مصنوعی ذہانت اور انسانی ترقی: دنیا ایک نئے موڑ پر

مصنوعی ذہانت اب محض سائنس دانوں اور ٹیکنالوجیز کی کمپنیوں کی بحث نہیں رہی۔ یہ ہماری روزمرہ زندگی، تعلیم، صحت، روزگار، تجارت، ثقافت اور حتیٰ کہ انسانوں کے باہمی تعلقات کو بھی تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا میں یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کتنی طاقتور ہو سکتی ہے، اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس طاقت کو انسانوں کی بہتری کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے۔

اسی بنیادی سوال کے گرد اقوام متحدہ نے 2026 میں ’’مصنوعی ذہانت اور انسانی ترقی‘‘ کے عنوان سے عالمی مکالموں کا سلسلہ شروع کیا۔ پہلا اجلاس جون میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقد ہوا، جبکہ دوسرا 23 اور 24 جولائی کو میکسیکو سٹی میں ہوا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس سلسلے کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی تہذیب، پائیدار ترقی، سماجی تعلقات، ثقافتی اظہار، تعلیم اور انسانی بہبود کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔

پھر اگست میں چین کے شہر شی آن میں ہونے والے تیسرے مکالمے نے اس عالمی سلسلے کو ایک نئے جغرافیائی اور تہذیبی تناظر میں آگے بڑھا یا ہے ۔ شی آن کا انتخاب بھی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ قدیم شاہراہِ ریشم کا اہم مرکز رہا ہے اور آج ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی مختلف تہذیبوں اور ملکوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم مقام بن رہا ہے۔ سال 2026 کے جولائی میں یہاں عالمی انٹرنیٹ کانفرنس کے ڈیجیٹل سلک روڈ ڈویلپمنٹ فورم میں بھی مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل صحت، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ڈیجیٹل تجارت جیسے موضوعات زیر بحث آئے ۔اس مکالمے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں۔ یہ اس سوال سے جڑے ہیں کہ مستقبل میں انسان کام کیسے کرے گا، بچے کیسے تعلیم حاصل کریں گے، ڈاکٹر بیماریوں کی تشخیص کیسے کریں گے، حکومتیں فیصلے کیسے کریں گی اور معاشرے اپنی ثقافتی شناخت کو کس طرح محفوظ رکھیں گے۔

مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کی صلاحیتوں کو بڑھا سکتی ہے۔ صحت کے شعبے میں یہ بڑی مقدار میں طبی معلومات کا تجزیہ، بیماریوں کی ابتدائی شناخت اور تحقیق کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ تعلیم میں مصنوعی ذہانت ہر طالب علم کی ضرورت کے مطابق تعلیمی مواد فراہم کرنے، زبانوں کے درمیان ترجمہ کرنے اور ان علاقوں تک تعلیمی وسائل پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے جہاں اساتذہ اور تعلیمی سہولتوں کی کمی ہے۔

اقتصادی میدان میں بھی اس کے امکانات وسیع ہیں۔ مصنوعی ذہانت معمول کے بہت سے کام خود انجام دے کر انسان کو زیادہ تخلیقی اور پیچیدہ کاموں کے لیے وقت فراہم کر سکتی ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تجزیے کے مطابق جنریٹو اے آئی کے معاملے میں ملازمتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے بہت سے کاموں کو تبدیل یا انسانی کارکنوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کا امکان زیادہ ہے۔

اسی طرح او ای سی ڈی کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت پیداواری صلاحیت بڑھانے، اقتصادی ترقی کو تحریک دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس کے لیے کارکنوں کو بدلتی ہوئی مہارتوں کے مطابق تیار کرنا ضروری ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف ’’ملازمتیں ختم کرنے والی ٹیکنالوجی‘‘ سمجھنا درست نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ معاشرے اپنے لوگوں کو اس نئی معیشت کے لیے کس حد تک تیار کرتے ہیں۔مصنوعی ذہانت کے فوائد کے ساتھ اس کے خطرات بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والے اور اس سے محروم رہ جانے والے معاشروں کے درمیان فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے پاس بڑے ڈیٹا سینٹرز، جدید کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ماہرین اور سرمایہ موجود ہے، جبکہ کئی ترقی پذیر ممالک ابھی بنیادی ڈیجیٹل سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے بھی اس خطرے کو مصنوعی ذہانت کی خلیج کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جولائی میں پہلے عالمی مکالمے برائے اے آئی گورننس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل خلیج کو مصنوعی ذہانت کی خلیج اور پھر ترقی، سلامتی اور خودمختاری کی خلیج میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

