آئینوں کے سامنے

گزشتہ کئی برس سے ہم خاصے ہرجائی ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ بات خود ہم نے بھی محسوس کی ہے اور دوست بھی ہمارے نوٹس میں یہ بات لاتے ہیں ۔ اس ہرجائی پن کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ ہم اپنا برانڈ مستقل تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں کیونکہ جس سگریٹ کو ہم ہاتھ لگاتے ہیں ، وہ مارکیٹ سے غائب ہو جاتا ہے۔ دو چار دن تک ہم” وفاداری بشرط استواری”کے اصول پر عمل کرتے ہوئے وہ سگریٹ ہر قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی اس قربانی پر خوش ہوتے ہیں جو ہم نے اپنے محبوب ( برانڈ ) کی خاطر دی، مگر پھر کچھ عرصے بعد ہمت جواب دے جاتی ہے اور ہم کسی مناسب برانڈ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں لیکن ہوتا یوں ہے کہ جونہی ہم کسی نئے برانڈ پر دست شفقت رکھتے ہیں کچھ عرصے بعد وہ بھی مارکیٹ سے غائب ہو جاتا ہے اور ہمیں مجبوراً نئے تعلقات استوار کرنے پڑ جاتے ہیں۔

ہمارے دوستوں نے ہمیں یوں برانڈ تبدیل کرتے دیکھا ہے اور وہ ہمیشہ پریشان ہوتے ہیں۔ انہوں نے کئی دفعہ ہمیں سمجھایا ہے کہ کسی ایک برانڈ پر قناعت کرو ۔ روز روز برانڈ تبدیل کرنے سے گلا خراب ہو جاتا ہے، لیکن اگر مقدر میں کھجل ہونا ہی لکھا ہو تو کیا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ہم ان کے مشوروں کی روشنی میں کسی ایک سگریٹ کے ساتھ” روابط” بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر نتیجہ پھر وہی ڈھاک کے تین پات نکلتا ہے۔ یعنی وہ سگریٹ بھی بازار سے غائب ہو جاتے ہیں۔

تاہم گزشتہ پانچ چھ برس کے مسلسل تجربے سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دوستوں کا پر خلوص مشورہ اپنی جگہ لیکن برانڈ تبدیل کرنے کے سلسلے میں ان کے بتائے ہوئے نقصانات کا اندازہ مبنی بر صداقت نہیں ہے۔ ہم نے محسوس کیا ہے کہ اس طویل عرصہ میں متعدد برانڈ تبدیل کرنے کے باوجود ہمارا گلا بالکل درست حالت میں ہے اور اگر کبھی گلے میں تھوڑی بہت خراش محسوس بھی ہوتی ہے تو ہمیں کون سا مہدی حسن کو کمپیٹ (Compete) کرنا ہے کہ اس ذرا سی خراش سے گھبرا کر "کوچہ رقیب” میں سر کے بل جائیں؟ یوں بھی لوہے کو لوہا کاٹتا ہے یعنی برانڈ اگر ڈاج دے جاتا ہے تو اس کا حل یہی ہے کہ اس کے پیچھے کھجل ہونے کے بجائے اس کا نعم البدل تلاش کر لیا جائے کہ اس تلاش کے دوران بسا اوقات زیادہ بہتر چیز ہاتھ آ جاتی ہے ، آپ کے ہاتھ میں بٹیرا بھی تو اس طرح آیا تھا ۔

اور اگر اب آپ سچی بات پوچھیں تو اپنے محبوب برانڈ کی خاطر قربانیاں دینے کی بجائے ذرا سی پریشانی کی صورت میں کوئی نیا برانڈ تلاش کرنے کی منطق ہمارے بعض سیاسی دوستوں نے ہمیں سمجھائی ہے۔ وہ ہمیں مسلسل یہ سمجھانے میں لگے رہے ہیں کہ وفاداریاں صورتحال کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں ۔ اس دنیا میں زندہ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنے مفادات کو تمام اصول وضوابط اور قدروں پر ترجیح دے۔ ان سیاسی دوستوں کا کہنا ہےکہ تم کسی ایک برانڈ کی خاطر ذلیل و خوار ہوتے رہو گے اور ” برانڈ "ہو کر رہ جاؤ گے ، اس کے برعکس تمہارا پسندیدہ برانڈ جب چاہے گا تم سے منہ پھیر لے گا اور اس کے نتیجے میں تم :

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

گنگناتے پھرو گے ۔ ہمارے ان دوستوں نے اپنی بات ماضی اور حال کے متعدد حوالو ں سے بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے اور مثالیں دے کر بتایا ہے کہ جن لوگوں نے بوقت ضرورت برانڈ تبدیل کر لیا وہ نہ صرف یہ کہ فائدے میں رہے بلکہ ان پر ہرجائی کا لیبل بھی نہیں لگا اور جنہوں نے پرانے برانڈ کے ساتھ چپکنے کی کوشش کی انہوں نے شدید تکلیفیں اُٹھائیں ۔

ہمیں اپنے دوستوں کی یہ بات دل کو لگی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ میر تقی میرؔ ہمارے گوڈے گٹوں میں بیٹھ چکے ہیں اور جب کبھی برانڈ تبدیل کرنے کی نوبت آتی ہے، وہ ہمارے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں:

اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو

آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا

ان لمحات میں ہم گھبرا کر اپنے ان سیاسی دوستوں کی طرف دیکھتے ہیں ۔ وہ جواباً آئینے میں اپنا ست رنگا چہرہ دیکھتے ہیں اور ایک آنکھ میچ کر مسکرانے لگتے ہیں۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے