نئی سڑک، نئی رفتار… مگر کیا اس سرسبزشہرکی پہچان بھی ساتھ چل پائے گی؟

اسلام آباد کی خوبصورتی صرف اس بات میں نہیں کہ یہ پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ اس شہر کی اصل کشش اس کی کشادہ سڑکوں، کھلے مقامات، درختوں اور سرسبز پٹیوں میں بھی ہے۔ یہی سبزہ اسے دوسرے بڑے شہروں سے ایک الگ شناخت دیتا ہے۔

اسلام آباد ایکسپریس وے کو مزید بہتر اور جدید بنانے کا منصوبہ بلاشبہ ٹریفک کی روانی بہتر کرنے اور شہریوں کا سفر آسان بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، گاڑیوں کی تعداد اور اسلام آباد، راولپنڈی کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے افراد کے لیے بہتر انفراسٹرکچر وقت کی ضرورت ہے۔

لیکن بڑے منصوبے صرف اپنی تعمیر سے کامیاب نہیں ہوتے، ان کی اصل کامیابی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ شہر کے مستقبل کو کس حد تک بہتر بناتے ہیں۔

یہاں ایک سوال فطری طور پر سامنے آتا ہے۔کیا ہم اسلام آباد کو تیز رفتار بھی بنا سکتے ہیں اور سرسبز بھی رکھ سکتے ہیں؟میرے خیال میں جواب یقیناً ہاں ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ایکسپریس وے کی بہتری کے ساتھ اس کے اطراف موجود سبز پٹیوں، درختوں اور قدرتی ماحول کو بھی منصوبہ بندی کا اہم حصہ بنایا جائے۔ جہاں تعمیراتی ضرورت کے باعث سبزہ متاثر ہو، وہاں مناسب اور مؤثر شجرکاری اور گرین بیلٹس کی بحالی کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں ہائبرڈ اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کا اہم ترین کردار

یہ بات آج پہلے سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دنیا موسمیاتی تبدیلی کے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ پاکستان بھی شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں شہری علاقوں میں درخت اور سبز مقامات محض خوبصورتی نہیں بلکہ بہتر شہری ماحول کی ضرورت ہیں۔

شہر کی ترقی اور ماحول کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ اصل کامیابی تو یہی ہے کہ دونوں ساتھ آگے بڑھیں۔

اگر ایکسپریس وے جدید ہو، سفر کا وقت کم ہو، ٹریفک کی روانی بہتر ہو اور اسی کے ساتھ شہر کا سبز کردار بھی برقرار رہے تو یہ ایک متوازن ترقی کی مثال بن سکتی ہے۔

یہاں مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کے ایک اور پہلو پر بھی غور ضروری ہے۔ بڑے منصوبوں سے عام شہری کو سہولت ملنی چاہیے اور روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے مجموعی سفری لاگت بھی قابلِ برداشت رہنی چاہیے۔ اگر مستقبل میں کسی مرحلے پر سڑک کے استعمال سے متعلق کوئی فیس یا ٹول نافذ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات کو بھی عام مسافر کی نظر سے دیکھنا ضروری ہوگا۔

آخرکار شہری منصوبہ بندی صرف انجینئرنگ کا معاملہ نہیں۔ یہ لوگوں کی زندگی، ماحول اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے بھی جڑی ہوتی ہے۔

ہمیں ایسی سڑکیں ضرور بنانی چاہییں جو شہر کو آگے لے جائیں، مگر ساتھ یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے کناروں پر موجود سبزہ پیچھے نہ رہ جائے۔اسلام آباد کی ترقی کا بہترین منظر شاید وہی ہوگا جہاں سڑکیں جدید ہوں، سفر آسان ہو، ٹریفک رواں ہو اور درخت اپنی جگہ موجود رہیں۔

ترقی کے راستے کشادہ ہوں، مگر فطرت کا دامن تنگ نہ ہو!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے