جب جامعات پہاڑوں تک پہنچیں

یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے نامور اور کامیاب تعلیمی ادارے مختلف ممالک اور اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں اپنے کیمپس اوپن کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے مختلف مقاصد کارفرما ہوتے ہیں، کہیں معیاری تعلیم کو دور دراز علاقوں تک پہنچانا مقصود ہوتا ہے، کہیں اپنے علمی و فکری نظام کو وسعت دینا، اور کہیں ایسے علاقوں کے طلبہ کو ان کے اپنے ماحول میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا جہاں مرکزی کیمپس تک رسائی آسان نہیں ہوتی۔

دنیا کی ان بڑی اور کامیاب جامعات نے اپنے برانچیز، انٹرنیشنل کیمپس، برانچ کیمپس یا اکیڈمک سینٹر وغیرہ کے ناموں سے قائم کیے ہیں۔ ایسی سینکڑوں ہزاروں مثالیں ہیں، چند ایک مثالیں ہم اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ کی University of Nottingham نے ملائیشیا اور چین میں کیمپس قائم کیے، آسٹریلیا کی Monash University نے متعدد ممالک میں اپنے کیمپس پھیلائے، جبکہ امریکی New York University کے نیویارک کے علاوہ ابوظہبی اور شنگھائی میں باقاعدہ ڈگری گرانٹڈ کیمپسز موجود ہیں۔ اس ماڈل کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم، ادارے کے علمی مزاج، فکر و نظر اور کامیاب تعلیمی نظام کو مختلف خطوں تک پہنچانا ہے۔

پاکستان میں بھی عصری اور دینی و اسلامی تعلیمی اداروں میں اس طرز فکر و عمل کی مثالیں ملتی ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ متعدد جامعات نے ملک کے مختلف شہروں میں اپنے کیمپس قائم کیے ہیں، جبکہ آغا خان یونیورسٹی کراچی نے پاکستان سے باہر بھی اپنے تعلیمی مراکز اور نیٹ ورک کو وسعت دی ہے۔ گلگت و چترال میں ان کے کیمپس موجود ہیں، گلگت میں PDCN کے نام سے ان کا ایک بہت بڑا کیمپس وسیع پیمانے پر کام کر رہا ہے۔ اسی طرح اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے تعلیمی تصور و نظام کو مختلف علاقوں تک پہنچانے کے لیے ملک بھر میں IIUI Schools کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ اسی طرح منہاج القرآن یونیورسٹی لاہور کے کیمپسز کا بھی ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔ گلگت بلتستان میں، مختلف مکاتب فکر کے بڑی مذہبی جامعات کے کیمپسز موجود ہیں۔

اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ایک کامیاب تعلیمی ادارے کی شناخت صرف اس کے مرکزی کیمپس تک محدود نہیں رہتی۔ اگر نظام مضبوط، نصاب معیاری اور انتظامی ڈھانچہ مؤثر ہو تو اسے مختلف علاقوں میں کیمپس یا ذیلی اداروں کے ذریعے پھیلایا جا سکتا ہے۔

میں نے گیارہ سال کراچی میں دینی و عصری تعلیم حاصل کی ہے اور ایم فل کے لیے تین سال اسلام آباد کے چکر لگاتا رہا ہوں۔ اب پی ایچ ڈی کے لیے فکر مند ہوں۔ اس لیے مجھے اندازہ ہے کہ گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں سے پنڈی اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں جا کر تعلیم حاصل کرنا کتنا مشکل کام ہے۔ ہمارے طلبہ کے لیے یہ صرف فاصلے کا مسئلہ نہیں، بلکہ سفر کے اخراجات، رہائش، ماحول سے ہم آہنگی، والدین سے دوری اور دیگر بے شمار مسائل بھی اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

انہیں مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے اس موضوع پر بارہا کالم لکھے کہ پاکستان کی بڑی دینی جامعات کو گلگت بلتستان میں اپنے کیمپسز اوپن کرنے چاہئیں، تاکہ گلگت بلتستان کے طلبہ کو ان کے گھر کی دہلیز پر وہی تعلیم ملے جو جامعہ دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاؤن، جامعہ فاروقیہ کراچی، جامعۃ الرشید کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور اور بیت السلام کراچی میں ملتی ہے۔ یہ محض ایک خواہش نہیں، بلکہ ایک دیرینہ تعلیمی ضرورت ہے۔ میں اس ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بارہا کالم لکھتا رہا ہوں اور آئندہ بھی لکھتا رہونگا۔

