اپنی اپنی نحوست

بھکاریوں کے گھر کا لڑکا صبح بھیک مانگنے نکلا تو باپ نے کہا: ” پُتّر، تم مشرق، مغرب یا جنوب کی سمت تو جا سکتے ہو مگر شمال کی جانب مت جانا۔“ لڑکے نے وجہ پوچھی تو باپ نے کہا: ”شمال میں نحوست ہے، اس لیے اجتناب کرنا“ لڑکے نے ہنس کر جواب دیا: ”ابا، میں بھیک مانگنے جا رہا ہوں، اس سے بڑھ کر نحوست اور کیا ہوگی؟“

یہ حکایت آپ کو خواہ مخواہ سنانے کی معذرت۔ پہلے سوچا کہ اسے ملکی حالات کے ساتھ جوڑ دوں مگر پھر خیال آیا کہ ہم ایسے بھی برے حالوں میں نہیں ہیں۔ مگر یہ تو اپنا اپنا زاویۂ نگاہ ہے۔ جو سڑک پر بھیک مانگ رہا ہے وہ تو ثابت شدہ لاچار ہے مگر جس کو منافع میں سے ’نقصان‘ ہو گیا ہے وہ بھی ناخوش ہے۔ جس کی ترقی ہو گئی ہے وہ من پسند پوسٹنگ نہ ملنے پر افسردہ ہے اور جس کی ترقی ہی نہیں ہوئی وہ ہر کسی کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے۔ جو سرکاری ملازمت سے باہر ہے اس کی دعا ہے کہ بس ایک مرتبہ سرکار میں گھس جائے اور جو اندر بیٹھا ہے وہ کارپوریٹ سیکٹر کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ اپنا کاروبار کرنے والا ملٹی نیشنل والی سوٹڈ بوٹڈ نوکری چاہتا ہے اور ملٹی نیشنل والا اس ٹینشن میں ہے کہ اگر سیلز کا ٹارگٹ پورا نہ ہوا تو بونس نہیں ملے گا، اور اگر بونس نہ ملا تو وہ اپنی محبوبہ کے ناز نخرے نہیں اٹھا سکے گا۔ اور محبوبہ اس لیے زندگی سے بیزار ہے کہ اس کا سابقہ عاشق آج کل نئے ماڈل کی گاڑی میں اڑتا پھر رہا ہے حالانکہ جب وہ اُس کے ساتھ تھا تو کھانے کا بل بھی وہی ادا کیا کرتی تھی۔

اور عاشق صاحب جس لڑکی پر فریفتہ ہیں اُس نے ایک ہفتے بعد ہی اسے انسٹاگرام پر بلاک کر دیا ہے۔ ساس نئی بہو کو منحوس سمجھتی ہے کہ اُس کی وجہ سے گھر کی آمدنی گھٹ گئی اور بہو کو یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ ساس اب تک فوت کیوں نہیں ہوئی، کب تک اُس کے سینے پر مونگ دلتی رہے۔ شوہر کو یہ غصہ ہے کہ اُس کی ناکامی کی وجہ یہ ملک ہے لہٰذا یہاں سے کوچ کر جانا چاہیے بھلے اِس کیلئے ڈنکی ہی کیوں نہ لگانی پڑے۔ اور جو دوست ڈنکی لگا کر میلان میں بیٹھا ہے وہ روزانہ سنت نگر کو یاد کرکے روتا ہے۔ اور جس کو سنت نگر کی یاد نہیں آتی وہ لندن میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا ہے۔ اُس کیلئے لندن اُس شمال میں ہے جہاں جانے سے باپ نے منع کیا تھا۔ سو یہ کہ نحوست کسی ایک سمت میں نہیں رہتی، وہ ہر شخص کی جیب میں، اس کے موبائل میں، اس کے شناختی کارڈ کے ساتھ لپٹی ہوئی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ باپ کو شمال میں نحوست نظر آتی تھی، بیٹے کو اپنے کشکول میں۔ اور ہم سب کا حال یہ ہے کہ کسی کا شمال دوسرے کا جنوب ہے۔

برٹرینڈ رسل نے ”دی کانکویسٹ آف ہیپی نیس“ میں ناخوشی کی کئی وجوہات گنوائی ہیں مگر جس بات پر اس نے سب سے زیادہ زور دیا وہ حسد ہے، اور حسد کی جڑ ہے اپنے آس پاس کے لوگوں سے موازنہ۔ رسل کا کہنا تھا کہ انسان اپنی چیز کو اس کی اپنی خوبی کی وجہ سے نہیں دیکھتا بلکہ اس بات سے جوڑ کر دیکھتا ہے کہ پڑوسی کے پاس کیا ہے۔ حسد کا عجیب قاعدہ یہ ہے کہ بھکاری کروڑ پتی سے حسد نہیں کرتا، وہ اس دوسرے بھکاری سے حسد کرتا ہے جس کا کشکول شام کو اس سے زیادہ بھرا ہوا ہو۔ شیخ سعدی کی وہ حکایت بچپن میں سب نے پڑھی ہے کہ ایک شخص کے پاس جوتے نہیں تھے اور وہ اپنی قسمت کو کوستا مسجد میں داخل ہوا، وہاں اس نے ایک ایسا شخص دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے، تو اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور ننگے پاؤں صبر کر لیا۔ گوتم بدھ، سعدی سے بھی ڈیڑھ ہزار برس پہلے اس سے آگے کی بات کر گیا۔ اس نے کہا کہ دکھ کا سبب تشنگی ہے، یعنی ہر وقت کچھ اور چاہتے رہنا، اور جو ہے اس سے مطمئن نہ ہونا۔ بدھ کے نزدیک مسئلہ یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنا ہے، مسئلہ وہ رسی ہے جو آپ کو اس چیز سے باندھے رکھتی ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ سرکاری ملازم کارپوریٹ سیکٹر سے بندھا ہے، کارپوریٹ والا بونس سے، بونس محبوبہ سے، محبوبہ سابقہ عاشق کی گاڑی سے۔ یہ ایک قطار ہے جس میں ہر شخص اگلے کی کمر سے رسی باندھے کھڑا ہے اور سب کو لگتا ہے کہ آگے والا خوش ہے۔ بدھ کا کہنا تھا کہ رسی کھول دو۔ ہزاروں سال سے انسان اسی کوشش میں ہے مگر رسّی ہے کہ کھُلتی نہیں۔

فرانسیسی فلسفی ژاں پال سارتر کے ڈرامے No Exit کا ایک لائن ہے کہ ”جہنم دوسرے لوگ ہیں“ (Hell is other people)۔ مطلب یہ کہ جب ہم اپنی ذات، زندگی اور حیثیت کا تعین دوسروں کی نظر سے کرتے ہیں تو درحقیقت اپنی زندگی کو جہنم بنا لیتے ہیں۔ اسٹاربکس کی بدمزہ کافی محض اِس لیے قبول ہے کہ اس کے مَگ کی تصویر انسٹاگرام کی اسٹوری پر خوب جچتی ہے۔ اور اگر انسٹاگرام پر دو گھنٹے تک سو لائکس نہ آئیں تو وہ کافی مزید بدذائقہ لگتی ہے۔ ہم خود کو دوسروں کی نظروں کا قیدی بنا چکے ہیں۔ سارتر کے نزدیک آزادی یہ تھی کہ انسان اپنی ذات کی ذمہ داری خود اٹھائے مگر ہم نے اپنی زندگی کا اختیار شریکوں اور سوشل میڈیا کے فالوورز کے حوالے کر دیا ہے۔

توشفا کہاں ہے؟ سارتر، رسل، گوتم بدھ یا شیخ سعدی کے فلسفے میں؟ اِن سب کی باتیں ٹھیک تھیں مگر انسان انہیں درست سمجھتے بوجھتے ہوئے بھی اِس گورکھ دھندے سے نہیں نکل پاتا۔ انسان نے ہزاروں سال فلسفے کی یہ موٹی موٹی کتابیں پڑھ لیں مگر اپنے اندر کے اس بھکاری کو کنٹرول نہ کر سکا جس کا کشکول کبھی بھر ہی نہیں سکتا۔ ہم سب اس قطار میں کھڑے ہیں جہاں اگلا شخص پچھلے کو خوش نظر آتا ہے اور پچھلا اگلے کو دیکھ کر کڑھ رہا ہوتا ہے۔ آپ کا پڑوسی کل بھی آپ سے بڑی گاڑی لائے گا اور آپ کی ساس کل بھی بہو کو منحوس ہی سمجھے گی۔ دنیا یوں ہی چلتی رہے گی، خواہشوں کا پینڈولم یوں ہی جھولتا رہے گا اور رسی یوں ہی ہمارے گلے میں بندھی رہے گی۔ بہتر یہی ہے کہ بندہ چائے کا کپ اٹھائے، اس کی چُسکی لے اور اگر چائے میں چینی تھوڑی کم بھی ہو تو مسکرا کر باہر سڑک پر جاتے ہوئے کسی دوسرے ’ناخوش‘ شخص کو دیکھے اور چپ چاپ سگار کا دھواں ہوا میں اڑا دے۔ کیونکہ بقول غالب ”ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد…. عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے۔“ سو، شمال میں نحوست ہو یا جنوب میں، کیا فرق پڑتا ہے؟ کشکول تو بہرحال ہاتھ میں رہے گا!

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے