کشمیر کی خاموش چیخیں آج بھی دنیا سے سوال کر رہی ہیں، مگر افسوس کہ ہم نے آنکھیں بند کرکے خاموشی کو اپنا جواب بنا لیا ہے۔
آزاد کشمیر میں جون 2026 سے شروع ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ عوامی مطالبات، ریاستی اختیار اور کشمیر کے مستقبل کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ احتجاج کی بنیادی وجوہات میں معاشی مشکلات، بجلی اور اشیائے ضروریہ سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی تحریک کے 38 مطالبات اس احتجاج کا بنیادی محور ہیں، جو تاحال پورے نہیں کیے گئے۔
13 مئی 2024 کو ان مطالبات کے سامنے آنے کے بعد مذاکراتی ٹیم نے مظاہرین کو یقین دلایا تھا کہ ان کے مطالبات 90 دن کے اندر پورے کیے جائیں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
جس کی وجہ سے عوام کو اپنے حقوق کے لیے دھرنے دینا پڑے۔ جب آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی تو حکومت نے ان کی بات ماننے اور مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر ظلم و تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
6 جون 2026 سے اب تک کئی کشمیری اور کشمیر کے لیے آواز اٹھانے والے افراد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ کشمیر کے عوام کے مطالبات اتنے بڑے بھی نہیں تھے کہ انہیں پورا نہ کیا جاسکتا۔ تاہم حکومت نے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے کشیدگی کا راستہ اختیار کیا۔
6 اور 7 جون کی درمیانی شب راولاکوٹ میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ 7 جون کے واقعے میں سرکاری طور پر 7 شہری اور 4 قانون نافذ کرنے والے اہلکار جاں بحق ہوئے۔
14 جولائی ایک بار پھر خونریز دن ثابت ہوا۔ حکام کے مطابق 9 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ترارکھل میں 6 مظاہرین اور 2 سکیورٹی اہلکار، جبکہ راولاکوٹ کے ایک الگ واقعے میں ایک مظاہرہ کرنے والا اور ایک سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔
بعد ازاں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر تُرک نے تمام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی فوری، مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
یہی ہے کارِ حکمراں، مفاد ہی کو پیار دو
جھکے نہ سر کوئی تو پھر قیامتیں گزار دو
جو تجھ سے مانگے ہے حق، یہاں اسے لہو کی دار دو
جو بک سکے خرید لو، نہ بک سکے تو مار دو
ایک گھر کا چراغ بجھتا ہے تو صرف ایک خاندان نہیں، پوری بستی اندھیرے میں ڈوبتی ہے۔
موجودہ کشمیری حکومت بھی پاکستانی حکومت کے نقشِ قدم پر چلتی ہوئی نظر آئی، جہاں پاکستان کی حکومت نے ہر مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں سانحۂ 26 نومبر اور سانحۂ مریدکے جیسے واقعات دیکھنے کو ملے۔ وہیں کشمیر کی حکومت نے بھی کوشش کی کہ وہ Hard State کا کردار اختیار کرے، لیکن یہاں کشمیر میں لوگوں کی جنگ کسی پارٹی یا کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں بلکہ پورے کشمیر کے عوام کے حقوق کی جنگ ہے۔ شاید اسی وجہ سے کشمیر حکومت بہت جلد گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔
امن وہ نہیں جہاں آوازیں خاموش ہوں، امن وہ ہے جہاں آوازیں سنی جائیں۔
اس بحران کا پائیدار حل طاقت کے مزید استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، شفاف تحقیقات، آئینی طریقۂ کار اور عوامی اعتماد میں ہے۔ حکومت کو ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنی چاہئیں، احتجاجی قیادت کو بھی پُرامن راستہ اختیار کرنا چاہیے، اور دونوں فریقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی اختلاف کا مقصد ایک دوسرے کو شکست دینا نہیں بلکہ مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔
مضبوط ریاست وہ نہیں جو عوام کی آواز خاموش کردے؛ مضبوط ریاست وہ ہے جو اختلاف کے باوجود اپنے عوام کا اعتماد قائم رکھے۔