این ایف سی سے آئینی صوبے تک، گلگت بلتستان کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

گلگت بلتستان کی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں محض انتظامی اختیارات اور ترقیاتی پیکیجز کی بات کافی نہیں رہی۔ اب سوال براہِ راست آئینی حقوق، قومی وسائل میں حصہ اور پاکستان کے وفاقی نظام میں گلگت بلتستان کی جگہ کا ہے۔ جولائی 2026 میں گلگت بلتستان اسمبلی نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے خطے کو عبوری صوبائی حیثیت دینے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت وفاقی اداروں میں نمائندگی دینے اور قومی وسائل میں منصفانہ حصہ یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

یہ اتفاقِ رائے اس لیے اہم ہے کہ گلگت بلتستان کا آئینی سوال کسی ایک سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں رہا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کا ایک صفحے پر آنا اس بات کا اظہار ہے کہ خطے کے عوام اب اپنے مستقبل کے بارے میں واضح اور عملی پیش رفت چاہتے ہیں۔ قرارداد میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ عبوری صوبائی حیثیت سے پاکستان کے مسئلہ کشمیر پر دیرینہ مؤقف اور مستقبل کے کسی حتمی تصفیے پر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانا فوری طور پر ممکن نہیں تو کیا اسے قومی مالیاتی کمیشن، یعنی NFC، میں مناسب حصہ دیا جا سکتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست سے آگے بڑھ کر ریاستی دانش مندی کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے شہری ہیں، قومی معیشت میں بالواسطہ و بلاواسطہ حصہ ڈالتے ہیں، دفاعی اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم خطے میں رہتے ہیں، مگر آئینی بندوبست کی پیچیدگی کے باعث انہیں چار آئینی صوبوں کی طرح NFC میں براہِ راست حصہ حاصل نہیں۔

NFC محض پیسے کی تقسیم کا نام نہیں۔ یہ وفاقی ڈھانچے میں شراکت کا ایک بنیادی مالیاتی اصول ہے۔ اگر گلگت بلتستان کو فوری طور پر مکمل آئینی صوبائی حیثیت دینے میں آئینی یا سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں تو کم از کم ایک عبوری مالیاتی فارمولے کے ذریعے اسے قومی مالیاتی تقسیم میں مناسب حصہ دینے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ فروری 2026 میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے بھی آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کو NFC سے مناسب حصہ دینے کی حمایت سامنے آ چکی ہے۔ یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ اب صرف گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہا۔

تاہم گلگت بلتستان کے لیے اصل منزل صرف NFC میں حصہ نہیں ہونی چاہیے۔ مالیاتی حصہ وقتی ضرورت پوری کر سکتا ہے، مگر آئینی شناخت، پارلیمانی نمائندگی اور فیصلہ سازی میں باقاعدہ شمولیت ہی دیرپا حل ہے۔ آج اگر گلگت بلتستان کے لوگ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مؤثر نمائندگی سے محروم ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے قومی فیصلوں میں براہِ راست شریک نہیں جن کے اثرات ان کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ یہ خلا کسی ترقیاتی پیکیج سے پُر نہیں ہو سکتا۔

یہاں وفاقی حکومت کے سامنے ایک تاریخی موقع بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبائی حیثیت دینے کی بحث کو محض سیاسی نعرہ یا وقتی ردعمل سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ آئینی عمل کے طور پر آگے بڑھانا ہوگا۔ پارلیمان، آئینی ماہرین، گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت، وکلا، سول سوسائٹی اور کشمیر امور کے ماہرین کو ایک میز پر بٹھا کر ایسا آئینی حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو گلگت بلتستان کے شہریوں کو ان کے بنیادی سیاسی و مالی حقوق دے اور ساتھ ہی پاکستان کے کشمیر سے متعلق مؤقف کو متاثر نہ کرے۔

گلگت بلتستان کی متفقہ قرارداد دراصل وفاق کے لیے ایک سوال ہے: کیا ایک خطہ جو پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی پر واضح ہے، اسے حقوق دینے کے لیے ہمیشہ کسی آئینی خلا کا انتظار کرنا ہوگا؟ اگر کشمیر کا حتمی فیصلہ مستقبل کا معاملہ ہے تو اس دوران گلگت بلتستان کے شہریوں کو موجودہ دور میں آئینی، سیاسی اور مالی حقوق سے محروم رکھنا بھی کوئی قابلِ قبول مستقل حل نہیں ہو سکتا۔

اب وقت قراردادوں سے آگے بڑھنے کا ہے۔ اگر وفاق واقعی گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے تو اسے ایک واضح ٹائم لائن، آئینی روڈ میپ اور مالیاتی فارمولے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ عبوری صوبائی حیثیت اور NFC میں منصفانہ حصہ دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے مکمل قومی انضمام کی طرف دو اہم قدم سمجھا جانا چاہیے۔

گلگت بلتستان پہاڑوں میں ضرور ہے، مگر آئینی حقوق کے معاملے میں اسے وفاق کے دائرے سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ اب فیصلہ اسلام آباد کو کرنا ہے کہ وہ اس تاریخی مطالبے کو ایک اور قرارداد سمجھتا ہے یا پاکستان کے وفاقی مستقبل کو مضبوط کرنے کا موقع۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے