ریاستیں صرف جغرافیائی سرحدوں، قدرتی وسائل یا فوجی طاقت سے مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی اصل قوت ایک مضبوط آئینی نظام، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کے متوازن استعمال میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر جدید جمہوری ریاستوں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ پاکستان کا آئین بھی اسی تصور کا آئینہ دار ہے کہ ریاست کا ہر ادارہ اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، تاکہ ریاستی نظام میں توازن، شفافیت اور استحکام برقرار رہے۔
حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مسلح افواج اور ان کی آئینی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک بیان دیا، جس کے بعد یہ موضوع قومی سطح پر زیرِ بحث آیا۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی جذبات یا شخصیات کے بجائے آئینِ پاکستان اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھا جائے، کیونکہ آئین ہی ریاستی اداروں کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا اصل ماخذ ہے۔پاکستان کا آئین واضح طور پر ریاستی اداروں کے اختیارات کو الگ الگ بیان کرتا ہے۔ آرٹیکل 50 کے مطابق پارلیمنٹ ریاست کا اعلیٰ قانون ساز ادارہ ہے، جو قومی پالیسیوں کے مطابق قوانین بناتی ہے۔ آرٹیکل 90 وفاقی حکومت کو انتظامی اختیارات دیتا ہے، جس کے تحت وزیراعظم اور وفاقی کابینہ ریاستی امور چلاتے ہیں۔ آرٹیکل 175 عدلیہ کی آزادی اور اس کے دائرۂ اختیار کو متعین کرتا ہے، تاکہ انصاف کی فراہمی غیر جانب دارانہ انداز میں ممکن ہو سکے۔
اسی طرح آرٹیکل 245 مسلح افواج کی آئینی ذمہ داریوں کو واضح کرتا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کا بنیادی فرض ملک کو بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھنا، پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کا دفاع کرنا، اور وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق، قانون کے تحت، ضرورت پڑنے پر سول انتظامیہ کی معاونت کرنا ہے۔اس آئینی شق سے واضح ہوتا ہے کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری ریاست کا دفاع اور قومی سلامتی کا تحفظ ہے، جبکہ انتظامی اور سیاسی فیصلوں کا اختیار منتخب حکومت کے پاس رہتا ہے۔اسی طرح آرٹیکل 5 ہر شہری اور ہر ریاستی ادارے پر آئین اور قانون سے وفاداری کو بنیادی قومی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین کی بالادستی صرف عوام ہی نہیں بلکہ تمام اداروں پر یکساں طور پر لازم ہے۔ آئین ہی ریاست کی اصل طاقت اور قومی وحدت کی بنیاد ہے۔
اسلام بھی اختیارات کے توازن، عدل اور ذمہ داری کی ادائیگی پر غیر معمولی زور دیتا ہے۔ اللّٰه تعالٰى کا ارشاد ہے:”بے شک اللّٰه تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔”(سورۃ النساء: 58)
اس آیت میں حکمرانوں، ججوں، سرکاری اہلکاروں اور تمام ذمہ دار افراد کو یہ اصول دیا گیا ہے کہ اختیار ایک امانت ہے، جسے دیانت اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔
ایک اور مقام پر اللّٰه تعالٰى فرماتے ہیں:”اور آپس میں ایک دوسرے کے معاملات باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔”(سورۃ البقرہ: 188)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال، قانون سے تجاوز اور انصاف سے انحراف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:”تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔”(صحیح بخاری، حدیث: 7138؛ صحیح مسلم، حدیث: 1829)
یہ حدیث اسلامی نظامِ حکومت کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ ہر صاحبِ اختیار اپنی ذمہ داری کا جواب دہ ہے۔ کوئی بھی فرد یا ادارہ اپنی مقررہ حدود سے تجاوز کرنے کا مجاز نہیں۔
واایک اور حدیث میں رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:”اطاعت صرف نیکی کے کام میں ہے۔”(صحیح بخاری، حدیث: 7257؛ صحیح مسلم، حدیث: 1840)
یہ اصول اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ریاستی نظم و ضبط، قانون کی پابندی اور جائز اختیارات کا احترام معاشرے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔دنیا کی کامیاب جمہوریتوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مضبوطی کا راز یہی ہے کہ ریاستی ادارے ایک دوسرے کے اختیارات کا احترام کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے، حکومت انتظامی امور سنبھالتی ہے، عدلیہ آئین اور قانون کی محافظ ہوتی ہے، جبکہ مسلح افواج بیرونی خطرات سے وطن کا دفاع کرتی ہیں۔جب ادارے اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہتے ہیں تو سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے، معیشت مضبوط ہوتی ہے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بڑھتا ہے۔
پاکستان اس وقت دہشت گردی، معاشی مشکلات، سرحدی کشیدگی، پانی کے مسائل، موسمیاتی تبدیلی اور اندرونی سیاسی اختلافات جیسے بڑے چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ تمام ادارے باہمی احترام، آئینی حدود اور قانون کی بالادستی کو مقدم رکھیں۔ اداروں کے درمیان تصادم یا اختیارات کی کشمکش کسی بھی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، جبکہ باہمی تعاون اور آئینی ہم آہنگی قومی ترقی کی ضمانت بنتی ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دفاعِ وطن، دہشت گردی کے خلاف جنگ، قدرتی آفات اور قومی سلامتی کے مختلف مراحل میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اسی طرح پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ اور دیگر قومی ادارے بھی ریاستی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ ان تمام اداروں کا باہمی احترام اور آئینی کردار ہی ریاست کی مضبوطی کا ضامن ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آئینِ پاکستان کو محض ایک قانونی دستاویز نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے قومی وحدت اور ریاستی استحکام کا ضابطۂ حیات تصور کیا جائے۔ جب ہر ادارہ اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا، قانون سب کے لیے برابر ہوگا، انصاف بلاامتیاز فراہم ہوگا اور عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، تبھی پاکستان حقیقی معنوں میں ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بن سکے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ریاست کی بقا افراد یا اداروں کی برتری میں نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی میں ہے۔ آئین ہی وہ مشترکہ معاہدہ ہے جو ریاست، اداروں اور عوام کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔ اگر ہر ادارہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے تو نہ صرف قومی استحکام ممکن ہوگا، بلکہ پاکستان ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلیں بھی طے کرے گا۔