آج سے پانچ سال پہلے استاد محترم مولانا عبدالستار صاحب مدظلہ العالیہ کے پاس تلہ گنگ جاکر، ان کی خدمت میں حاضر ہوکر، جامعہ بیت السلام کا گلگت بلتستان میں کیمپس بنانے کی درخواست کی۔ تمام صورتحال ان کے سامنے رکھا۔ الحمدللہ، استاد محترم نے ہماری گزارش پر کیمپس شروع کیا۔

چار سال پہلے جامعہ فاروقیہ فیز ٹو کے حضرت مولانا انس عادل خان صاحب مدظلہ سے بھی جامعہ فاروقیہ حاضر ہوکر، یہی ریکویسٹ کی کہ جامعہ فاروقیہ کا ایک بہترین کیمپس گلگت میں شروع کیا جانا چاہیے۔اسی طرح مولانا عدنان کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم کو بھی البرہان کا سلسلہ گلگت بلتستان میں شروع کرنے کی گزارش، ان کے پاس جاکر کر چکا ہوں۔ انہوں نے یہ بات اپنی کور کمیٹی کے سامنے رکھا ہے، وہ بھی جلد یا بدیر شروع کریں گے، ان شاء اللہ۔ عین اسی طرح اپنے شیخ سید مختار الدین شاہ صاحب نوراللہ مرقدہ کے صاحبزادے مفتی زبیر شاہ صاحب کے دورۂ گلگت پر بھی درجنوں علماء کے سامنے مدلل گزارش کی تھی کہ تحریک ایمان و تقویٰ کو گلگت بلتستان تک پھیلایا جائے۔ الحمدللہ، پڑی بنگلہ میں خانقاہ بن چکی ہے۔ مستقبل قریب میں بڑے پیمانے پر کام ہوگا۔

اقرأ روضۃ الأطفال پاکستان کے اکابرین نے 27 سال پہلے گلگت بلتستان میں اپنا تعلیمی سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس کے بے شمار فوائد آج تک موصول ہو رہے ہیں۔ یہ اس بات کی ایک خوب صورت مثال ہے کہ جب کوئی مستند، منظم اور صاحب نسبت ادارہ کسی علاقے میں اپنے علمی و تربیتی نظام کا آغاز کرتا ہے تو اس کے اثرات ایک نسل تک محدود نہیں رہتے، بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فیض یاب ہوتی ہیں۔ اقراء روضہ الأطفال کی تعلیمی خدمات پر کئی کالم تحریر کرچکا ہوں، ایسی شاندار خدمات جمعیت تعلیم القرآن ٹرسٹ کی ہیں۔بالکل اسی طرح گزشتہ سالوں میں جامعۃ الرشید اور مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب حفظہ اللہ کو مخاطب کرکے کئی کالم لکھے کہ جامعۃ الرشید کا آغاز گلگت بلتستان میں ہونا چاہیے، جامعۃ الرشید کے کچھ فضلاء سے گزارش بھی کی تھی کہ حضرت تک ہماری بات پہنچا دیں۔ شاید ان تک ہماری تحریریں پہنچی ہوں۔

اکتوبر 2024ء میں مولانا سیف اللہ جوکہ میرے انتہائی قریبی دوست اور کلاس فیلو ہیں، کے ساتھ تھک داس چلاس میں ان کے مدرسہ میں ایک تفصیلی ملاقات ہوئی اور انہیں اس بات پر قائل بھی کیا کہ آپ اپنے اس ادارے کو، اپنے احباب سے مشاورت کے بعد، جامعۃ الرشید کے حوالے کریں، کیونکہ وہ اس وقت اپنے ادارے کا الحاق مجمع العلوم علوم الاسلامیہ کے ساتھ کرچکے تھے۔ الحمدللہ، انہوں نے گزشتہ دنوں، اپنے رفقاء کیساتھ تھک داس چلاس میں سو کنال اراضی جامعۃ الرشید کے حوالے کیا ہے اور ایم او یو سائن ہوا ہے، وہ بہت مطمئن ہیں کہ مفتی عبدالرحیم صاحب اور ان کی ٹیم بہترین کیمپس بنائیں گے اور معیاری کام کریں گے۔ ان شاء اللہ بہت جلد کیمپس بنے گا۔یہ میرے لیے ذاتی طور پر بھی خوشی کا باعث ہے اور گلگت بلتستان کے تعلیمی مستقبل کے لیے بھی ایک امید افزا پیش رفت ہے۔

اب میری گزارش جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، جامعہ دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوریہ سائٹ ایریا، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ امدادیہ فیصل آباد، جامعہ محمدیہ اسلام آباد، جامعہ عثمانیہ پشاور اور جامعہ دارالعلوم حقانیہ جیسے دیگر نامور تعلیمی اداروں سے ہے کہ اپنے ایک ایک سب کیمپس گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں شروع کریں، تاکہ وہی تعلیم ہمارے بچوں کو گھر کی دہلیز پر ملے جو آج انہیں سینکڑوں اور ہزاروں کلومیٹر دور جا کر حاصل کرنی پڑتی ہے۔

آپ ہزاروں طلبہ اور سینکڑوں اساتذہ و ملازمین کا انتظام و انصرام بہترین انداز میں سالوں سے کر رہے ہیں، تو گلگت بلتستان میں ایک کیمپس کھول کر تین چار سو طلبہ اور دو تین درجن اساتذہ و ملازمین کا بہترین انتظام کرسکتے ہیں۔ یہ آپ کے دائیں ہاتھ کا کام ہے۔ بس دل بڑا کیجیے، اپنے اپنے فضلاء کو جمع کیجیے، ان سے مشاورت کیجیے اور انہیں بہترین ادارے بنا کر دینی کاموں کی ترتیب شروع کروا دیجیے۔ بے شک مالی و انتظامی سارا تصرف آپ کے پاس ہو، بس یہ علماء بہترین انداز میں خدمت کریں اور آپ ان طلبہ اور اساتذہ کی کفالت کیجیے۔

گلگت بلتستان صرف ایک خوب صورت خطہ نہیں، یہ ہزاروں خاندانوں اور لاکھوں انسانوں کا وطن ہے۔ یہاں کے بچے بھی حق رکھتے ہیں کہ انہیں ملک کے بڑے اور معتبر دینی مراکز کے علمی ذوق، فکری تربیت، تحقیقی مزاج اور دینی بصیرت سے براہ راست استفادہ کرنے کا موقع ملے۔
ہمیں ہر بچے کو کراچی، لاہور، اسلام آباد یا پشاور بھیجنے کے بجائے کیوں نہ علم کو ان کے دروازے تک لے آئیں؟

جامعات کے لیے یہ صرف ایک نیا کیمپس نہیں ہوگا، بلکہ پہاڑی سلسلوں پر مشتمل پورے خطے کی علمی پیاس بجھانے کا ذریعہ ہوگا۔ چند سو طلبہ آج اگر کسی مستند ادارے سے تعلیم حاصل کریں گے تو کل یہی طلبہ اپنے اپنے علاقوں میں مدارس، مکاتب، مساجد، اسکولوں، کالجوں،یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی و سماجی اداروں میں علم کے چراغ روشن کریں گے۔

اور پھر دینی جامعات کے لیے اس سے بڑھ کر صدقۂ جاریہ اور کیا ہوگا کہ ایک دور افتادہ خطے میں علم و دین کا ایک مضبوط مرکز قائم ہو جائے، جہاں نسلیں پروان چڑھیں، علماء تیار ہوں، ائمہ و خطباء پیدا ہوں، مدرسین و مبلغین سامنے آئیں، محققین و مدققین جنم لیں اور معاشرے کو ایسے افراد اور رجال کار میسر آئیں جو علم کے ساتھ کردار بھی رکھتے ہوں اور صائب و سالم فکر ہوں۔

میں اپنے اکابر اہل علم سے مخاطب ہوں، اگر آپ کی ہمارے ساتھ ہمدردی ہے تو اپنے کیمپس کا آغاز کیجیے، اور ہمیں دین و دانش اور علم و حکمت سے بہرہ ور کیجیے۔ گلگت بلتستان آپ کا منتظر ہے۔

قارئین کرام!

جب پاکستان اور دنیا بھر کی تعلیمی جامعات گلگت بلتستان کے پہاڑوں کا رخ کریں گی تو یہ محض چند عمارتوں، چند کلاس رومز اور چند سو طلبہ کا اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ اس پورے خطے کے علمی مستقبل کی سمت بدلے گی۔ گلگت بلتستان کے یہ پہاڑ مدتوں سے علم و ہنر، اخلاص وللہیت اور خدمت کے پیاسے ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ علم کے بڑے مراکز اپنی وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پہاڑوں کی طرف قدم بڑھائیں، ان پہاڑوں اور ان میں بہتے دریاؤں ، آبشاروں اور گھنے جنگلوں میں اتنی فراخدلی ہے کہ یہ آپ کو جذب کرلیں گے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کی معتبر دینی جامعات اگر اپنے علمی نظام کے چند چراغ یہاں روشن کر دیں تو یہ چراغ آگے چل کر نہ جانے کتنی بستیوں کو منور کریں گے۔ سو آئیے، فاصلے کم کریں، علم کو بڑے شہروں سے پہاڑوں تک پہنچائیں اور ایسا وقت لائیں جب طلبہ علم کی تلاش میں پہاڑوں سے اترنے کے بجائے خود علم کے قافلے پہاڑوں کا رخ کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے