نشتر ہسپتال ملتان کے ایمرجنسی گیٹ کے باہر سات سالہ فالج زدہ بچی ماہ نور کو اس کے والدین نے سڑک کنارے کپڑا بچھا کر لٹایا ہوا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق وارڈ میں بیڈ دستیاب نہ ہونے کے باعث بچی کو فوری طور پر داخل نہیں کیا جا رہا تھا، جس کے باعث وہ کئی گھنٹوں سے ہسپتال کے باہر انتظار کرنے پر مجبور تھے۔ اسی دوران اپنی اسائنمنٹ کے سلسلے میں ہسپتال آنے والے سما نیوز کے ہیلتھ رپورٹر مہر عمران کی نظر اس بچی پر پڑی۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اس معاملے کو خبر کی صورت میں رپورٹ کیا، جسے سماء نیوز پر نشر کیا گیا۔
مہر عمران کے مطابق خبر نشر ہونے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے نہ کوئی مؤثر کارروائی کی گئی اور نہ ہی مہ نور کو ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ بچی کی تشویشناک طبی حالت کے پیشِ نظر وہ اس کے والدین کے ہمراہ دوبارہ نشتر ہسپتال پہنچے تاکہ انتظامیہ، بالخصوص وائس چانسلر سے یہ مؤقف لیا جا سکے کہ اگر ہسپتال میں بیڈ دستیاب نہیں تو شدید علیل بچی کو متبادل طبی سہولت یا فوری علاج فراہم کرنے کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا، اور دورانِ انتظار اس کی حالت مزید بگڑنے کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ مہر عمران کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسی معاملے پر انتظامیہ سے جواب اور معلومات حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔ تلخ کلامی کے بعد مبینہ طور پر مہر عمران اور ان کے کیمرہ مین پر تشدد کیا گیا، موبائل فون چھین لیے گئے، جبکہ مہر عمران کو تقریباً ایک گھنٹے تک ایک کمرے میں بند رکھا گیا۔
صحافی پر تشدد کی خبر نشر ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیا۔ کمشنر ملتان نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے بچی کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انتظامیہ کی مداخلت کے بعد ماہ نور کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کر لیا گیا،
ایم ایس نشتر ہسپتال راؤ امجد کے مطابق یہ واقعہ سابقہ انتظامیہ کے دور میں پیش آیا جو قابلِ مذمت تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ہسپتال میں باقاعدہ میڈیا سیل موجود نہیں تھا، تاہم بعد ازاں میڈیا سے رابطوں کو منظم بنانے کے لیے میڈیا سیل اور میڈیا کوآرڈینیٹرز مقرر کیے گئے۔
ملتان پریس کلب کے جنرل سیکریٹری مظہر خان کے مطابق مہر عمران کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ کسی ایک ہسپتال یا ایک رپورٹر تک محدود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے کئی سرکاری ہسپتالوں میں صحافیوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی رپورٹر مریضوں کے حقوق، طبی غفلت یا انتظامی بدانتظامی پر سوال اٹھاتا ہے تو ہسپتال انتظامیہ دفاعی ہو جاتی ہے اور سیکیورٹی کے ذریعے صحافیوں کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مظہر خان کے مطابق اگر صحافیوں کو ہسپتالوں میں محفوظ اور باقاعدہ طریقے سے کام کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو صحت کے شعبے میں موجود کئی سنگین مسائل کبھی سامنے نہیں آ سکیں گے۔
اس واقعے کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے ملتان کے سینئر وکیل رانا جنید یاسین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو عوامی مفاد سے متعلق معاملات پر صحافیوں کی رپورٹنگ کو مکمل طور پر روک دے۔ تاہم ان کے مطابق مریضوں کی پرائیویسی، طبی ریکارڈ کے تحفظ اور علاج کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ہسپتال انتظامیہ بعض حدود اور ضوابط مقرر کر سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے ضوابط کا مقصد مریضوں کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ صحافیوں کو ہراساں کرنا یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا۔
صدر ایسوسی ایشن آف ینگ جرنلسٹس ملتان زینب گردیزی کے مطابق نشتر ہسپتال کی چھت پر لاوارث اور غیر شناخت شدہ لاشوں کا معاملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ بعض اوقات عوامی اہمیت کے معاملات اس وقت تک سامنے نہیں آتے جب تک ان پر مسلسل صحافتی نظر نہ رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری تحقیقات میں بھی یہ سامنے آیا کہ چھت پر موجود لاشیں غیر شناخت شدہ اور لاوارث افراد کی تھیں، جنہیں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق مخصوص کمروں میں رکھنے کے بجائے چھت پر رکھا گیا، جس پر بعد ازاں محکمانہ تحقیقات ہوئیں اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔ زینب گردیزی کے مطابق ایسے واقعات اس امر کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ صحت کے شعبے سے متعلق عوامی مفاد کے معاملات میں معلومات تک بروقت رسائی اور مسلسل صحافتی نگرانی ناگزیر ہے تاکہ انتظامی بے ضابطگیاں بروقت سامنے آ سکیں۔
نشتر ہسپتال ملتان میں پیش آنے والا یہ واقعہ جنوبی پنجاب کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں سامنے آنے والے انتظامی معاملات سے الگ نہیں۔ جولائی 2024 میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور کے کارڈیک وارڈ کی چھت سے بارش کا پانی رسنے کی ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے فوری رپورٹ طلب کی، جبکہ محکمہ صحت نے انتظامیہ سے وضاحت مانگی۔ بعد ازاں 2025 میں اسی ہسپتال کے تزئین و آرائش منصوبے میں تقریباً 11 کروڑ 60 لاکھ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی آڈٹ رپورٹ میں کی گئی، جس پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے مختلف ضلعی ہسپتالوں میں سہولیات، انتظامی نگرانی اور طبی خدمات سے متعلق شکایات پر وقتاً فوقتاً محکمانہ انکوائریاں اور سرکاری نوٹسز سامنے آتے رہے ہیں۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی پنجاب کے تدریسی اور ضلعی سرکاری ہسپتال گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد انتظامی اور پالیسی نوعیت کے معاملات پر سرکاری تحقیقات اور عوامی توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں۔