ہمارے والد صاحب اسٹیٹ بنک آف پاکستان میں ملازمت کرتے تھے۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ تو ان کا آج بھی جاری ہے۔ شعر بھی کہتے,افسانے بھی خوب لکھے اور پھر 2014 میں ان کا افسانوں کا مجموعہ شکست مسیحا کے نام سے شائع ہوا۔
والد صاحب کا ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے تعلق رہا۔ وہ کسی زمانے میں وہاں پر خبریں پڑھتے, صداکاری کرتے ,فیچر اور ڈرامے بھی لکھا کرتے تھے ۔بعد ازاں مصروفیت کی وجہ سے ریڈیو سے ان کا سلسلہ منقطع ہوگیا ۔
جب میں نے اپنی تعلیم مکمل کرلی تو میں والد صاحب کے ساتھ ریڈیو پاکستان حیدرآباد جانے لگا۔ والد صاحب ملازمت سے گولڈ ہینڈ شیک لے چکے تھے۔ اسی لیے ہم دونوں ہفتے میں ایک دو بار ریڈیو اسٹیشن کا چکر لگا لیتے۔ ایک دن والد صاحب کو ریڈیو پر افسانہ ریکارڈ کروانا تھا۔ میں بھی والد صاحب کے ریڈیو اسٹیشن چلا گیا۔ وہاں میں نے پہلی مرتبہ ایک صاحب کو دیکھا جو پروڈیوسر تھے۔ والد صاحب نے میرا تعارف ان سے کروایا ان کا نام محمد حسین تھا مگر لوگ انہیں حفظ کرنے کی وجہ سے قاری صاحب کہا کرتے تھے۔
قاری صاحب صحت مند جسم کے ملک تھے۔ انکی سیاہ گھنی کالی داڑھی تھی۔ وہ شلوار قمیص پہنے ہوئے تھے۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ قاری صاحب نے والد صاحب کا افسانہ ریکارڈ کروایا۔ میں ریڈیو اسٹیشن کے ماحول سے پہلے ہی بہت متاثر تھا۔ کیوں کہ میرے اندر ایک فنکار شروع سے ہی موجود تھا۔
قاری صاحب ایک مرتبہ مجھ سے کہنے لگے کہ آپ اکیلے ریڈیو آئیں۔ اسی دوران ایک تقریب میں جو موسیقی کے حوالے سے منعقد ہوئی تھی وہاں بھی ان سے ملاقات ہوگئی اور ان کے کہنے پرایک دن میں قاری صاحب سے ملنے ان کے پاس ریڈیو اسٹیشن جا پہنچا۔انہوں نے چائے پلائی اور ہماری بات چیت ہوئی۔
اس دوران میں نے ایک جگہ ملازمت بھی کرلی تھی مگر میرا دل وہاں نہیں لگ رہا تھا۔ ایک دن قاری صاحب نے مجھے ریڈیو پر بلایا ۔جب میں اسٹیشن پہنچا تو قاری صاحب کہنے لگے کہ "میں آپ کو ایک بڑا پروگرام "مجلہ”دے رہا ہوں جس کی میزبانی اور اداریہ آپ کو تحریر کرنا ہوگا یہ ادبی پروگرام ہے اس سے پہلے ریڈیو پاکستان حیدرآباد کی بڑی بڑی ہستیوں نے جن میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان صاحب محمود صدیقی صاحب اور دیگر لوگ کرچکے ہیں”
یہ پروگرام میرے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ میں نے پہلی مرتبہ پروگرام کا کنٹریکٹ سائن کیا۔ ریڈیو پاکستان ایسا ادارہ ہے جو آپ کو سکھاتا بھی ہے اور ساتھ میں پیسے بھی دیتا ہے۔ گھر آکر میں نے والد صاحب کو بتایا اور ہم دونوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
مجھے نوکری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جس وقت میں ریڈیو پر کانٹیکٹ سائن کر رہا تھا۔ ہمارے باس نے مجھے کئی فون کیے مگر میں فون گھر پر ہی چھوڑ آیا تھا۔ جو بعد میں دیکھا تو معلوم ہوا۔ میرا دل تو ریڈیو پروگرام میں اٹک چکا تھا۔ قاری صاحب کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھول سکتا ہوں کہ انھوں نے مجھے اتنا بڑا پروگرام دیا جو زندگی بھر میری شناخت بنا رہے گا۔مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ادبی پروگرام مجلہ میں نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد اسٹیشن سے پندرہ سال تک مسلسل کیا ہے۔
