طلاق کے بعد تین بچوں کی کفالت کرنے والی ایک خاتون غربت، ہراسانی، وراثتی حق اور سماجی دباؤ کے درمیان کیسے زندگی گزار رہی ہے؟
ڈیرہ اسماعیل خان صبح گھر سے کام کے لیے نکلتے وقت 32 سالہ ’اے بی سی‘ اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑ کر دروازے پر تالا لگاتی ہیں تو ان کے ذہن میں صرف روزگار کا خیال نہیں ہوتا۔وہ سوچتی ہیں کہ چند گھنٹوں کے لیے بچوں سے دور رہتے ہوئے وہ محفوظ رہیں گے یا نہیں، گھر میں کوئی مسئلہ تو پیدا نہیں ہوگا اور شام کو واپس آکر وہ اپنے بچوں کو خیریت سے دیکھ سکیں گی یا نہیں۔تین بچوں کی ماں کے لیے گھر سے باہر نکلنا بچوں کے کھانے، تعلیم اور کرائے کے گھر کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش ہے۔ لیکن اسی روزگار کے ساتھ انہیں ایسے رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں وہ ہراسانی اور اپنی عزت کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔
’اے بی سی‘ کہتی ہیں کہ ”بچوں کو گھر میں چھوڑ کر نکلتی ہوں تو ڈر لگتا ہے۔ گھر کو تالا لگا کر جاتی ہوں اور راستے بھر یہی سوچتی رہتی ہوں کہ بچے محفوظ ہوں گے یا نہیں“اے بی سی کی بڑی بیٹی چھٹی جماعت میں پڑھتی ہیں جبکہ ان کے دونوں بیٹے سرکاری پرائمری اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ بچے اپنی تعلیم مکمل کریں اور وہ زندگی نہ گزاریں جس میں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر دن ایک نئی جدوجہد کرنا پڑے۔تقریباً پانچ برس قبل طلاق کے بعد اے بی سی کی زندگی بدل گئی۔ان کے مطابق کچھ عرصہ انہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ رہنے کی کوشش کی، لیکن بعد میں انہیں الگ رہائش اختیار کرنا پڑی۔ خاندان کی طرف سے انہیں دوبارہ شادی کا مشورہ بھی دیا گیا۔لیکن ان کے لیے سوال صرف اپنی زندگی کا نہیں تھا۔ تین بچوں کی ذمہ داری بھی ان کے سامنے تھی۔وہ کہتی ہیں کہ”مجھے کہا گیا کہ یا تو دوبارہ شادی کر لو یا اپنے لیے الگ گھر کا انتظام کرو۔ لیکن میرے بچے ہیں، میں انہیں کیسے چھوڑ دیتی؟ ان کا خیال کون رکھتا؟“آخرکار انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ الگ رہنے کا فیصلہ کیا۔الگ گھر کا مطلب ان کے لیے کرایہ، بجلی، پانی، خوراک، بچوں کے کپڑے اور اسکول کے اخراجات کی ذمہ داری بھی خود اٹھانا تھا۔
اے بی سی کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران وہ پانچ مرتبہ گھر اور محلہ تبدیل کر چکی ہیں۔کبھی مالک مکان کا رویہ مسئلہ بنا، کبھی محلے کے ماحول نے انہیں پریشان کیا اور کبھی انہیں اپنے اور بچوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔ہر بار گھر بدلنے کا مطلب صرف سامان دوسری جگہ منتقل کرنا نہیں تھا۔بچوں کو نئے محلے اور نئے ماحول سے مانوس کرنا، دوبارہ کرائے کا انتظام کرنا اور اپنے لیے نسبتاً محفوظ جگہ تلاش کرنا بھی اسی عمل کا حصہ تھا۔اس وقت وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں رہتی ہیں۔اے بی سی کے پاس کوئی باقاعدہ پیشہ ورانہ تعلیم یا ایسا ہنر نہیں جس کی بنیاد پر انہیں مستقل ملازمت مل سکے۔
وہ مختلف گھروں میں صفائی، برتن دھونے، کپڑے دھونے اور دوسرے گھریلو کام کرتی ہیں۔ان کے مطابق ان کاموں سے انہیں تقریباً 18 ہزار روپے ماہانہ آمدنی حاصل ہوتی ہے۔بعض اوقات جن گھروں میں وہ کام کرتی ہیں وہاں سے بچا ہوا کھانا بھی بچوں کے لیے لے آتی ہیں۔لیکن وہ اپنے کام کو اپنی کمزوری نہیں سمجھتیں۔وہ کہتی ہیں کہ”مجھے کام کرنے سے شرم نہیں آتی۔ میں اپنے بچوں کے لیے محنت کرتی ہوں۔ تکلیف تب ہوتی ہے جب لوگ میری غربت کو میری کمزوری سمجھ لیتے ہیں“اے بی سی کا کہنا ہے کہ گھروں میں کام کے دوران انہیں کئی مرتبہ نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے مطابق بعض مرد ذاتی سوالات کرتے ہیں، موبائل نمبر مانگتے ہیں یا ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ”کبھی لوگ موبائل نمبر مانگتے ہیں، کبھی ایسی بات کرتے ہیں جو ایک عورت کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔
میں خاموش رہتی ہوں کیونکہ مجھے اپنا کام بھی چاہیے“ ان کے مطابق کام کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے بھی بعض لوگ انہیں آوازیں کستے یا نامناسب جملے کہتے ہیں۔بعض دکاندار اور راہ گیر بھی ان کے بقول ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جس سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ”کبھی راستے میں کھڑے لوگ ایسے جملے کہتے ہیں کہ دل خراب ہو جاتا ہے۔ میں جواب نہیں دیتی، بس جلدی سے وہاں سے گزرنے کی کوشش کرتی ہوں“اے بی سی کے مطابق انہیں بعض خواتین کی طرف سے بھی طلاق یافتہ ہونے اور دوسروں کے گھروں میں کام کرنے پر طعنے سننے پڑتے ہیں۔ان کے لیے یہ رویے اس لیے بھی تکلیف دہ ہیں کہ وہ اپنے خاندان اور معاشرے سے کم از کم احترام کی توقع رکھتی ہیں۔پاکستان میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیےProtection Against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010موجود ہے۔2022 کی ترمیم کے بعد قانون میں ”Employee“ کی تعریف کو وسیع کیا گیا اور اس میں Domestic Workers اور Home-Based Workers سمیت مختلف غیر رسمی اور عارضی کام کرنے والے افراد کو بھی شامل کیا گیا۔
قانون میں Workplaceکی تعریف بھی وسیع کی گئی ہے اور کام سے منسلک بیرونی مقامات اور حالات کو اس کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔قانون کے تحت ہراسانی میں ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی، جنسی نوعیت کی درخواست، تعاقب یا ایسا زبانی، تحریری، بصری یا جسمانی رویہ شامل ہو سکتا ہے جو کام کے ماحول کو خوف زدہ، مخالفانہ یا توہین آمیز بنائے۔ قانون میں صنفی بنیاد پر امتیاز کو بھی ہراسانی کی تعریف میں شامل کیا گیا ہے۔قانون شکایت کی تحقیقات کے لیے Inquiry Committee اور وفاقی محتسب کے ذریعے شکایت کے نظام کی گنجائش بھی فراہم کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اے بی سی جیسی گھریلو ملازمہ بھی محض اس وجہ سے قانونی تحفظ سے باہر نہیں کہ وہ کسی دفتر میں ملازمت نہیں کرتیں۔لیکن ان کے لیے ایک سوال اب بھی موجود ہے اگر روزگار ہی ان کی واحد آمدنی ہو تو شکایت کرنے کے بعد اپنی روزی کیسے محفوظ رکھی جائے؟اے بی سی نے ہراسانی کے اپنے تمام تجربات پولیس کو رپورٹ نہیں کیے۔ان کے مطابق اس کی ایک وجہ بدنامی کا خوف ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ”پولیس کے پاس جانے سے ڈر لگتا ہے۔ لوگ کہیں گے کہ یہ عورت خود مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ پھر میرے کام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے“ان کے بقول انہیں یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ شکایت کی صورت میں خاندان یا محلے کے لوگ انہیں ہی ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔معاشی مشکلات کے درمیان اے بی سی کے لیے وراثت کا معاملہ بھی اہم ہے۔والدین کے انتقال کے بعد وہ اپنی جائیداد میں حصہ چاہتی ہیں۔ لیکن ان کے مطابق جب وہ اپنے حق کی بات کرتی ہیں تو بھائی ناراض ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ”میں جب اپنے حصے کی بات کرتی ہوں تو بھائی ناراض ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تم یہ باتیں نہ کرو۔ لیکن میں بھی اس جائیداد میں اپنا حق چاہتی ہوں“خیبر پختونخوا میں خواتین کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے Khyber Pakhtunkhwa Enforcement of Women’s Property Rights Act 2019موجود ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کے ملکیتی حقوق اور جائیداد پر قبضے کے حق کا تحفظ کرنا ہے۔قانون میں عورت کو اس کی ملکیت یا قبضے سے محروم کرنے کے خلاف تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔لیکن اے بی سی کے لیے قانونی حق جاننا اور اسے عملی طور پر حاصل کرنا دو الگ مرحلے ہیں۔طلاق کے بعد خاندان کی طرف سے دوسری شادی کا مشورہ بھی ان کی زندگی کا حصہ رہا ہے۔لیکن اے بی سی کے لیے دوسری شادی کا فیصلہ صرف ذاتی پسند کا معاملہ نہیں۔ تین بچوں کی ذمہ داری ان کے ہر فیصلے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”مجھے کہا جاتا ہے کہ دوسری شادی کر لو۔ لیکن میرے بچوں کا کیا ہوگا؟ میں ان کو کیسے چھوڑ دوں؟ میرے بچے میری ذمہ داری ہیں“اسی ذمہ داری نے انہیں اپنے بچوں کے ساتھ الگ رہنے اور خود روزگار تلاش کرنے پر مجبور کیا۔اے بی سی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سرکاری امدادی اسکیموں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن ان کے مطابق انہیں ابھی تک مطلوبہ سہولت نہیں مل سکی۔وہ بتاتی ہیں کہ بعض سرکاری دفاتر میں مناسب رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے بھی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔BISP کی جانب سے مستحق افراد کی شکایات کے ازالے کے لیے مختلف نظام موجود ہیں، جن میں تحصیل دفاتر اور شکایات سے متعلق سرکاری سہولتیں شامل ہیں۔ پروگرام نے حالیہ برسوں میں Beneficiary Complaintsکے لیے Grievance Managementنظام بھی متعارف کرایا ہے۔لیکن اے بی سی کے تجربے سے ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے اگر کوئی خاتون معاشی مدد کی تلاش میں کسی سرکاری ادارے تک پہنچے تو کیا اسے وہاں آسان، واضح اور باعزت طریقے سے رہنمائی ملتی ہے؟یہ سوال صرف اے بی سی کے لیے نہیں بلکہ ان خواتین کے لیے بھی اہم ہے جو غربت سے نکلنے کے لیے سرکاری سماجی تحفظ کے پروگراموں پر انحصار کرتی ہیں۔خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی سماجی کارکن فوزیہ کے مطابق معاشی طور پر کمزور اور گھریلو ملازمت کرنے والی خواتین اکثر ہراسانی کے واقعات کی شکایت درج نہیں کراتیں کیونکہ انہیں روزگار چھن جانے، بدنامی، سماجی دباؤ اور قانونی کارروائی کا خوف ہوتا ہے۔ان کے مطابق اسی وجہ سے ہراسانی کے رپورٹ ہونے والے کیسز اس مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔فوزیہ کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کا شکار خواتین کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں بلکہ انہیں قانونی رہنمائی ہنر کی تربیت روزگار کے بہتر مواقع اور محفوظ ماحول بھی فراہم کیا جانا چاہیے۔”اگر ایک عورت اپنے بچوں کی کفالت کے لیے کام کر رہی ہے تو اسے ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ اپنی عزت اور سلامتی کے بارے میں خوفزدہ نہ ہو۔
قانونی ماہر وکیل ہدایت اللہ کے مطابق ہراسانی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار شخص کے خلاف قانون کے تحت مختلف تادیبی کارروائیاں ممکن ہیں۔ ان کے مطابق اگر معاملہ کسی فوجداری جرم کی نوعیت اختیار کرے تو متعلقہ فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ہدایت اللہ کے مطابق خواتین کو صرف قانون کے وجود سے آگاہ کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ شکایت کہاں اور کیسے درج کرائی جا سکتی ہے اور انہیں قانونی معاونت کہاں سے مل سکتی ہے۔وراثتی حقوق کے بارے میں ہدایت اللہ کا کہنا ہے کہ خواتین کو ان کے قانونی اور شرعی حقِ وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا تاہم عملی طور پر سماجی دباؤ خاندانی اختلافات اور قانونی پیچیدگیاں کئی خواتین کے لیے اپنے حقوق حاصل کرنا مشکل بنا دیتی ہیں۔ان کے مطابق گھریلو ملازماؤں کے لیے قانونی تحفظ کو مؤثر بنانا، خواتین کو ہراسانی کے خلاف قوانین سے آگاہ کرنا، ضلعی سطح پر آسان اور محفوظ شکایتی مراکز قائم کرنا، ہنر کی تربیت اور روزگار کے مواقع بڑھانا اور وراثتی حقوق کے حصول میں مفت قانونی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔
فوزیہ کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی تحفظ کی اسکیموں تک مستحق خواتین کی آسان رسائی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ معاشی مشکلات کا شکار خواتین اپنے بچوں کی بہتر کفالت کر سکیں۔اے بی سی کے لیے گزشتہ پانچ برس صرف طلاق کے بعد زندگی دوبارہ شروع کرنے کا سفر نہیں رہے۔یہ پانچ گھروں میں منتقل ہونے بچوں کی ذمہ داری اٹھانے محدود آمدنی میں گھر چلانے کام کے دوران نامناسب رویوں سے نمٹنے اپنے وراثتی حق کے لیے آواز اٹھانے اور سرکاری مدد تک رسائی کی کوشش کا سفر بھی ہے۔وہ جانتی ہیں کہ اگلی صبح پھر کام پر جانا ہوگا۔تین یا چار تاریخ کو پھر کرایہ دینا ہوگا بچوں کے لیے کھانا خریدنا ہوگا ان کی کتابوں اور کپڑوں کا انتظام کرنا ہوگا اور کوشش کرنی ہوگی کہ ان کی تعلیم کا سلسلہ نہ رکے۔وہ کہتی ہیں کہ”کبھی کبھی بہت تھک جاتی ہوں لیکن بچوں کو دیکھتی ہوں تو دوبارہ ہمت آ جاتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے پڑھ لکھ جائیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں“ اے بی سی کہتی ہیں کہ ان کا سب سے بڑا خواب اپنا ایک چھوٹا سا گھر بنانا ہے، جہاں انہیں بار بار نقل مکانی نہ کرنی پڑے اور ان کے بچے ایک محفوظ ماحول میں بڑے ہوں اور وہ ایسا روزگار بھی چاہتی ہیں جہاں انہیں اپنی عزت کے بدلے خاموشی اختیار نہ کرنا پڑے
آخر میں وہ صرف ایک بات کہتی ہیں ”مجھے میری غربت سے نہیں، میری محنت سے پہچانا جائے“
(فرضی نام: اے بی سی)، ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ طلاق یافتہ خاتون ہیں۔