گوپال کا باپ میونسپلٹی میں ملازم تھا اور گوپال اسکا اکلوتا بیٹا۔ بیس بائیس برس کا کڑیل جوان، جس کے شب و روز کا آدھا حصہ محلے کے اکھاڑے میں گزرتا۔ منہ اندھیرے گوپال اکھاڑے کی گیلی مٹی میں اتر جاتا۔ مگدر گھماتا تو ہوا سائیں سائیں کرتی، ڈنڈ پیلتا تو زمین پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح بکھر جاتے۔ اِس ریاضت نے اسکے بدن کو تانبے کے مجسمے میں ڈھال دیا تھا۔ اس کے ڈولے ایسے تھے کہ قمیض کی آستینیں تنگ پڑ جاتیں اور جب وہ بازار سے گزرتا تو محلے کے لونڈے راستہ چھوڑ دیتے۔ کسی میں اس سے الجھنے کی جرات نہیں تھی۔
صدیقہ شہر کے زنانہ کالج میں پڑھتی تھی۔ جب وہ سفید یونیفارم میں کتابیں سینے سے لگائے، کالج جانے کیلئے گلی سے گزرتی تو محلے کے لڑکے اسے دیکھ کر آہیں بھرتے۔ پورے کالج میں وہ حسینۂ عالم مشہور تھی۔ لڑکیاں اس سے حسد بھی کرتی تھیں اور اسکی دوستی پر فخر بھی۔ امرتسر میں اُس روز بسنت تھی جب سارا محلہ چھتوں پر تھا اور گوپال کی پتنگ کٹ کر عین صدیقہ کے آنگن میں آ کر گر گئی۔ اسی لمحے دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں، صدیقہ نے نظر بھر کر گوپال کو دیکھا اور گوپال کو یوں لگا جیسے کسی نے اُسکے سینے میں خنجر اتار دیا ہو۔ اُس دن کے بعد سے اُس نے صدیقہ کے کالج کے چکر لگانے شروع کر دیئے۔ کبھی کبھار ہمت کر کے اُسکا راستہ روکنے کی کوشش بھی کرتا مگر صدیقہ کے قدموں کی رفتار بڑھ جاتی، دوپٹے کا آنچل ذرا اور کھنچ جاتا اور وہ اسے لفٹ کروائے بغیر گزر جاتی۔
گوپال کو اس بات پر بڑا غصہ آتا۔ رات کو چارپائی پر لیٹا تاروں کو گھورتا اور سوچتا کہ آخر اس لڑکی کو میرے ڈولے کیوں نظر نہیں آتے؟ سارا محلہ جن بازوؤں کا لوہا مانتا ہے، وہ اسکی ایک نگاہ کے آگے کیوں ہیچ ہیں؟ وہ جانتا تھا کہ اگر اتنی توجہ اُس نے کسی اور لڑکی پر صرف کی ہوتی تو وہ کب کی پکے ہوئے پھل کی طرح اسکی جھولی میں آ گری ہوتی۔ محلے کے اور بھی کئی لونڈے صدیقہ کے پیچھے تھے مگر سب گوپال سے ڈرتے تھے۔ گوپال کی موجودگی میں کسی کی مجال نہ تھی کہ صدیقہ کی گلی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔ اسے یہ زعم تھا کہ صدیقہ پر پہلا حق اسی کا ہے، گویا وہ کوئی اکھاڑے کا کشتی کا انعام ہو جو سب سے طاقتور پہلوان کو ملنا چاہئے۔
مگر صدیقہ تو کسی اور ہی خمار میں تھی۔ اور اُس خمار کا نام ارمان سنگھ تھا۔ گورا چٹا رنگ ایسا کہ دھوپ میں نکلتا تو ماتھا چاندی کی طرح دمکتا اور اس گوری رنگت پر اسکی گھنی سیاہ داڑھی خوب جچتی۔ صدیقہ کو اس ی داڑھی بہت پسند تھی، سلیقے سے سنواری ہوئی جس میں کنگھی کے نشان صاف دکھائی دیتے۔ اور اوپر سے اسکی پگڑی! ارمان سنگھ روز ایک نئی پگڑی باندھتا۔ کبھی سرخ، کبھی نیلی اور کبھی ارمغانی۔ پگڑی کے پیچ اتنے سلیقے سے بندھے ہوتے کہ لگتا کسی مصور نے ایک ایک تہہ پر برش پھیرا ہے۔
صدیقہ اپنے جھروکے سے اسے گلی سے گزرتا دیکھتی اور سوچتی کہ اس سکھ بچے کے پاس آخر کتنی پگڑیاں ہونگی؟ ایک صندوق بھر؟ دو صندوق؟ ہر رنگ کی؟ پھر خود ہی اپنے سوال پر شرما جاتی اور جالی سے پیچھے ہٹ جاتی، اسے فوراً ہی خیال آتا کہ اسکے اپنے صندوقوں میں بھی تو ہر رنگ کے کپڑے بھرے پڑے ہیں۔ ارمان سنگھ جب صدیقہ کی گلی سے گزرتا تو جان بوجھ کر قدم ہلکے کر لیتا اور جھروکے کے پیچھے سائے کو محسوس کر کے اسکے دل کی دھڑکن پگڑی کے پیچوں میں الجھ جاتی۔ مگر وہ بھی گوپال سے ڈرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گوپال کی نگاہیں صدیقہ کی گلی پر پہرہ دیتی ہیں۔
پہلے افواہیں آئیں، پھر دور کے محلوں سے دھوئیں کے پہلے بادل اٹھے۔ اور پھر یہ بادل آگ بنکر امرتسر بھی پہنچ گئے۔ رات کو افق سرخ رہنے لگا۔ ہندو اکثریت کی بستیوں میں مسلمان گھرانے اپنے ہی گھروں میں قید ہو گئے۔ دروازوں پر کنڈیاں، کھڑکیوں پر تختے، اور دلوں پر خوف کے تالے۔ یہی حال مسلمان محلوں میں سکھوں اور ہندوؤں کا تھا۔بلوائیوں کا خوف سایوں کی طرح بڑھتا جا رہا تھا۔ ہر رات کہیں نہ کہیں سے شعلہ اٹھتا۔ شہر دھوئیں اور آگ کے بادلوں میں گھرتا چلا گیا۔
صدیقہ کے والد، جنہیں محلے والے میاں جی کہتے تھے، کئی راتوں سے سوئے نہیں تھے۔ حقے کی نَے ہونٹوں میں دبائے صحن میں ٹہلتے رہتے اور آسمان کی سرخی کو تکتے رہتے۔ آخر ایک شام انہوں نے فیصلہ سنا دیا، ”اب یہاں گزارا نہیں۔ ہمیں اپنے لوگوں میں جانا ہوگا، قافلے بن رہے ہیں۔ جو ہونا ہو گا، سب کے ساتھ ہو گا۔“
اور پھر وہ رات آئی۔ گھر میں قیامت کی سی افراتفری مچ گئی۔ ماں نے کانپتے ہاتھوں سے قرآن شریف کو جزدان میں لپیٹا۔ میاں جی نے صندوق سے زیور کی پوٹلی نکال کر کمر سے باندھی۔ بستر لپیٹے گئے، گٹھڑیاں بندھیں۔ صدیقہ نے اپنی کتابیں اٹھائیں، پھر رکھ دیں۔ قیامت کی رات کتابیں کون اٹھاتا ہے۔ اس نے بس اپنا وہی سبز دوپٹا اوڑھا اور دہلیز پر آ کھڑی ہوئی۔
باہر گلی میں اندھیرا تھا۔ عین اسی وقت دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ میاں جی کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ مگر باہر بلوائی نہیں، ارمان سنگھ کھڑا تھا۔ سر پر ارمغانی پگڑی، ہاتھ میں لالٹین۔ ”میں آپ کو قافلے تک چھوڑ آؤں گا۔ میرے ہوتے آپ کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔“ میاں جی کو لگا جیسے آسمان سے خدا نے فرشتہ اِنکی مدد کیلئے بھیج دیا ہے۔ صدیقہ نے دوپٹے کے آنچل سے آدھا چہرہ ڈھانپے ارمان سنگھ کو دیکھا۔ برسوں کی جھجک اس ایک نگاہ میں پگھل گئی۔ آج پہلی بار اس نے جالی کے بغیر، کھلی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
قافلہ چلا۔ کہیں دور کتے بھونک رہے تھے اور اس سے بھی دور کہیں نعروں کی گونج تھی۔ چاند بھی اس رات دھوئیں کے پردے میں منہ چھپائے بیٹھا تھا۔ دور گلی کے دہانے پر گوپال کھڑا تھا۔ اکیلا نہیں، اسکے پیچھے اسکے دوستوں اور ساتھیوں کا جتھا تھا۔ گوپال کا پسینے سے چمکتا بدن کسی دیو کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ وہی ڈولے جو صدیقہ کو کبھی نظر نہیں آئے تھے، آج پوری گلی کو گھیرے کھڑے تھے۔
گوپال نے ارمان سنگھ کی طرف دیکھا۔ کچھ کہا نہیں، بس ٹھوڑی کے ایک ہلکے سے اشارے سے اسے پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ ارمان سنگھ کے ہاتھ میں لالٹین لرزنے لگی۔ اسکی ارمغانی پگڑی کے نیچے ماتھے پر پسینہ چمکا۔ اس نے ایک نظر صدیقہ کو دیکھا، ایک نظر گوپال کے جتھے کو اور اسکی نگاہیں زمین میں گڑ گئیں۔ اس میں گوپال سے بھڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ کبھی نہیں تھی۔ اسکے قدم آپ ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے۔
صدیقہ بے یقینی سے ارمان سنگھ کو دیکھتی رہی۔ وہ آنکھیں جو برسوں پگڑیوں کے رنگ گنتی رہی تھیں، آج ان رنگوں کو اندھیرے میں پگھلتے دیکھ رہی تھیں۔ اس کے ہونٹ ہلے، شاید کوئی نام، شاید کوئی التجا، مگر آواز نہ نکلی۔ اور پھر اس نے گوپال کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا۔
اس رات امرتسر میں آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔ پورے شہر میں ہاہاکار مچی تھی۔ ہزاروں چیخوں کی ایک ایسی ملی جلی گونج تھی جس میں کسی ایک چیخ کو پہچاننا ممکن نہ تھا۔ اسی ہاہاکار میں صدیقہ کی چیخیں بھی کہیں دب گئیں۔
بشکریہ جنگ