جکارتہ: ( محمد نعمان خان )انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو کے علاقے کلیمانتان میں جنگلات اور زمینوں میں لگنے والی شدید آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، دھوئیں کے باعث کئی علاقوں میں فضائی معیار انتہائی خراب ہوگیا جبکہ آگ پر قابو پانے کے لیے حکومت نے بڑے پیمانے پر امدادی اور فائر فائٹنگ آپریشن شروع کردیا۔
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو ہفتے کے روز متاثرہ علاقے کلیمانتان پہنچے اور جنگلات میں لگی آگ سے نمٹنے کے لیے جاری کارروائیوں کا براہِ راست جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق صدر نے متاثرہ علاقوں میں اضافی وسائل اور افرادی قوت فراہم کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔
حکومت کی جانب سے آگ پر قابو پانے کے لیے مزید ہیلی کاپٹر، پانی گرانے والے طیارے، واٹر پمپس، فائر انجن اور پانی کے ٹینکرز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ جاوا سے مزید تین فوجی بٹالین بھی کلیمانتان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انڈونیشیا کے حکام کے مطابق رواں سال جنوری سے جولائی کے دوران ملک بھر میں دو لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جنگلات اور دیگر زمینوں میں لگنے والی آگ سے متاثر ہوچکا ہے۔ صرف جولائی میں تقریباً 95 ہزار ہیکٹر رقبہ آگ کی نذر ہوا، جو اس سال کے پہلے چھ ماہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ کلیمانتان میں جنگلات کی آگ کے باعث کئی علاقوں میں دھوئیں کی دبیز تہہ چھا گئی ہے اور بعض مقامات پر حدِ نگاہ انتہائی کم ہوگئی ہے۔ دھوئیں کے اثرات پڑوسی ملک ملائیشیا کے بورنیو کے علاقے ساراواک تک بھی پہنچ رہے ہیں، جہاں بعض علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق کلیمانتان میں آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر خطے کو ترجیحی بنیادوں پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ رواں ہفتے ملک میں تقریباً 1,250 ہاٹ اسپاٹس ریکارڈ کیے گئے، جن میں 900 سے زائد کلیمانتان میں موجود تھے۔ متاثرہ علاقوں میں آگ بجھانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پانی گرانے اور مصنوعی بارش کی کوششیں بھی جاری ہیں۔