قاری صاحب گھومنے پھرنے والے آدمی ہیں ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے۔ان کا مزاج نرم بھی ہے مگر کبھی کبھی میں نے ان کو غصے میں بھی دیکھا مگر قاری صاحب نے مجھے کبھی ڈانٹا۔ نہیں دراصل وہ میرے مزاج کو سمجھتے تھے اور اگر وہ مجھے ایک دو مرتبہ بھی ڈانٹ دیتے تو ممکن ہے میں پروگرام چھوڑ دیتا۔
چند مہینے بعد قاری صاحب کا ٹرانسفر مٹھی میں ہوگیا مگر میں ان سے رابطے میں رہا اور وہ دوسرے اسٹیشن میں ہوتے ہوئے بھی میرا خیال رکھتے۔اور دوسرے پروڈیوسر سے میری سفارش کرتے۔
وقت گزرتا رہا اس دوران قاری صاحب کہتے رہے کہ آپ سرکاری نوکری کی کوشش کریں وہ اس حوالے سے فکر مندرہتےتھے مگر شاید کچھ چیزیں آدمی کی قسمت میں نہیں ہوتی ہیں پھر وہ وقت بھی آیا کہ میں کراچی چلا گیا پروگرام مجلہ جو ہر پندرہ دن بعد ہوتا تھا مجھے اس کو خیرباد کہنا پڑا مگر قاری صاحب سے رابطہ برقرار رہا۔
پھر بھائی کی نوکری حیدرآباد میں ہوگئی اور ہمیں دوبارہ حیدرآباد آنا پڑا میں نے پھر قاری صاحب سے بات کی اور ایک بار پھر پروگرام مجلہ مجھے مل گیا۔ حیدرآباد واپس آکر بھی پریشانیاں برقرار رہیں۔ میں قاری صاحب کو فون کرتا اور ہم کسی ہوٹل میں بیٹھ کر باتیں کرتے اور قاری صاحب اپنے قیمتی مشوروں سے مجھے نوازتے۔
میرے ایک فون کرنے پر وہ پروگرام مینیجر کی سیٹ سے اٹھ کر ہوٹل میں پہنچ جاتے اور میرے مسئلے سنتے اور ان کا حل بھی بتاتے جبکہ میں ان دنوں بیروزگار بھی تھا۔
ریڈیو کے علاوہ زندگی کے کچھ بڑے مسائل کا حل بھی قاری صاحب کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔قاری صاحب اور میرا رشتہ استاد شاگردی سے ترقی کرتے ہوئے بڑے بھائی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
زندگی میں کٹھا میٹھا سب چلتا رہتا ہے۔ کبھی ہم کسی سے اور کبھی کوئی ہم سے ناراض ہوجاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آدمی گلہ بھی اسی سے کرتا ہے جس کو وہ اپنا سمجھتا ہے۔ معروف شاعر اور براڈکاسٹر محمود صدیقی صاحب کے انتقال پر قاری صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔
قاری صاحب سے ایک سال تک کوئی رابطہ نہیں ہوا ان کے میسج آتے رہے۔میں جواب دیتا رہا پھر ان کے میسج آنا بند ہوگئے اور میں سمجھا کہ وہ ناراض ہوگئے ہیں مگر پچھلے ہفتے ان کا میسج آیا اور میں نے ان سے ملاقات کرنا چاہی ریڈیو میں کچھ ناپسندیدہ لوگوں کی وجہ سے ایک ہوٹل میں ہماری ملاقات ہوئی۔ہم ایکدوسرے سے گلے ملے اگر کوئی بات دونوں کے دل میں تھی تو وہ دور ہوگئی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے مفید مشوروں سے نوازا ہم نے ساتھ میں چائے پی۔
میرے کہنے پر وہ اس مرتبہ بھی پروگرام مینیجر کی سیٹ سے اٹھ کر پیدل چل کر ایک ہوٹل میں آئے۔ یہ ان کا بڑا پن ہے۔ میری زندگی میں جو چند ایسے لوگ ہیں جو مجھے سمجھتے ہیں یا مجھے چاہتے ہیں۔ ان میں سے ایک قاری صاحب ہیں۔ آپ بھی اگر کسی اپنے سے ناراض ہیں یا کوئی بات دل میں ہے تو اس سے فوراً جاکر ملیے اس سے پہلے کہ کہیں دیر نہ ہو جائے یقیناً آپ کی زندگی میں بھی کوئی قاری صاحب جیسا ہمدرد ضرور ہوگا۔