جشنِ آمدِ رسولﷺ

کائنات کی تاریخ میں یوں تو روز و شب بدلتے ہی رہتے ہیں، لیکن بارہ ربیع الاول کا دن وہ مبارک اور بے مثل دن ہے جس نے انسانیت کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ یہ وہ تروتازہ صبح ہے جب ظلمت، جہالت، کفر اور ناانصافی کے اندھیرے چھٹ گئے اور مکہ کی وادی سے ابھرنے والے ہدایت کے نور نے پوری دنیا کو منور کر دیا۔

حضورِ اکرم محمد مصطفیﷺ کی تشریف آوری کائنات کا سب سے بڑا احسان اور عظیم ترین معجزہ ہے۔ آپﷺ کی آمد صرف کسی ایک قبیلے، ملک یا خاص دور کے لیے نہیں تھی، بلکہ ربِ کائنات نے خود قرآنِ پاک میں گواہی دی کہ آپﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔

آج کے اس پرآشوب دور میں، جب انسان مادی ترقی کی دوڑ میں اندھا ہو کر سکونِ قلب سے محروم ہو چکا ہے، ذکرِ مصطفیﷺ اور آپﷺ کی ذاتِ گرامی سے سچی محبت ہی ہماری روح کی بقا اور نجات کا واحد راستہ ہے۔

جب ہم محبتِ رسولﷺ کی بات کرتے ہیں، تو یہ کوئی عام یا سطحی جذبہ نہیں ہے۔ یہ وہ مٹھاس ہے جو انسان کے ایمان کو مکمل کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ صحابہ کرام نے آپﷺ کی محبت میں اپنے گھر بار، مال و دولت اور جانیں تک قربان کر دیں۔

ہمارے لیے سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا ہماری محبت صرف زبانی دعوؤں، سال میں ایک بار گلیوں کو سجانے اور نعروں تک محدود ہے؟ سچی محبت کا پہلا تقاضا اطاعت اور اتباع ہے۔ محبت ایک ایسا زندہ اور بیدار احساس ہے جو انسان کے دل، دماغ اور عمل کے دھارے کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔

جب کسی انسان کے دل میں نبی کریمﷺ کی سچی محبت جڑ پکڑتی ہے، تو اس کا اٹھنا بیٹھنا، اس کا بولنا، اس کا کاروبار، اس کی سوچ اور اس کی خلوت و جلوت سب کچھ اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔

آپﷺ کا اخلاقِ حسنہ وہ بلند مینار ہے جس کی مثال کائنات پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپﷺ نے اپنے جانی دشمنوں کو جنہوں نے آپﷺ پر پتھر برسائے اور راستوں میں کانٹے بچھائے، فتحِ مکہ کے دن معاف فرما دیا۔

آپﷺ نے یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھا، بیواؤں اور غریبوں کی داد رسی کی، اور جانوروں پر حد سے زیادہ بوجھ لادنے سے بھی منع فرما کر ان کے حقوق کا تعین کیا۔

جشنِ آمدِ رسولﷺ منانے کا سب سے خوبصورت اور اصل طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنے اندر وہی اخلاقی تبدیلیاں لے کر آئیں۔ اگر ہم اپنے پڑوسیوں کو تنگ کرتے ہیں، اگر ہم بازاروں میں ملاوٹ اور جھوٹ کا سہارا لے کر کاروبار کرتے ہیں، اور اگر ہم اپنے کمزوروں کے حقوق پامال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے دعویٔ محبت کے سچے ہونے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

آج کل ربیع الاول کے مہینے میں ہم اپنے گھروں، گلیوں، بازاروں اور مسجدوں کو رنگ برنگی لائٹوں، جھنڈیوں اور خوبصورت برقی قمقموں سے سجاتے ہیں۔ یہ خوشی کا اظہار یقیناً جائز اور قابلِ تحسین ہے، کیونکہ جس کے آنے سے کائنات کو روشنی ملی، اس کی آمد پر خوشی کیوں نہ منائی جائے۔

لیکن اس ظاہری روشنی کے ساتھ ساتھ کیا ہم نے اپنے دلوں کے اندر جھانک کر دیکھا ہے؟ کیا ہمارے دل حسد، بغض، کینہ، نفرت اور غیبت کے اندھیروں سے پاک ہوئے ہیں؟

رسولِ پاکﷺ کی آمد کا مقصد ہی انسان کو انسانیت کا احترام سکھانا اور معاشرے کو امن، انصاف اور بھائی چارے کا گہوارہ بنانا تھا۔ چراغاں کرنے کا اصل حق تب ادا ہوگا جب ہم اپنے کردار کے چراغ روشن کریں گے اور اپنے عمل سے اسلام کی سچائی کو ثابت کریں گے۔

نبی کریمﷺ سے محبت کا ایک بہت بڑا اور اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم آپﷺ کی امت کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔

خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر، جو انسانی حقوق کا پہلا اور سب سے بڑا منشور ہے، آپﷺ نے واضح الفاظ میں فرما دیا تھا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، فضیلت کا واحد معیار صرف تقویٰ اور اچھا اخلاق ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہم رنگ، نسل، زبان، صوبوں اور فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں۔ یہ سب ہمارے پیارے نبیﷺ کی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔

جشنِ میلاد کے اس مبارک اور سعید موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نفرتوں کی تمام دیواریں گرا کر محبت اور امن کے پل تعمیر کریں گے اور اس بکھری ہوئی امت کو دوبارہ ایک لڑی میں پروئیں گے۔

موجودہ دور کے پیچیدہ مسائل، جیسے معاشی بدحالی، اخلاقی پستی اور سماجی ناانصافی، کا حل کسی مغربی نظریے میں نہیں بلکہ صرف اور صرف مدینہ کی ریاست کے اصولوں میں پنہاں ہے۔

آپﷺ نے محنت کش کو خدا کا دوست قرار دے کر رزقِ حلال کی اہمیت واضح کی اور امیروں پر زکوٰۃ فرض کر کے غریبوں کی کفالت کا نظام قائم کیا۔ اگر آج ہم ان اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں نافذ کر لیں، تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضورﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت ہمارے ایمان کی روح اور اساس ہے۔ جس دل میں آپﷺ کی محبت کی شمع فروزاں نہیں، وہ دل ایمان کی حلاوت سے بالکل محروم ہے۔

لیکن اس محبت کا سب سے سچا، ٹھوس اور پائیدار ثبوت یہ ہے کہ ہم آپﷺ کے لائے ہوئے دینِ مبین پر مضبوطی سے قائم ہو جائیں۔ ہم پانچ وقت کی نماز کی پابندی کریں، امانت و دیانت کو اپنا شعار بنائیں، رزقِ حلال کمائیں اور مخلوقِ خدا کے ساتھ نرمی اور بھلائی کا معاملہ کریں۔

جشنِ آمدِ رسولﷺ کے موقع پر اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ اپنے باطن اور کردار کو بھی مصطفوی تعلیمات کے نور سے روشن کریں، اور دنیا کے سامنے اسلام کا وہ سچا، پرامن اور خوبصورت چہرہ پیش کریں جو ہمارے آقا و مولیٰﷺ کی اصل اور حقیقی تعلیم ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے