے اندر کی کیفیت نہ بدل دے۔” (الرعد: 11)
اصل تبدیلی چہروں کی نہیں، فکر کی ہوتی ہے۔ کامیابی نعروں سے نہیں، نظریے سے ملتی ہے۔ وقتی مقبولیت سے زیادہ اہم مستقل کردار ہوتا ہے۔ انسان کا اصل سرمایہ اس کا واضح وژن، مضبوط اصول، علمی دیانت اور اخلاقی استقامت ہے۔
اس لیے میری عاجزانہ گزارش یہی ہے کہ چہرے نہیں بدلو، وژن کلیر کر لو۔ یہ راستہ یقیناً مشقت طلب، صبر آزما اور دیرپا ہے، مگر اس کے نتائج زیادہ پائیدار، باوقار اور امت کے لیے زیادہ مفید ہوتے ہیں۔ یہی خدا اور رسول ﷺ کی تعلیمات کا خلاصہ ہے، اور یہی ہمارے اکابرینِ امت کا عملی اسوہ بھی۔ امید ہے آپ سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں گے۔