پاکستان کو وفاقی دارالحکومت، چار صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جو اس کے بڑے بڑے علاقے ہیں۔ سرکاری طور پر پاکستان کے چار صوبے اور ایک وفاقی دارالحکومت ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آزاد حکومت ہے۔ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جو پاکستان کے ساتھ منسلک ہیں؛ لیکن ابھی بھی باقاعدہ پاکستان میں شامل نہیں کیے جاتے اور ان کی آزاد حیثیت برقرار ہے، جیسے آزاد کشمیر، قبائلی علاقے اور گلگت و بلتستان، حالاں کہ یہ علاقے عملی طور پر پاکستان کے زیرِ اختیار ہیں۔ چنانچہ انہیں پاکستان کا حصہ کہا جاتا ہے۔ فاٹا پاکستان کے صوبوں کو اضلاع میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
اگست 2000ء تک صوبوں کو ڈویژن اور ڈویژن کو اضلاع میں تقسیم کیا جاتا تھا، مگر اگست 2000ء میں ڈویژن ختم کر دیے گئے اور اب صوبوں کو اضلاع میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے وقتاً فوقتاً پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا عمل لانے کا معاملہ زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ لیکن کچھ دنوں سے پاکستان کی سیاست میں پھر سے صوبوں کی تقسیم کی یہ بحث گرم ہے۔ دیکھتے ہیں اس مباحثے میں عوام کا فائدہ ہوتا ہے یا پھر سیاسی جماعتوں کا گٹھ جوڑ کامیاب ہوگا۔ پاکستان میں مزید صوبوں کی تقسیم کا مقصد بہتر انتظامی کنٹرول اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اہم تجاویز میں موجودہ چاروں صوبوں کو نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ جیسے حصوں میں تقسیم کرکے کل 12 صوبے بنانے کے خیالات شامل ہیں۔ پاکستان میں قائم صوبوں کی مزید تقسیم کے عمل پر مختلف سیاسی جماعتوں کا اس مختلف مؤقف رہا ہے، جن میں چند مشہور سیاسی جماعتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (PPP): ذوالفقار علی بھٹو اس جماعت کے بانی رہے ہیں، ان کے بعد ان کی صاحبزادی نے اس جماعت کی باگ ڈور سنبھالی۔ تین بار برسراقتدار آئے اور ابھی بھی حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کی باگ ڈور چلا رہے ہیں۔ اس جماعت کا ووٹ بینک اندرون سندھ میں طاقتور حیثیت رکھتا ہے۔ یہ جماعت جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کرتی رہی ہے، اور مختلف اوقات میں کہا ہے کہ جہاں سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہو وہاں نئے صوبے بننے چاہئیں۔ لیکن دوسری طرف یہی جماعت دیہی سندھ اور شہری سندھ یعنی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان (MQM-P): طویل عرصے سے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں، خصوصاً شہری سندھ کے لیے نئی انتظامی اکائیوں یا صوبوں کی حمایت کرتی آئی ہے، اور کراچی کو دیہی سندھ سے الگ کر کے نیا صوبہ بنائے جانے کے حق میں ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی (IPP): دو پارٹیوں کے ٹوٹنے سے وجود میں آنے والی اس نومولود پارٹی نے صوبوں کی تقسیم کو لے کر حالیہ برسوں میں سب سے واضح مؤقف اپنایا ہے۔ پارٹی کی تجویز ہے کہ موجودہ چاروں صوبوں کو مزید چھوٹے انتظامی صوبوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ گورننس بہتر ہو۔
مختلف اوقات میں حمایت کرنے والی دیگر جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہیں، جنھوں نے جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے مختلف ادوار میں حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں ان کا مؤقف حالات کے مطابق تبدیل ہوتا رہا۔
پاکستان تحریک انصاف (PTI): اپنے دورِ حکومت میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے سیکریٹریٹ بھی قائم کیا، تاہم آئینی ترمیم نہ ہونے کی وجہ سے نیا صوبہ قائم نہیں ہو سکا۔
صوبوں کی تقسیم کیوں ضروری ہے، اس پر بحث کرتے ہوئے مختلف جماعت کے لوگوں نے بہت سارے مؤقف اختیار کیے ہیں، جن میں سے کچھ ذیل میں موجود ہیں۔
بہتر انتظامی نظام (Good Governance): صوبوں کی تقسیم کے عمل سے انتظامی نظام کے عمل میں بہتری لائی جا سکے گی۔
بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث مؤثر حکمرانی: بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ ہر صوبے اور اس کی انتظامیہ کے کام کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ صوبوں کی تقسیم سے اس مسئلے کے حل کے لیے بھی بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔
دور دراز علاقوں تک سرکاری خدمات کی آسان رسائی: اس طرح سرکاری لوگوں کی عوام تک رسائی آسان ہو جائے گی اور ان کے مسائل کو سن کر حل کرنے کے اقدامات بھی ممکن ہو سکیں گے۔
ترقیاتی فنڈز کی زیادہ منصفانہ تقسیم: صوبوں کی تقسیم سے قومی فنڈز نچلی سطح کے لوگوں تک بھی پہنچ سکیں گے، کیوں کہ جب ان کے مقامی لوگ سرکاری سطح پر کام کریں گے تو سہولت کے مواقع بھی ان علاقوں کے بڑھیں گے۔
مقامی مسائل کا مقامی سطح پر تیز حل: جب مقامی لوگ سرکار میں ہوں گے تو اس علاقے اور اس میں رہنے والے لوگوں کے مسائل کی بہتر نمائندگی کرسکیں گے، جس سے نچلی سطح پر لوگوں کو فوائد حاصل ہوں گے۔
جس طرح بہت ساری سیاسی جماعتیں صوبوں کی تقسیم کے حق میں ہیں، اس طرح بہت ساری جماعتیں اور لوگ اس کے خلاف بھی ہیں۔ اور ان تمام لوگوں کے بقول صوبوں کو مزید تقسیم کر کے عوام میں لسانی تضاد اور انتشار پھیل سکتا ہے۔ انتظامی اخراجات کے عمل میں بے بہا اضافہ ہو جائے گا۔ مختلف جماعتوں کی پسندیدگی کی وجہ سے اس معاملے میں سب کا ایک بات پر متفق ہونا مشکل ہے، کیوں کہ تمام جماعتیں اپنا علیحدہ موقف رکھتی ہیں۔ بعض جماعتیں، خصوصاً سندھ میں، صوبے کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہیں اور اسے صوبائی یکجہتی کے خلاف سمجھتی ہیں، جب کہ وفاقی سطح پر پنجاب میں صوبے کی حمایت میں ہیں۔ ان کی جماعت کے دوہرے معیار نے پاکستان کے سب سے بڑے انڈسٹریل شہر کو جرائم کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔
آئینِ پاکستان کے مطابق نیا صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی ضروری ہوتی ہے۔ یہی دو تہائی اکثریت پی ٹی آئی حکومت کی نہیں مل سکی تھی، جس کے باعث نئے صوبے کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا تھا۔ ان تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے تو پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں صرف اپنے مفاد کے لیے کام کر رہی ہیں، انہیں عوام کی بھلائی اور ان کے مفاد سے کوئی بھی سروکار نہیں ہے۔اسی لیے صوبوں کی تقسیم کا عمل بے انتہا مشکل ہے، کیوں کہ نہ سیاسی جماعتیں ایک جگہ بیٹھ کر بات کریں گی اور ایک فیصلے پر متفق ہوں گی، نہ ہی پاکستان اور اس کی عوام سیاسی دنگل سے بچ سکے گی۔