نوجوان پورے معاشرے اور قوم کے مستقبل کے امین ہوتے ہیں۔ اگر اُن کی صلاحیتوں کو بہترین انداز میں استعمال میں کیا جائے اور انہیں ترقّی کے مواقع فراہم کیے جائیں، تو یہ قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں لیکن اگرانہیں نظرانداز کردیاجائے، تو یہ گوناگوں معاشرتی مسائل کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی صلاحیتیں، مسائل اور کرداراُجاگرکرنےکے لیے ہر سال 12اگست کو ’’عالمی یومِ نوجوانان‘‘ منایا جاتا ہے۔
واضح رہے، پاکستان کا شمار دُنیا کے اُن چند ممالک میں ہوتا ہے،جہاں نوجوان آبادی کا تناسب غیرمعمولی حد تک زیادہ ہے اور ماہرین پاکستان کو ایک ایسی ریاست قرار دیتے ہیں کہ جو نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر ترقّی کی نئی منازل طے کرسکتی ہے۔ تاہم، یہ اُسی وقت ممکن ہے، جب نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، روزگار، تحقیق اوراختراع کے مواقع میسر آئیں۔
آج پاکستانی نوجوان مختلف شعبہ ہائےزندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التّحصیل نوجوان طب، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحافت، قانون، درس و تدریس، کاروبار اور تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، جب کہ ہزاروں نوجوان سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ،مصنوعی ذہانت، ای کامرس اورآن لائن کاروبار کے ذریعے نہ صرف اپنی معاشی حالت بہتر بنا رہے ہیں بلکہ مُلکی معیشت میں بھی قابلِ قدرکردار ادا کررہے ہیں۔
علاوہ ازیں، یہ نوجوان کھیل، ادب، فنونِ لطیفہ، سماجی خدمت اوررضاکارانہ سرگرمیوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہارکررہے ہیں۔ تاہم، دوسری جانب نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے، جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کےباوجود روزگار کے مناسب مواقع بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کا نوجوان محنت سے قطعاً نہیں گھبراتا۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اُسے دُرست سمت اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی توانائیاں قومی ترقّی کے لیے بروئے کار لا سکے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ کام یابی ہمیشہ اُن نوجوانوں ہی کے حصّے آتی ہے کہ جنہوں نے مشکلات اور رکاوٹوں کو ترقّی کا زینہ بنایا اوراَن تھک محنت، مستقل مزاجی، دیانت داری، نظم و ضبط، صبر اوراللہ تعالیٰ پر توکل نے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ ایسےنوجوان کبھی ماضی کی ناکامیوں میں نہیں الجھتے بلکہ ہر نئےدن کوایک نئےموقعےکےطور پرقبول کرتے ہیں اور یہی نوجوان آگے چل کر اپنی قوم کے لیے امید، ترقّی اور قیادت کی علامت بن جاتے ہیں۔
دینِ اسلام نےجوانی کوذمّےداری،کردارسازی اور قیادت کی تیاری کا دَورقراردیا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد ایسے واقعات موجود ہیں، جن سےمعلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں نوجوانوں ہی کو عظیم ذمّےداریوں کے لیے منتخب فرمایا۔ مثال کے طور پرحضرت ابراہیمؑ نے جوانی ہی میں شرک کے خلاف آواز بلند کی، بُت شکنی کا عظیم کارنامہ انجام دیا اور حق کی خاطر ہر آزمائش کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔
حضرت یوسفؑ نے بھی عنفوانِ شباب ہی میں حُسن و اقتدارجیسی آزمائشوں کا سامنا کیا مگراپنےکردار، تقویٰ اورصبر کی بدولت رہتی دُنیا تک نوجوانوں کےلیے بہترین عملی نمونہ بن گئے۔ اسی طرح اصحابِ کہف بھی چند ایسے نوجوان تھے کہ جنہوں نے باطل نظام کے سامنے سَر جُھکانے کی بجائے اپنے ایمان کی حفاظت کو ترجیح دی، جس پر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں دائمی عظمت سے نوازا۔ علاوہ ازیں، اسلامی تاریخ کا مطالعہ یہ حقیقت بھی آشکار کرتا ہے کہ انبیاءؑ کی دعوتِ حق قبول کرنے میں نوجوان طبقہ پیش پیش رہا۔
رسول اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ نوجوانوں پر اعتماد، اُن کی تربیت کرنے اور انہیں ذمّےداریاں سونپنے کی روشن مثالوں سے لب ریز ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دَورِ نبویؐ میں متعدد نوجوان صحابۂ کرامؓ کو قیادت و سیادت، دعوت و تبلیغ، درس و تدریس، قضا وسفارت کاری اور عسکری ذمّے داریوں پر فائز کیا گیا۔
حضرت علیؓ نےکم عُمری ہی میں اسلام قبول کیا اور ہر مشکل مرحلے میں رسول اللہؐ کے شانہ بشانہ رہے۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کو مدینہ منورہ کا پہلا مبلّغ بنا کر بھیجا گیا، جہاں اُن کی حکمت، اخلاق اور بصیرت نے اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے علمِ فقہ میں ممتاز درجہ حاصل کیا، جب کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نےکم عُمری ہی میں عظیم مفسّرِ قرآن کا مقام حاصل کیا۔ اسی طرح رسول اکرمؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو جوانی ہی میں ایک ایسے لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا کہ جس میں جلیل القدرصحابۂ کرامؓ بھی شامل تھے۔ ان واقعات سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دینِ اسلام میں قیادت کا معیار صلاحیت، کردار، علم اور اہلیت ہے۔
دورِ نبویؐ کے بعد خلافتِ راشدہ کےزمانے میں بھی نوجوانوں کو مختلف انتظامی وعسکری ذمّےداریاں سونپی گئیں اوراس موقعے پرانہوں نےاپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جب کہ بعد کے ادوار میں بھی ایسے بےشمار مسلمان نوجوان سامنے آئے کہ جنہوں نے اپنی جرأت، حکمتِ عملی اور غیرمعمولی قیادت سے تاریخ کا رُخ موڑدیا۔
ان میں نمایاں نام سلطان محمد فاتحؒ کا ہے، جنہوں نےصرف 21برس کی عُمر میں قسطنطنیہ فتح کرکے رسول اکرمؐ کی اس بشارت کوعملی جامہ پہنایا کہ جس کے مسلمان صدیوں سے منتظر تھے۔ اسلامی تاریخ کے یہ روشن کردار اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ ہر دَور ہی میں نوجوان اقوام کی ترقّی کی اصل طاقت اورمحرّک رہے ہیں۔
واضح رہےکہ ہرزمانے کے اپنے تقاضے اور چیلنجز ہوتے ہیں۔ آج کے نوجوان کو بھی گرچہ مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے، لیکن کام یابی کا بنیادی اصول اب بھی وہی ہے،جو ماضی کے عظیم نوجوانوں کا سرمایہ تھا، یعنی مضبوط کردار، اعلیٰ تعلیم، مسلسل محنت، دُور اندیشی اور سیکھنے کا جذبہ۔
ہر چند کہ آج مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کے تقریباً ہر شُعبے کو متاثر کیا ہے مگر اس بدلتی ہوئی دُنیا نے نوجوانوں کے لیے کام یابی کی نئی راہیں بھی کھولی ہیں اور شدید مسابقت کی اس فضا میں ڈگری کے ساتھ ہُنر، تخلیقی صلاحیت، تحقیق، مسلسل سیکھنے کی عادت اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت بھی ناگزیر ہوچُکی ہے۔
آج نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شارٹ کٹ سے کام یابی حاصل نہیں کی جا سکتی، جب کہ محنت، دیانت داری، وقت کی پابندی، مستقل مزاجی، مثبت سوچ اورمسلسل سیکھنے کا جذبہ انسان کو آگے لے جاتا ہے۔ جو نوجوان اپنی ناکامیوں سےسبق سیکھتے ہیں، خود احتسابی کو شعار بناتے ہیں اور اپنی منزل پر نظر رکھتے ہیں، وہی مستقبل میں اپنی اقوام کی قیادت کرتے ہیں۔ بقول ڈاکٹرعلاّمہ محمد اقبال؎ نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر… تُو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