ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے بھاری بھرکم ڈگریاں تھما دیتے ہیں اور نوجوان مارکیٹ میں آکر پھر سے نئی زندگی، یعنی دوبارہ لرننگ کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ حال عصری اداروں کے ساتھ دینی اداروں کا بھی ہے۔ مجھے مدارس کے سینکڑوں فضلاء کے ساتھ بیٹھ کر ان کے کیریئر ڈسکس کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت، ذہانت، اخلاص اور محنت کی کمی نہیں، کمی اگر ہے تو اپنی صلاحیت کو پہچاننے، سمت متعین کرنے اور طویل المدت منصوبہ بندی کی ہے۔
حالیہ دنوں میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مدارس و جامعات کے ساٹھ ستر، فضلاء، گلگت بلتستان میں اورینٹل ٹیچرز اور اسلامیات کے لیکچررز منتخب ہوئے ہیں۔ یقیناً یہ بہت ذہین اور محنتی فضلاء ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ یہ ڈگری ہولڈر ہیں اور محنت سے جاب بھی حاصل کر لیا، خوش آئند بات ہے۔
ایک عالم دین کا سرکاری تعلیمی ادارے میں پہنچنا محض ایک فرد کی کامیابی نہیں، بلکہ اگر وہ اپنی علمی شناخت، کردار اور دینی مزاج و منہج کو برقرار رکھتے ہوئے کام کرے تو یہ معاشرے کے لیے بھی ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
تاہم اگلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ "کیا وہ ہزاروں لوگوں کی طرح جاب حاصل کریں اور خاموشی سے سروس مکمل کرکے زندگی کے قبرستان میں دفن ہوجائیں؟” اگر ہاں تو یہ بہت افسوس ناک ہے۔ اگر نہیں تو پھر ان کا اگلا لائف پلان کیا ہے؟
میرے عزیز نوجوان فضلاء !
ایک بات ذہن میں رکھیں کہ مدارس کی آٹھ، دس سالہ زندگی میں ایک بات ذہن میں بٹھائی جاتی ہے کہ "آپ نے محنت سے تدریس کرنا ہے، یعنی درس و تدریس کے ساتھ جڑے رہنا ہے اور دین کی خدمت کرنی ہے۔” یہ تربیت اپنی جگہ نہایت قیمتی ہے۔
علم دین کا مقصد صرف روزگار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، انسانوں کی رہنمائی، اصلاح معاشرہ اور خیر کی دعوت بھی ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے، وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا، اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
اس لیے عالم کے لیے ڈگری کے بعد علم کا سفر ختم نہیں ہوتا، بلکہ حقیقت میں اس کے بعد علم کو زندگی، معاشرے اور انسانوں کے مسائل سے جوڑنے کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔
اب میرے وہ دوست جو گلگت بلتستان ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سکول و کالجز میں آچکے ہیں تو انہوں نے سکول و کالج میں تدریس کا کام کرنا ہے اور دل لگا کر کرنا ہے، اسی میں ان کی بقا ہے۔ اچھا استاد بننا معمولی کام نہیں۔ ایک استاد ایک نسل کی فکری تشکیل کرتا ہے۔
ممکن ہے آپ کی کلاس میں بیٹھا ہوا ایک طالب علم مستقبل کا بڑا عالم، مفکر ، اسکالر، ادیب، استاد، افسر، سیاست دان، محقق یا سماجی رہنما بن جائے۔ اس لیے اپنی ملازمت کو محض تنخواہ کا ذریعہ نہ سمجھیں، اسے امانت، عبادت اور نسل سازی کا موقع سمجھیں۔
مگر پھر وہی سوال کہ کیا ان کے پاس کوئی اور پلان بھی ہے؟
یہ دنیا بہت وسیع ہے، میرے دوستو!
آپ خاموشی کے ساتھ اپنا جائزہ لیجیے۔ آپ کے مسائل کیا ہیں، آپ کے وسائل کیا ہیں، آپ کا ذوق کیا ہے، آپ کی قدرتی صلاحیت کیا ہے، آپ کے اندر کونسا ٹینلٹ ہے جو ڈسکور کرنے کا وقت آیا ہے؟
آپ کس کام میں وقت کا احساس کھو دیتے ہیں، اور معاشرے کو آپ سے سب سے زیادہ فائدہ کس میدان میں پہنچ سکتا ہے؟ جاب کے علاوہ وہ کون سا کام ہے جو آپ سب سے بہتر انداز میں کرسکتے ہیں؟
کسی کو تحقیق کا شوق ہے، کسی کو تصنیف و تالیف کا، کسی کو خطابت کا، کسی کو دعوت و تبلیغ کا، کسی کو تزکیہ و تربیت کا، کسی کو میڈیا اور ابلاغ کا، کسی کو نوجوانوں کی کونسلنگ کا، کسی کو عربی زبان کا، کسی کو انگریزی کا، کسی کو اردو زبان کا، کسی کو فقہ و قانون کا، کسی کو قرآن و حدیث کا، کسی کو سیاسیات اور سماجیات کا، کسی کو کاروبار کا اور کسی کو ٹیکنالوجی کا۔
ہر عالم کا میدان صرف منبر یا کلاس روم نہیں، علم کا دائرہ بہت وسیع ہے۔
آپ اپنے اندر موجود اس اضافی صلاحیت کو تلاش کریں۔ پھر اسے محض شوق نہ رہنے دیں، اسے مہارت بنائیں،اپنا عشق بنائیں، مہارت کو پیشہ ورانہ قابلیت میں تبدیل کریں اور قابلیت کو معاشرے کی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔
میرے ڈئیر، آپ کو بہترین جاب مل گئی ہے، یہیں سے اصل کیریئر پلاننگ شروع ہوتی ہے۔
اپنے لیے ایک لائف ٹائم پلان تشکیل دیں۔ پہلے تین سال کے اہداف طے کریں، پھر اگلے دس سال کے، اور پھر بقیہ زندگی کے بڑے مقاصد متعین کریں۔
یہ بھی طے کریں کہ پانچ سال بعد آپ علمی اعتبار سے کہاں کھڑے ہونا چاہتے ہیں، دس سال بعد آپ نے کیا علمی سرمایہ جمع کرنا ہے اور پندرہ، بیس سال بعد آپ اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔
کتنی کتابیں پڑھنی ہیں؟
کتنی کتابیں لکھنی ہیں؟
کون سی ڈگری یا تخصص کرنا ہے؟
کس زبان پر عبور حاصل کرنا ہے؟
کس شعبے میں مہارت پیدا کرنی ہے؟
کتنے طلبہ کی تربیت کرنی ہے؟
کون سا ادارہ یا علمی پلیٹ فارم قائم کرنا ہے؟
اور معاشرے میں اپنی علمی شناخت کس میدان میں بنانی ہے؟
یہ سوالات ابھی سے اپنے آپ سے پوچھیں۔ تنہائی میں بیٹھ کر پوچھیں، تہجد کے وقت اٹھ کر پوچھیں ، بار بار ہوچھیں، اور استخارہ بھی کیجے تاکہ الہی مدد شامل ہو۔
آپ سے اپنا تجربہ شئیر کرتا ہوں، آپ یقین کریں، ملازمت کے ساتھ میرے پاس پلان اے بھی تھا اور بی بھی، اور جب پلان اے کو مکمل کامیابی نصیب نہیں ہوئی تو سالوں سے پلان بی پر کام کررہا ہوں، بہت تکالیف سہنی پڑیں لیکن استقامت کے ساتھ خاکوں میں رنگ بھرتا جارہا ہوں۔ اور الحمد للہ ، رنگ بھرتا جارہا ہے۔
اور ایک نہایت اہم بات آپ سے شئیر کرنی ہے، اپنی ملازمت کو اپنے خوابوں کی دشمن نہ بننے دیں۔ جاب آپ کو معاشی استحکام دے سکتی ہے، مگر آپ کی زندگی کا مکمل مقصد نہیں ہونی چاہیے۔
صبح کلاس لیں، پوری دیانت اور محنت سے تدریس کریں، شام کو اپنے علمی منصوبے پر کام کریں، رات کو مطالعہ کریں، ہفتہ وار وقت تحقیق اور تصنیف کو دیں۔ چند سال بعد آپ دیکھیں گے کہ معمولی معمولی روزانہ کی محنت ایک بڑے علمی سرمائے میں تبدیل ہوچکی ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
"إذا مات ابن آدم انقطع عمله إلا من ثلاث…” انسان کے انتقال کے بعد اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، جن میں ایک علمِ نافع ہے۔
میرے دوستو! آپ کے پاس علم ہے، وقت ہے، جوانی ہے، سرکاری ملازمت ہے، معاشرے میں عزت ہے اور ایک بڑی علمی روایت کی نسبت بھی ہے۔
پلیز! اس نسبت کا خیال رکھنا ہے، یہ بہت قیمتی ہے، اتنی قیمتی کہ اس کا اندازہ آپ کو بڑھاپے میں ہوجائے گا، اب سوال صرف یہ ہے کہ آپ ان نعمتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں؟
صرف اپنی سروس مکمل کرکے ریٹائر ہوجانا کوئی بہت بڑا کمال نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کی سروس کے ساتھ آپ کا علمی و فکری اور خدمتی سفر بھی جاری رہے اور آپ کی ریٹائرمنٹ کے وقت آپ کے پیچھے کتابیں، شاگرد، ادارے، تحقیقات، تربیت یافتہ نسل اور نفع بخش علمی کام موجود ہو۔
یاد رکھیے، ملازمت آپ کی شناخت کا ایک حصہ ہے، پوری شناخت نہیں۔ بالکل بھی نہیں۔
آپ اورینٹل ٹیچر ہیں، لیکچرر ہیں، پروفیسر ہیں، مگر اس سے پہلے آپ عالم، طالبِ علم، داعی، مربی اور معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد ہیں۔
اس لیے اپنے آپ کو صرف "سرکاری ملازم” بننے تک محدود نہ کریں، "علمی سرمایہ” بننے کا خواب بھی دیکھیں۔
اور آخر میں ایک بات دل میں بٹھا لیجیے۔
آپ کی زندگی صرف آپ کی نہیں۔
آپ پر آپ کی فیملی، آپ کے بچے، آپ کے طلبہ، آپ کے اساتذہ، آپ کے ادارے، آپ کا معاشرہ اور آپ کی مادری علمی کا حق ہے۔
آپ خاموشی سے اپنا جائزہ لیجیے، اپنی سمت متعین کیجیے، اہداف مقرر کیجیے اور آج ہی اپنے سفر کا آغاز کردیجیے۔
یقین جانیں، اگر آپ نے اپنی ملازمت کے ساتھ اپنے علم، کردار، تحقیق، تصنیف، تربیت اور خدمت کو جوڑ لیا تو ایک وقت آئے گا جب آپ پر آپ کی فیملی، آپ کے بچے اور آپ کی مادری علمی فخر کرے گی۔ جی ہاں فخر کرے گی۔ یہ وقت بہت دیر سے آتا ہے مگر آئے گا ضرور ، ان شاء اللہ!
اور شاید اس سے بھی بڑھ کر، آپ کے جانے کے بعد لوگ کہیں گے۔
"یہ شخص صرف ایک سرکاری ملازم نہیں تھا، یہ ایک علمی سفر تھا، ایک فکری روایت تھا، ایک مربی تھا، ایک مینٹور تھا، اور اس نے اپنے بعد بہت کچھ چھوڑا ہے۔”
کاش! آپ کو میری بات سمجھ آجائے، اگر آپ کو بات کلیر نہیں ہورہی ہے تو میں ہر وقت دستیاب میں، اپنے وسائل اور مسائل کی فہرست بناکر تشریف لائیں، ڈسکس کرتے ہیں، ابہامات و اشکلات کا جائزہ لیتے ہیں اور آپ کے مستقبل کا ماسٹر پلان ترتیب دیتے ہیں۔