ڈاکٹر صاحب، کھانا بعد میں کھا لیجئے گا!

کینٹین میں اپنے سامنے رکھی بریانی کی پلیٹ سے اٹھتی ہوئی خوشبو سے محظوظ ہوتے ہوئے جونیئر ہاؤس آفیسر نے ڈرتے ڈرتے نوالہ اٹھانے کی جسارت کی۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جیب میں پڑے فون نے ایسی ہلچل مچائی جیسے ہسپتال کی عمارت میں کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہو۔ دوسری طرف سے آواز آئی: "ڈاکٹر صاحب! آپ کینٹین میں بیٹھ کر روٹی توڑ رہے ہیں اور یہاں وارڈ میں مریض کی فائٹل شیٹ کون بھرے گا؟ کھانا بعد میں کھا لیجئے گا، پہلے فوراً پہنچیں!”

نوجوان ڈاکٹر نے حسرت سے نوالہ واپس پلیٹ میں رکھا، دل ہی دل میں اپنے پانچ سالہ ایم بی بی ایس کی محنت اور اس کے بدلے میں ہونے والی عزت افزائی کو یاد کیا اور بھاگتے ہوئے وارڈ کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ داستان کسی ایک جونیئر ڈاکٹر کی نہیں، بلکہ سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ‘مفت کی مزدوری’ کرنے والے ان تمام ہاؤس آفیسرز کی ہے جو صبح 8:00 بجے ڈیوٹی پر آتے ہیں اور اگلے دن دوپہر 2:00 بجے تک یعنی مسلسل 30 گھنٹے تک بغیر کسی وقفے کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

غلامی کا جدید نظام اور ‘عظیم تربیتی عمل’:

ہمارے نظامِ صحت میں جونیئر ڈاکٹرز کے ساتھ ہونے والے اس سلوک کو بڑی خوبصورتی سے "تربیتی عمل” (Training Process) کا دلکش نام دیا گیا ہے۔ جہاں پانچ سال رات دن پڑھائی کر کے آنے والے ان ہونہار بچوں سے ایکسپائری ڈیٹ چیک کرنے سے لے کر فائلیں اٹھانے تک کا تمام کام لیا جاتا ہے، اور اسے پیشہ ورانہ تربیت کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں 8 گھنٹے سے زیادہ کام کو ظلم سمجھا جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں ایک ہاؤس آفیسر کو خلائی مخلوق سمجھتے ہوئے مسلسل 30 گھنٹے بغیر سوئے کام کروا کر یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ اس کا دماغ بالکل کمپیوٹر کی طرح تیز چلے گا۔بے چارے یہ نوخیز ڈاکٹرز بھی اپنے مستقبل کے خواب سجائے بغیر کسی چوں چرا کے کام کرتے ہیں کہ کہیں ان کا ریکارڈ نہ خراب کر دیا جائے۔

ڈانٹ ڈپٹ بطور ٹانک: اگر تھکن سے نڈھال جونیئر ڈاکٹر سے کوئی معمولی سی بھول ہو جائے یا وہ دو منٹ سستانے بیٹھ جائے، تو سینئر ڈاکٹرز کی جانب سے ملنے والی "تربیتی ڈانٹ” انہیں مفت میں فراہم کی جاتی ہے تاکہ ان کی یادداشت تیز رہے۔دوسری جانب جہاں دن رات گدھے کی طرح کام لیا جاتا ہو، وہاں ان کی تنخواہ یا وظیفے (Stipend) کا ذکر کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہسپتال کی حدود میں گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کر لیا گیا ہو۔

قوانین کی دنیا اور تلخ حقیقت:

اگر ہم کتابوں اور بین الاقوامی قوانین کے دفتر کھول کر دیکھیں تو تصویر بالکل مختلف اور دلکش نظر آتی ہے، لیکن عمل درآمد کا حال وہی ہے جو ہمارے دیگر قوانین کا ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ محنت (ILO): آئی ایل او کا ‘ورکنگ ٹائم کنوینشن’ اور اوکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ (OSH) قوانین واضح کرتے ہیں کہ مناسب وقفے کے بغیر ضرورت سے زیادہ اور مسلسل کام لینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ملازمین کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ (تفصیلات کے لیے https://www.ilo.org/resource/working-time-and-working-organisation-introduction کا جائزہ لیا جا سکتا ہے)۔

عالمی ادارہ صحت (WHO): ڈبلیو ایچ او کی ریسرچ اور گائیڈ لائنز کے مطابق 12 سے 16 گھنٹے سے زائد کی مسلسل ڈیوٹی سے ‘طبی برن آؤٹ’ (Burnout) ہوتا ہے جس سے ڈاکٹرز کے فیصلے کرنے کی صلاحیت اور مریضوں کی حفاظت شدید متاثر ہوتی ہے۔ (تفصیلات کے لیے https://www.who.int/health-topics/occupational-health دیکھ سکتے ہیں)۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC): پی ایم ڈی سی کے ہاؤس جاب و تربرتی قواعد (House Job Regulations) کے تحت تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ جونیئر ڈاکٹرز کو محفوظ ماحول، طے شدہ تعلیمی تربیت اور بروقت وظیفہ (Stipend) فراہم کریں۔ (قواعد و ضوابط کے لیے https://www.facebook.com/PakMedicalCommission/posts/public-notice-compulsory-stipend-for-house-job/418422610329096/ پر معلومات دستیاب ہیں)۔

یہ تمام باتیں قوانین کی حد تک تو نہایت خوبصورت ہیں، لیکن عملی طور پر جونیئر ڈاکٹرز کا یہی سوال رہتا ہے کہ کیا اتنی محنت کر کے ڈاکٹر بننا محض ایک سزا تھی یا انسانوں کا علاج کرنے سے پہلے اپنی ہی انسان دوستی کو قربان کرنا لازمی ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے