کچھ خواہشیں دل میں برسوں خاموشی سے پلتی رہتی ہیں اور انسان اسی مناسب وقت کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ میرے دل میں بھی ایک عرصے سے یہ خواہش تھی کہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہو جہاں قلم، صحافت، ادب اور میری تخلیقی و فکری کاوشوں کو اپنی جگہ مل سکے۔ یہ خواہش کب ایک خواب بن گئی، شاید مجھے خود بھی معلوم نہیں ہوا۔ 2019 میں جب میں ماس کمیونیکیشن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کر رہی تھی، اُس وقت دفتر میں بیٹھ کر مختلف نیوز ویب سائٹس کا مطالعہ کرتے ہوئے اکثر دل میں خیال آتا کہ کاش ایک دن میری بھی اپنی ویب سائٹ ہو، کاش میں بھی کسی نیوز ویب سائٹ کی ایڈیٹر، رپورٹر، کالم نگار اور پروگرام میزبان بن سکوں۔ پھر یہی سوچتی کہ نہ جانے یہ خواہش کبھی پوری ہوگی بھی یا نہیں اور اگر ہوگی تو کیسے؟
اُس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس خواب کی تعبیر کا راستہ کہاں سے کھلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ راستہ نوے ژوند ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم اسلام آباد کے ذریعے کھولا۔ اس تنظیم سے وابستگی نے میرے عملی سفر کو ایک نئی سمت دی۔ مجھے بطور پریس سیکریٹری تنظیم میں منتخب کیا گیا اور اس کی سرپرستی میں مختلف پروگراموں، ورکشاپس اور تربیتی سرگرمیوں میں شرکت کے ذریعے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ تنظیم کے اعلیٰ اراکین نے ایڈیٹنگ، رپورٹنگ اور پروگرام ہوسٹنگ کی تربیت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے اور مسلسل یہ حوصلہ دیا کہ جہاں سیکھنے کا موقع ملے، اسے ہاتھ سے نہ جانے دو۔
میں نے صحافت کی تعلیم تو حاصل کی، مگر عملی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے جس رہنمائی اور تجربے کی ضرورت تھی، وہ میرے پاس نہیں تھا۔ تنظیم کے ساتھیوں کے اعتماد اور رہنمائی نے اس کمی کو پورا کرنے میں میری مدد کی۔ آہستہ آہستہ مجھے اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو سمجھنے، انہیں نکھارنے اور عملی میدان میں استعمال کرنے کا موقع ملا۔ یوں وہ خواہش، جو کبھی صرف دل میں ایک خیال کی صورت میں موجود تھی، میرے سفر کا حصہ بنتی چلی گئی۔
عزیز قارئین! نوے ژوند کی خدمات کا دائرہ صرف ادب، صحافت اور ثقافت تک محدود نہیں۔ اس تنظیم نے ہمیشہ لوگوں کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے اور ان کے مسائل میں ساتھ دینے کی کوشش کی ہے۔ اہلِ قلم، لکھاریوں، مصوروں، آرٹسٹوں اور مصنفین کی حوصلہ افزائی سے لے کر ان افراد کے تعاون تک، جو اپنی کتاب شائع کرنے یا تقریبِ رونمائی کا انتظام کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، تنظیم نے اپنی بساط کے مطابق اپنا کردار ادا کیا ہے۔ باصلاحیت گلوکاروں اور دیگر فنکاروں کو بھی اپنی صلاحیتیں سامنے لانے کے مواقع فراہم کیے گئے تاکہ ان کی آواز اور فن ایک محدود دائرے تک نہ رہ جائے۔
اسی طرح سماجی خدمت بھی تنظیم کی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔ کسی بچے کی تعلیم کا مسئلہ ہو، کسی خاتون کو جہیز کے سلسلے میں مدد درکار ہو، کوئی بے سہارا یا مجبور شخص مشکل میں ہو، یا کوئی بیمار علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہو، تنظیم حتیٰ الامکان ایسے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ مدد لوگوں کی عزتِ نفس کو مقدم رکھتے ہوئے پُرامن، باوقار اور خوبصورت انداز میں کی جاتی ہے۔
امن کا فروغ بھی اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ معاشرے میں امن و امان، برداشت اور مثبت سوچ کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا اس کے اہم مشن کا حصہ ہے۔ یہی سوچ نوے ژوند کی سرگرمیوں کو محض تقریبات تک محدود نہیں رہنے دیتی بلکہ انہیں ایک وسیع سماجی مقصد سے جوڑتی ہے۔
خیر، بات کہاں سے کہاں تک چلی گئی۔ اسی سفر کے دوران ایک دن میٹنگ میں میں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے نوے ژوند کی اپنی ویب سائٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جب یہ تجویز تنظیم کے سامنے رکھی گئی تو تمام اراکین نے اسے خوش دلی سے قبول کیا اور مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ تنظیم کا اپنا باقاعدہ ویب پلیٹ فارم قائم کیا جائے۔ یوں ایک ذاتی خواہش اجتماعی فیصلے اور ایک نئے سفر کی بنیاد بن گئی۔
الحمدللہ، آج وہی خواب حقیقت بننے جا رہا ہے۔ نوے ژوند ادبی، ثقافتی، صحافتی اور فلاحی تنظیم اسلام آباد کی جانب سے ان شاء اللہ بہت جلد اپنی ویب سائٹ لانچ کی جا رہی ہے، اور میرے لیے یہ باعثِ خوشی اور اعزاز ہے کہ تنظیم نے مجھے اس پلیٹ فارم کی ادارتی ذمہ داری کے لیے منتخب کیا ہے۔
یہ ویب سائٹ اردو، پشتو اور English تینوں زبانوں میں پاکستان کے ہر خطے سے اہم خبریں، ملکی و قومی معاملات، دنیا کے کونے کونے سے تازہ بین الاقوامی خبریں، ادب، صحافت، کالم، شاعری، ثقافتی سرگرمیوں اور سماجی و فلاحی کاموں کے ساتھ مفید معلومات قارئین تک پہنچانے کا ایک جامع پلیٹ فارم ہوگی۔
میرے لیے یہ ایک ویب سائٹ کا آغاز ہے بلکہ اُس خواب کی تکمیل بھی ہے جو برسوں پہلے دل میں خاموشی سے جگہ بنا چکا تھا۔ اس سفر میں رہنمائی اور حوصلہ دینے والے تنظیم کے تمام اراکین کی میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں، بالخصوص چیئرمین نسیم مندوخیل، وائس چیئرمین راج خان مروت، فائنانس سیکریٹری نور نائب خٹک اور تمام عہدیداران کی، جنہوں نے میری صلاحیتوں پر اعتماد کیا اور مجھے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔
یہ پلیٹ فارم نہ تنظیم کی سرگرمیوں تک محدود ہوگا بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہر اُس شخص کے لیے بھی ایک جگہ بنے جو اپنی بات ذمہ داری اور مثبت انداز میں دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی حقیقت پر مبنی یا معیاری تحریر، خبر، رپورٹ، ویڈیو، شاعری، کہانی یا کوئی ایسا تخلیقی کام ہے جسے آپ قارئین تک پہنچانا چاہتے ہیں تو اسے ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ ممکن ہے آپ کی ایک تحریر کسی دوسرے کے لیے سوچ کا نیا دروازہ کھول دے، کسی مسئلے کو اجاگر کر دے یا کسی خاموش آواز کو لوگوں تک پہنچا دے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نئے سفر کو کامیاب کرے اور یہ پلیٹ فارم علم، خبر، ادب، ثقافت، امن اور مثبت سوچ کے فروغ کا ذریعہ بنے۔ آمین۔