ربیع الاول کے موقع پر محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور اصلاحِ معاشرہ کا پیغام
کچھ شخصیات تاریخ کا حصہ نہیں بنتیں، بلکہ تاریخ ان کے ذکر سے روشن رہتی ہے۔ کچھ ہستیاں دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، مگر ان کے افکار، کردار اور تعلیمات نسلوں کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی ایسی ہی عظیم اور بے مثال ہستی ہیں، جن کی سیرت صرف مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز نہیں، بلکہ انسانی اخلاق، عدل، رحمت، دیانت اور معاشرتی اصلاح کا ایک کامل نمونہ ہے۔
ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی دنیا بھر کے مسلمان اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو یاد کرتے ہیں۔ مساجد اور مدارس میں سیرت کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، درود و سلام کی محافل سجتی ہیں، نعتیہ کلام پڑھا جاتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ محبت و عقیدت کے مظاہر ہیں، لیکن اس موقع پر ایک سوال ہمارے سامنے ضرور آنا چاہیے: کیا سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہماری عملی زندگی میں بھی نظر آتی ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت محض سننے، پڑھنے یا بیان کرنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا راستہ دکھانے کے لیے ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: ’’یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔‘‘(سورۂ احزاب: ۲۱)
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ربیع الاول کے موقع پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو اس محبت کا اثر ہماری نماز، اخلاق، معاملات، گفتگو، تجارت، گھر، معاشرت اور اجتماعی زندگی میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔
محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ رسول ﷺ:
محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کی ترجیحات بدل دیتا ہے۔ جس سے محبت ہو، انسان اس کی پسند کو اپنی پسند اور اس کے طریقے کو اپنا طریقہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے محبتِ الٰہی کے دعوے کو اتباعِ رسول ﷺ سے وابستہ کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘(سورۂ آلِ عمران: ۳۱)
اس آیت میں ہمارے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ محبت کا حقیقی تقاضا پیروی ہے۔ اگر ہماری زبان پر محبتِ رسول ﷺ کے دعوے ہوں، مگر ہماری زندگی جھوٹ، دھوکے، بددیانتی، ظلم، بد اخلاقی اور حقوق العباد کی پامالی سے بھری ہو تو ہمیں اپنے دعوے کا جائزہ لینا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت صرف آنکھوں کو اشک بار کرنے کا نام نہیں یہ زندگی کو بدل دینے کا نام ہے۔
سیرت کا مرکز اعلیٰ اخلاق:
رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ایک نہایت روشن پہلو آپ ﷺ کا حسنِ اخلاق تھا۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کے اخلاق کی عظمت کو یوں بیان فرمایا:
ترجمہ: ’’اور بے شک آپ ﷺ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر ہیں۔‘‘(سورۂ قلم: ۴)
آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و اخلاق کا معاملہ کیا، کمزوروں پر شفقت فرمائی، یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھا، پڑوسیوں کے حقوق کی تاکید فرمائی اور لوگوں کے ساتھ نرمی و محبت سے پیش آئے۔
آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ شاید یہی حسنِ اخلاق ہے۔ معمولی اختلاف دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے، سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی بن جاتا ہے، سوشل میڈیا پر ایک تبصرہ کئی لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دیتا ہے اور زبان دوسروں کی عزت محفوظ رکھنے کے بجائے اسے مجروح کرنے لگتی ہے۔
اگر ربیع الاول ہمیں واقعی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی طرف متوجہ کرتا ہے تو ہمیں اپنی اصلاح کا آغاز اپنے اخلاق سے کرنا ہوگا۔
گھر: سیرت کا پہلا میدان
سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک اہم پہلو خاندانی زندگی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت، شفقت اور تعاون کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔
آج بعض لوگ معاشرے میں نہایت خوش اخلاق دکھائی دیتے ہیں، مگر گھر کی چار دیواری میں ان کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ والدین سے سختی، شریکِ حیات سے بدسلوکی، بچوں سے بے جا غصہ اور گھر کے کمزور افراد کے ساتھ ناانصافی ہمارے معاشرتی مسائل میں شامل ہیں۔
یہاں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے سامنے آئینہ بن کر کھڑی ہوتی ہے اور پوچھتی ہے: جس نبی ﷺ نے گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کی تعلیم دی، ان کے امتی ہونے کے ناتے ہمارے گھروں میں وہ اخلاق کہاں ہیں؟
معاملات میں نبوی کردار:
اسلام نے عبادات کے ساتھ معاملات کی پاکیزگی پر بھی بہت زور دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تجارت، قرض، وعدے، امانت اور لین دین میں دیانت کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘(صحیح مسلم: ۱۰۱)
یہ فرمان ہمارے بازاروں، دکانوں، دفاتر اور کاروباری مراکز کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے۔ ملاوٹ، جھوٹ، کم ناپنا، عیب چھپانا، ناجائز منافع خوری، قرض واپس کرنے میں ٹال مٹول اور دوسروں کا حق دبانا ایسی چیزیں ہیں جنہیں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے آئینے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ہم ربیع الاول میں نبی کریم ﷺ کی امانت و صداقت کے واقعات سنتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہماری اپنی زندگی میں امانت اور صداقت کا معیار کیا ہے؟
زبان، قلم اور سوشل میڈیا:
آج کا انسان صرف زبان سے نہیں بلکہ موبائل فون، پیغام، تبصرے اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی گفتگو کرتا ہے۔ ایک شخص کا لکھا ہوا جملہ چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘(صحیح بخاری: ۶۰۱۸؛ صحیح مسلم: ۴۷)
یہ تعلیم آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ جو خبر ہم آگے بڑھا رہے ہیں، کیا وہ درست ہے؟ جو الزام ہم لگا رہے ہیں، کیا اس کی کوئی دلیل ہے؟ جس شخص کی کردار کشی کر رہے ہیں، کیا ہم قیامت کے دن اس کے سامنے جواب دے سکیں گے؟
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں زبان کی پاکیزگی، گفتگو کی شائستگی اور دوسروں کی عزت کا تحفظ سکھاتی ہے۔
نوجوان نسل اور سیرتِ رسول ﷺ:
آج کے نوجوان کے سامنے مواقع بھی بہت ہیں اور چیلنجز بھی۔ جدید ٹیکنالوجی نے علم کے دروازے کھول دیے ہیں، مگر اسی کے ساتھ بے مقصد تفریح، فحاشی، جھوٹی معلومات اور وقت کے ضیاع کے راستے بھی کھول دیے ہیں۔
ایسے دور میں سیرتِ رسول ﷺ نوجوانوں کے لیے ایک روشن راستہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمیں مقصد، محنت، پاکیزگی، حوصلہ، علم، نظم و ضبط اور خدمت کا سبق دیتی ہے۔
ہمیں نوجوانوں کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ’’نبی ﷺ سے محبت کرو‘‘، بلکہ یہ بھی بتانا چاہیے کہ آپ ﷺ کی محبت ہماری ترجیحات، عادات اور کردار کو کیسے بدل سکتی ہے۔
ربیع الاول: محفل سے عمل تک:
ربیع الاول کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم صرف سیرت کے واقعات سنیں اور پھر اپنی زندگی اسی طرح گزار دیں جیسے پہلے گزارتے تھے۔ اس مہینے کا اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب ہم سیرت کے کسی ایک پہلو کو اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کریں۔
کوئی شخص وعدے کی پابندی کا عہد کرے، کوئی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا، کوئی تجارت میں دیانت کا، کوئی غیبت سے بچنے کا، کوئی سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کا اور کوئی پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کا۔
اگر ربیع الاول کے بعد ہماری زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم نے سیرت سے کیا حاصل کیا؟
آج ہمیں کس سیرت کی ضرورت ہے؟
آج ہمیں ایسی سیرت کی ضرورت ہے جو ہمارے کردار میں نظر آئے۔ ہمیں وہ سیرت چاہیے جو بازار میں دیانت بن جائے، دفتر میں امانت بن جائے، عدالت میں انصاف بن جائے، گھر میں محبت بن جائے، مسجد میں خشوع بن جائے، سیاست میں اخلاق بن جائے اور سوشل میڈیا پر ذمہ داری بن جائے۔
ہمیں ایسی محبت چاہیے جو نفرت کو ختم کرے، ایسی عقیدت چاہیے جو کردار سنوارے اور ایسا درود چاہیے جس کی برکت سے ہماری زندگی سنت کے قریب ہوتی جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔‘‘(صحیح بخاری: ۳۵۵۹)
یہ حدیث ہمارے لیے معاشرتی اصلاح کا ایک جامع اصول ہے۔ اگر ہم اپنے اخلاق درست کر لیں تو گھروں کے مسائل کم ہو سکتے ہیں، رشتوں میں محبت بڑھ سکتی ہے، معاشرے میں اعتماد پیدا ہو سکتا ہے اور اختلافات کی شدت کم ہو سکتی ہے۔
سیرت کا آئینہ اور ہمارا کردار:
ربیع الاول ہمیں ہر سال ایک روشن آئینہ دکھاتا ہے۔ اس آئینے میں ایک طرف رحمتِ عالم ﷺ کی عظیم شخصیت، آپ ﷺ کا عدل، صبر، عفو، شفقت، دیانت اور حسنِ اخلاق نظر آتا ہے، جبکہ دوسری طرف ہماری اپنی زندگی کھڑی ہوتی ہے۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس آئینے میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟
محض عقیدت کا اظہار یا کردار کی اصلاح؟
محفل کی رونق یا زندگی کی تبدیلی؟
زبان کا دعویٰ یا عمل کی گواہی؟
حقیقی محبتِ رسول ﷺ یہی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اپنے گھروں میں محبت، اپنے معاملات میں دیانت، اپنی زبان میں نرمی، اپنے کاروبار میں پاکیزگی، اپنے رویوں میں انصاف اور اپنے دلوں میں امت کا درد پیدا کریں۔
ربیع الاول آئے تو صرف گلیاں روشن نہ ہوں، دل بھی روشن ہوں۔ صرف محفلیں آباد نہ ہوں، کردار بھی آباد ہوں۔ صرف زبانیں درود و سلام سے تر نہ ہوں، زندگی بھی سنت کے رنگ میں رنگ جائے۔
ہم اپنے بچوں کو سیرت کے واقعات ضرور سنائیں، مگر انہیں سیرت کا عملی سبق بھی دیں۔ انہیں بتائیں کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت صرف نعت پڑھنے تک محدود نہیں، بلکہ سچ بولنے، وعدہ نبھانے، والدین کا احترام کرنے، کمزور پر رحم کرنے، پڑوسی کا خیال رکھنے، امانت ادا کرنے اور کسی انسان کی عزت پامال نہ کرنے کا نام بھی ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کسی ایک طبقے، ایک عمر یا ایک شعبے کے لیے نہیں۔ عالم کے لیے اس میں علم کا راستہ ہے، تاجر کے لیے دیانت کا سبق ہے، حکمران کے لیے عدل کا پیغام ہے، استاد کے لیے تربیت کا نمونہ ہے، والدین کے لیے شفقت کا سبق ہے، نوجوان کے لیے پاکیزگی و مقصدیت کا راستہ ہے اور عام انسان کے لیے حسنِ معاشرت کا بہترین نمونہ ہے۔
یہی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا حقیقی پیغام ہے اور یہی وہ آئینہ ہے جس میں ہر مسلمان کو اپنے کردار کا عکس ضرور دیکھنا چاہیے۔
آئیے! اس ربیع الاول میں صرف یہ نہ کہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اپنے کردار سے اس محبت کی گواہی بھی دیں۔ اپنی نمازوں کو سنواریں، معاملات کو پاکیزہ کریں، زبان کو جھوٹ اور غیبت سے بچائیں، والدین کا احترام کریں، رشتوں کو جوڑیں، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں، مظلوم کا ساتھ دیں اور اپنی زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
اگر ہماری زندگی میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا نور اتر آئے تو ہمارے گھر بھی بدلیں گے، بازار بھی، معاشرہ بھی اور ہماری نسلوں کا مستقبل بھی۔
ربیع الاول صرف جشن کا مہینہ نہیں یہ اپنے کردار کو سیرت کے آئینے میں دیکھنے کا موقع ہے۔
اور اگر اس آئینے میں ہمیں اپنی کمزوریاں دکھائی دیں تو یہی وقت ہے کہ ہم خود کو بدلنے کا عہد کریں؛ کیونکہ محبتِ رسول ﷺ کا سب سے خوب صورت ثبوت یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب ﷺ کے طریقے کو اپنی زندگی کا راستہ بنا لے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت، حسنِ اخلاق، اخلاص اور عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری زندگیوں کو سیرتِ طیبہ کے نور سے منور فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