دوسرا بڑا مسئلہ روزگار اور مہارتوں کا ہے۔ کچھ کام واقعی خودکار ہو سکتے ہیں، جبکہ کئی پیشوں کی نوعیت بدل جائے گی۔ اس لیے دنیا کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ’’اے آئی کیا کر سکتی ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ’’اے آئی کے دور میں انسان کو کیا سیکھنے کی ضرورت ہے؟‘‘

تیسرا مسئلہ غلط معلومات، جعلی مواد، تعصب، رازداری اور انسانی حقوق کا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کو ناقص یا متعصبانہ ڈیٹا سے تربیت دی جائے تو اس کے فیصلوں میں بھی تعصب پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے یونیسکو نے اے آئی کی اخلاقیات کے لیے انسانی نگرانی، شفافیت، جواب دہی، ڈیٹا کے تحفظ اور انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے۔

ان چیلنجز کے جواب میں دنیا بھر میں مختلف سطحوں پر کام ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ عالمی ’’مکالمہ برائے مصنوعی ذہانت کی حکمرانی‘‘ کا انعقاد کیا، جس میں حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ اس مکالمے میں محفوظ اور قابل اعتماد اے آئی، انسانی حقوق، شفافیت، جواب دہی، انسانی نگرانی، اوپن سورس ماڈلز اور ترقی پذیر ممالک میں اے آئی کی استعداد بڑھانے جیسے موضوعات شامل ہیں۔

چین بھی مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی اور استعداد کار میں تعاون کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کر رہا ہے۔ جولائی میں شنگھائی میں ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں انسانیت کے مرکز ہونے ،مصنوعی ذہانت، شمولیت، انصاف، ’’اے آئی فار گڈ‘‘ اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا گیا۔چین نے اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کی اے آئی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد تمام ممالک اور معاشروں تک پہنچنے چاہئیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی بین الاقوامی سطح پر نئی حکمت عملیوں پر کام ہو رہا ہے۔ او ای سی ڈی کی 2026 کی ڈیجیٹل ایجوکیشن آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جنریٹو اے آئی اساتذہ کی مدد اور کم سہولت والے علاقوں کے طلبہ تک تعلیمی مواد پہنچانے میں معاون بن سکتی ہے، تاہم استاد کے انسانی کردار، تنقیدی سوچ اور باہمی تعلق کو ختم کرنے کے خطرات سے بھی بچنا ہوگا۔

مصنوعی ذہانت کی بحث میں شاید سب سے بنیادی بات یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھا جائے۔ اگر اے آئی سے پیداوار بڑھتی ہے لیکن بے روزگاری اور عدم مساوات بھی بڑھتی ہے تو اسے مکمل انسانی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ اگر تعلیمی نظام تیز تو ہو جاتا ہے لیکن طلبہ کی تخلیقی اور تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے تو یہ بھی کامیابی نہیں ہوگی۔ اور اگر مصنوعی ذہانت معلومات کی رفتار تو بڑھا دیتی ہے لیکن جھوٹی معلومات، تعصب اور ثقافتی یکسانیت کو بھی بڑھا دے تو معاشرے کو اس کے فوائد اور نقصانات دونوں کا حساب کرنا ہوگا۔

اسی لیے شی آن میں ہونے والا مکالمہ محض ایک ٹیکنالوجی کانفرنس نہیں بلکہ مستقبل کے بارے میں ایک وسیع تر گفتگو ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق قاہرہ اور میکسیکو کے بعد یہ سلسلہ مزید عالمی مکالموں کی طرف بڑھ رہا ہے اور بالآخر ستمبر میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس کے نتائج سامنے لائے جائیں گے۔ یہ عمل ’’پیکٹ فار دی فیوچر‘‘ اور ’’گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ‘‘ سمیت عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی ذمہ دار حکمرانی سے متعلق کوششوں میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف لیبارٹریوں یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں طے نہیں ہوگا۔ اس کا مستقبل اسکولوں، جامعات ، دفاتر، ہسپتالوں، عدالتوں، حکومتوں اور عام انسانوں کی زندگی میں طے ہوگا۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ مشین انسان سے زیادہ کام کر سکے، بلکہ یہ ہے کہ مشین کی بڑھتی ہوئی طاقت انسان کی زندگی کو زیادہ محفوظ، باوقار، منصفانہ اور بہتر بنا سکے۔

شی آن میں ہونے والا مکالمہ اسی بڑے سوال کی جانب ایک اہم قدم ہے کہ مصنوعی ذہانت انسان کو تبدیل کرنے کے لیے ہے یا انسان کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے؟ آنے والے برسوں میں دنیا کے فیصلے ہی اس سوال کا اصل جواب دیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے