اقلیتیں: صرف ایک دن کی یاد نہیں، ہر دن کی ذمہ داری

11 اگست آتا ہے تو ہم قومی اقلیتی دن مناتے ہیں۔ تقاریر ہوتی ہیں، پیغامات جاری ہوتے ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اقلیتوں کے حقوق کے حق میں آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن ایک سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے: کیا اقلیتوں کے حقوق صرف 11 اگست کا موضوع ہیں؟

اگر ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک سمجھتے ہیں جس میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور مذہبی اقلیتیں اسی ریاست کی برابر کی شہری ہیں تو پھر اقلیتوں کا احترام، ان کے جان و مال کا تحفظ، ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت، ان کے ساتھ انصاف اور ان کے انسانی وقار کا خیال صرف کسی ایک دن کی ذمہ داری نہیں ہوسکتی۔ یہ ریاست اور معاشرے دونوں کی روزمرہ ذمہ داری ہے۔

اور اس معاملے میں ہمارے پاس صرف جدید دنیا کے انسانی حقوق کا فلسفہ نہیں، بلکہ اسلام کی اپنی تعلیمات بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔

قرآن مجید سورۂ ممتحنہ میں ایک نہایت واضح اصول بیان کرتا ہے:

"اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔” (الممتحنہ: 8)

غور کیجیے، یہاں صرف دشمنی نہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ الفاظ میں نیکی اور انصاف دونوں شامل ہیں۔ یعنی ایک غیر مسلم شہری کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور انصاف کرنا اسلامی اخلاقیات سے باہر کی کوئی چیز نہیں۔

رسول اکرم ﷺ کی زندگی اس اصول کی عملی تفسیر ہے۔

صحیح بخاری میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ ﷺ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ۔

یہ واقعہ ہمارے لیے ایک بڑا اخلاقی سبق رکھتا ہے۔ مذہبی اختلاف اپنی جگہ موجود تھا، لیکن انسانی وقار اپنی جگہ قائم تھا۔

ایک اور واقعہ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کا ہے۔ ان کی والدہ مسلمان نہیں تھیں۔ حضرت اسماءؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی غیر مسلم والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور تعلق قائم رکھ سکتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، اپنی ماں سے اچھا سلوک کرو۔” یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے۔

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام انسان سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ وہ اپنے عقیدے کی حفاظت کے لیے دوسرے انسان کی عزت ختم کردے۔ عقیدہ اپنی جگہ، انسان کے ساتھ حسنِ سلوک اپنی جگہ۔

یہی وجہ ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کا مطلب مذاہب کو خلط ملط کرنا نہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مسلمان اپنے عقیدے سے دستبردار ہوجائیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انسان کے حقِ زندگی، حقِ عزت اور حقِ عبادت کو تسلیم کیا جائے۔

خلفائے راشدین کے دور میں بھی ہمیں اسی احساسِ ذمہ داری کی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ سے منسوب ایک معروف واقعہ تاریخی ماخذ کتاب الخراج میں بیان ہوا ہے کہ انہوں نے ایک بوڑھے یہودی کو محتاجی کی حالت میں دیکھا۔ اس کے حالات معلوم کیے تو معلوم ہوا کہ بڑھاپے اور غربت نے اسے اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس کے لیے بیت المال سے مدد کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔ یہ روایت حدیثِ نبوی نہیں بلکہ بعد کے تاریخی ماخذ میں منقول واقعہ ہے، اس لیے اسے اسی حیثیت سے بیان کرنا چاہیے۔

اس واقعے کا اصل سبق یہ ہے کہ ریاستی ذمہ داری صرف اس وقت شروع نہیں ہوتی جب سامنے والا ہمارے مذہب کا پیروکار ہو۔ ضرورت مند انسان پہلے انسان ہے، اس کے بعد اس کی مذہبی شناخت آتی ہے۔

آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو شاید سب سے بڑا مسئلہ قانون کی کتاب میں نہیں بلکہ ہمارے رویوں میں نظر آتا ہے۔ ہم نے مذہبی اختلاف کو بعض اوقات اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ دوسرے مذہب کے انسان کو شک، نفرت یا حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کسی ہندو، مسیحی، سکھ، پارسی یا کسی دوسرے مذہب کے پیروکار سے اختلاف کرنا ایک بات ہے اور اسے کمتر انسان سمجھنا بالکل دوسری بات۔

ریاست کی ذمہ داری بھی صرف یہ نہیں کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے قوانین بنائے۔ اصل امتحان قانون کے نفاذ کا ہے۔ اگر کسی اقلیتی شہری کی عبادت گاہ محفوظ نہیں، اگر اسے ملازمت یا تعلیم میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا ہے، اگر اس کی بیٹی یا بہن خود کو محفوظ نہیں سمجھتی، اگر اسے انصاف کے حصول کے لیے اپنی مذہبی شناخت چھپانا پڑے تو پھر ہمیں اپنے ریاستی اور معاشرتی رویے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

بین المذاہب ہم آہنگی تقریروں سے نہیں، روزمرہ کے رویے سے پیدا ہوتی ہے۔

یہ اس وقت پیدا ہوگی جب ہم اپنے پڑوسی کے مذہب سے اختلاف کے باوجود اس کے دکھ میں شریک ہوں گے۔ جب ہم کسی اقلیتی شہری کے ساتھ ناانصافی دیکھ کر خاموش نہیں رہیں گے۔ جب عبادت گاہ کی حفاظت کو کسی خاص مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے شہری امن کا مسئلہ سمجھیں گے۔ جب ہمارے اسکول بچوں کو صرف یہ نہیں بتائیں گے کہ ہمارا مذہب کیا ہے بلکہ یہ بھی سکھائیں گے کہ دوسرے انسان کے مذہب، عزت اور وجود کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔

پاکستان کو مذہبی یکسانیت کی نہیں، مذہبی انصاف کی ضرورت ہے۔

ہم سب کا عقیدہ ایک ہونا ضروری نہیں۔ ہماری عبادت کا طریقہ ایک ہونا ضروری نہیں۔ ہمارے مذہبی تصورات ایک جیسے ہونا ضروری نہیں۔ لیکن ایک ملک کے شہری ہونے کے ناتے ہمارے حقوق برابر ہونے چاہئیں اور قانون کی نظر میں ہماری عزت برابر ہونی چاہیے۔

میرے خیال میں یہی بین المذاہب ہم آہنگی کا اصل مفہوم ہے۔

ہمیں اقلیتوں پر احسان نہیں کرنا۔ ہمیں ان کے ساتھ انصاف کرنا ہے۔

ہمیں انہیں برداشت نہیں کرنا۔ ہمیں انہیں باعزت شہری تسلیم کرنا ہے۔

ہمیں سال میں ایک دن ان کے لیے آواز نہیں اٹھانی۔ ہمیں ہر اس دن ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جب ان کے ساتھ ناانصافی ہو۔

اور اگر ہم واقعی رسول اکرم ﷺ کی سیرت، قرآن کی تعلیمات اور خلفائے راشدینؓ کے طرزِ عمل کو اپنی رہنمائی سمجھتے ہیں تو پھر ہمیں یہ بات ماننا ہوگی کہ انسانی عزت کا احترام مذہبی شناخت سے مشروط نہیں۔

11 اگست صرف اقلیتوں کا دن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دراصل اکثریت کے لیے بھی ایک دنِ احتساب ہونا چاہیے۔

ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:

کیا ہم اپنے ملک کے ہر شہری کو وہ عزت دے رہے ہیں جس کا ہم اپنے لیے مطالبہ کرتے ہیں؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمیں یہ سفر جاری رکھنا چاہیے۔

اور اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر شاید 11 اگست کو تقریر کرنے سے پہلے ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ ایک مہذب ریاست کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں اکثریت کتنی طاقتور ہے؛ اصل پہچان یہ ہے کہ وہاں کمزور شہری کتنا محفوظ ہے۔

اس کو چیک کرو گرامر املا کی غلطیاں نہ ھوں فائین ٹون ھے یا نھیں کوئی بے ربطگی تو نھیں۔ کل الفاظ کتنی ھیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے