قانون سے سبز ترقی تک: چین میں ماحولیاتی تحفظ کا نیا دور

چین میں ہر سال 15 اگست کو قومی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے، لیکن 2026ء کا یہ دن اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اسی روز عوامی جمہوریہ چین کا ماحولیاتی ضابطہ قانون باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا۔ یہ قانون چین کے ماحولیاتی تحفظ کو ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے اور ملک کو ماحولیاتی حکمرانی کے ایک نئے مرحلے میں داخل کرتا ہے۔ چین کے سول کوڈ کے بعد یہ ملک کا دوسرا قانون ہے جس کے نام میں ’’ضابطہ قانون‘‘ شامل ہے، جبکہ دنیا میں اسے ماحولیاتی ضابطہ قانون کے نام سے پہلا جامع قانون قرار دیا جا رہا ہے۔

اس قانون کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ اس نے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق مختلف قوانین کو ایک جامع نظام میں سمیٹ دیا ہے، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اس میں ماحولیات کے تحفظ کو معاشی اور سماجی ترقی سے الگ نہیں سمجھا گیا۔ پہلے چین میں آلودگی، پانی، جنگلات، زمین، حیاتیاتی تنوع اور دیگر ماحولیاتی شعبوں سے متعلق قوانین الگ الگ موجود تھے۔ نئے ضابطے نے ان مختلف شعبوں کو ایک مربوط قانونی نظام میں جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح ماحولیاتی حکمرانی ہنگامی اقدامات اور مختلف قانون سازی سے نکل کر زیادہ منظم، جامع اور طویل مدتی مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔

چین کی موجودہ ماحولیاتی پالیسی کو سمجھنے کے لیے صدر شی جن پھنگ کے ’’سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی انمول اثاثے ہیں‘‘ کے تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ تصور پہلی بار 2005ء میں صوبہ ژے جیانگ کے یویِی گاؤں میں سامنے آیا تھا۔ بعد میں یہ چین کی ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کا ایک بنیادی تصور بن گیا۔ چین کے صدر شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیات کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ اچھا ماحول خود ترقی کی ایک اہم بنیاد بن سکتا ہے۔

اس سوچ نے چین کے ترقیاتی ماڈل میں ایک اہم تبدیلی پیدا کی۔ ماضی میں بعض اوقات اقتصادی ترقی کے لیے وسائل کے زیادہ استعمال اور ماحولیاتی قیمت کو نظرانداز کرنے کا رجحان موجود تھا، لیکن اب چین ’’ترقی کے دوران تحفظ اور تحفظ کے دوران ترقی‘‘ پر زور دے رہا ہے۔ یعنی صاف ہوا، شفاف پانی، سرسبز پہاڑ اور صحت مند ماحولیاتی نظام کو صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، عوامی فلاح اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

چینی سرکاری اعداد و شمار اس تبدیلی کی تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔ 2012ء کے بعد سے چین نے توانائی کی کھپت میں سالانہ اوسطاً 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ معیشت میں سالانہ اوسطاً 6.1 فیصد ترقی کو سہارا دیا، جبکہ کاربن اخراج کی شدت میں مجموعی طور پر 35 فیصد سے زیادہ کمی آئی۔ اسی عرصے میں چین نے صاف توانائی، برقی گاڑیوں، شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے شعبوں میں بھی بڑی پیش رفت کی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں قابلِ تجدید توانائی کی تنصیب شدہ صلاحیت ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی تنصیب شدہ صلاحیت کے 56 فیصد تک پہنچ گئی۔

یہ اعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چین میں ماحولیاتی تحفظ کو اقتصادی ترقی کی رفتار کم کرنے کے بجائے ترقی کے معیار کو بہتر بنانے کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شمسی پینل، ہوا سے بجلی، نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں، توانائی کی بچت کرنے والی صنعتیں اور سبز ٹیکنالوجی اب چین کی نئی صنعتی قوتوں کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس طرح ماحولیاتی پالیسی نے نئی صنعتوں، نئی ٹیکنالوجی، روزگار اور برآمدات کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

اسی سمت میں چین نے 10 اگست کو ماحولیاتی تحفظ سے متعلق پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ بھی جاری کیا۔ منصوبے کے تحت 2030ء تک قدرتی محفوظ علاقوں کا رقبہ ملک کے کل رقبے کے کم از کم 18 فیصد تک پہنچانے، ماحولیاتی معیار کا انڈیکس 86.5 تک بڑھانے، مٹی اور پانی کے تحفظ کی شرح 74 فیصد سے زیادہ کرنے اور جنگلات کا رقبہ کل رقبے کے 25.8 فیصد تک پہنچانے جیسے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں ’’پہاڑوں کی چوٹیوں سے سمندر تک‘‘ ماحولیاتی تحفظ کے جامع نظام پر بھی زور دیا گیا ہے، یعنی دریاؤں، جنگلات، گھاس کے میدانوں، جھیلوں، زمین اور سمندری ماحول کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظام کے طور پر دیکھا جائے گا۔

درحقیقت چین کی ماحولیاتی حکمت عملی کا مقصد صرف آج کے ماحول کو بہتر بنانا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ترقی کی بنیاد محفوظ رکھنا ہے۔ اسی لیے ماحولیاتی تحفظ کو قانون، منصوبہ بندی، ٹیکنالوجی، صنعت اور عوامی زندگی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ چینی حکام کے مطابق ماحولیاتی معیار میں بہتری کے ساتھ ساتھ سبز اور کم کاربن صنعتیں اقتصادی ترقی کے نئے محرکات بھی بن رہی ہیں۔

یوں 15 اگست 2026ء چین کے لیے صرف قومی یومِ ماحولیات نہیں بلکہ ایک نئے قانونی اور ترقیاتی مرحلے کی علامت بھی بنا ہے۔ ماحولیاتی ضابطہ قانون نے تحفظِ ماحول کو مضبوط قانونی بنیاد فراہم کی ہے، جبکہ ’’سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی انمول اثاثے ہیں‘‘ کا تصور ترقی اور ماحولیات کے درمیان تعلق کو ایک نئی سمت دیتا ہے۔ چین کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صاف ماحول صرف ترقی کی قیمت نہیں، بلکہ خود ترقی کا سرمایہ بھی بن سکتا ہے۔ یہی سوچ چین کی سبز منتقلی، صنعتی جدت اور اعلیٰ معیار کی پائیدار ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے