باشعور انسان اپنی زندگی میں ایک عجیب سا تأثر اُس وقت محسوس کرتا ہے، جب اُس کی ملاقات کسی ایسی علمی شخصیت سے ہو جو اپنی ذاتی زندگی میں ذکر و عبادت کی پابندی کے ساتھ اُس مقامِ فہم و بصیرت تک پہنچ چکی ہو جہاں دینی حمیت اور بیدار فکری کے تقاضے نمایاں ہوں، جہاں خداداد قوتِ فیصلہ کی صلاحیت اجاگر ہوتی ہو، جہاں محض تنقیدی سوچ کے بجائے اصلاحی مزاج پروان چڑھتا ہو، جہاں خودنمائی اور خودغرضی کے بجائے عاجزی و انکساری جلوہ گر ہو، جہاں علوم و فنون کا ایک بہتا ہوا سمندر موجزن ہو، اور جہاں روشن ستارے بلاامتیاز رنگ، نسل اور مسلک، اپنی کرنوں سے ہر سو روشنی پھیلانے میں مصروف ہوں۔
ایسی شخصیت وہ ہوتی ہے جو کسی کے تند و تیز اور سخت لہجے کے جواب میں بھی سکوت اور خاموشی اختیار کرے، چھوٹوں پر شفقت و محبت کے پھول نچھاور کرے، احترام و اکرام کو اپنا شعار بنائے، اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ فکر کے ذریعے فکری جمود کی خاموشی کو توڑ دے۔ جس کی فکری روش میں روایت کی پاسداری بھی ہو اور روایت پرستی کے جمود سے گریز بھی۔ جس کے فکر و شعور کی ہر منزل پختگی، اعتدال اور بصیرت سے عبارت ہو۔اپنی بے نیازی میں دنیاوی منصب اور مادی منفعت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، تدبیرِ انسانی کو تمیز و تعقل سے بروئے کار لانا اور تقدیرِ الٰہی پر صبر و شکر کے ساتھ راضی رہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایسے لوگ بہت کم نظر آتے ہیں، اور ان میں ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ کی شخصیت یقیناً نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔
آج ہم اُس عظیم انسان کو یاد کر رہے ہیں جو دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا علمی و فکری سرمایہ چھوڑ گیا جو آج بھی اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ عصری فقاہت، علمی ذکاوت اور فکری بصیرت کے حامل تھے۔ انہوں نے ایسی فکر پیش کی، جس کے ذریعے عصری تقاضوں سے پیدا ہونے والے مسائل کو ماضی کے فکری جمود سے آزاد کر کے نئے علمی تناظر میں سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے مختلف علمی اور فکری موضوعات پر ایسے گراں قدر محاضرات پیش کیے جو اُن کی علمی زندگی کا بیش قیمت سرمایہ تھے۔ اُن کے خطابات اور تحریریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ علم کو محض اپنے پاس محفوظ رکھنے کے قائل نہیں تھے، بلکہ اسے ایک امانت سمجھ کر دوسروں تک منتقل کرنا اپنا فریضہ تصور کرتے تھے۔انہوں نے اپنا یہ عظیم علمی سرمایہ بے دریغ لوگوں میں تقسیم کیا، اپنی تحریروں، محاضرات اور افکار کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا علمی ورثہ چھوڑا جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید قیمتی ہوتا جائے گا۔ یوں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب اپنی زندگی کے بعد بھی اپنی تحریروں، افکار اور علمی خدمات میں زندۂ جاوید ہیں۔
والدِ محترم استاذمحمد طاسینؒ کے انتقال کے چند روز بعد ڈاکٹر محمود احمد غازی نے اسلام آباد سےگھر پر ٹیلی فون کیا۔ نہایت دردمندانہ لہجے میں افسوس اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا،بظاہر یہ تو ایک رسمی تعزیت ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے ایک استاد سے محروم ہو گیا ہوں۔ میں نے ایسے علما بہت کم دیکھے ہیں جن میں اجتہادی بصیرت اور اجتہادی صلاحیت موجود ہو۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مولانا طاسینؒ کی اجتہادی مسائل پر فکر انگیز تحریریں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے والد کے لیے درجاتِ بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا فرمائی۔ڈاکٹر صاحب کے یہ الفاظ میرے لیے محض تعزیتی کلمات نہیں تھے، بلکہ میرے والدِ محترمؒ کی علمی شخصیت، اجتہادی بصیرت اور فکری خدمات کے بارے میں ایک جلیل القدر عالم کی گواہی بھی تھے۔ آج جب میں ان کلمات کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بعض تعزیتیں محض غم میں شریک ہونے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ وہ مرحوم کی علمی عظمت کا اعتراف بن کر ہمیشہ کے لیے دل میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔
والدِ محترم کے انتقال کے کچھ عرصے بعد ڈاکٹر صاحب جوکہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کے معزز جج کے منصب پر فائز تھے اور ایک اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی تشریف لائے ہوئے تھے۔ انہی دنوں شریعت اپیلیٹ بنچ میں سود کے مسئلے پر اہم بحث و گفتگو جاری تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب بھی اسی بنچ کا حصہ ہیں۔ دل میں اُن سے ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی، لیکن یہ تمنا ابھی دل ہی میں تھی کہ اگلے ہی روز ڈاکٹر صاحب کا گھر پر ٹیلی فون آگیا۔نہایت خوشگوار اور مانوس انداز میں اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا۔محمود غازی بات کر رہا ہوں۔اُن کی آواز سنتے ہی مجھے بے حد مسرت ہوئی۔ ابتدائی حال احوال اور تعزیت کے کلمات کے بعد ڈاکٹر صاحب نے والدِ گرامی کی اُن تحریروں کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جو اقتصادی اور معاشی موضوعات پر لکھی گئی تھیں۔ اُن کی اس خواہش سے اندازہ ہوا کہ والدِ محترم کی علمی شخصیت اور خصوصاً اقتصادی مسائل پر اُن کی تحریروں میں ڈاکٹر صاحب کی گہری علمی دلچسپی اور قدر و منزلت موجود تھی۔
اگلے روز مقررہ وقت پر سیشن ختم ہونے کے بعد میں ڈاکٹر صاحب کے چیمبر میں پہنچا۔ کمرے کے باہر موجود ایک سپاہی یا شاید نائب قاصد کو اپنی آمد کا مقصد بتایا۔ اُس نے اندر جا کر ڈاکٹر صاحب کو میرے بارے میں آگاہ کیا۔ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ شاید کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا کہ اچانک میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ڈاکٹر صاحب خود دروازے پر تشریف لے آئے۔مجھ سے مصافحہ کیا، محبت سے معانقہ فرمایا اور میرا ہاتھ تھام کر نہایت شفقت کے ساتھ اندر لے گئے۔
مجھے صوفے پر بیٹھنے کے لیے کہا اور خود بھی میرے برابر میں تشریف فرما ہو گئے۔ چند لمحے حال احوال دریافت کرنے کے بعد میں نے والدِ گرامی کے وہ مضامین اُن کی خدمت میں پیش کر دیے۔ڈاکٹر صاحب نے نہایت توجہ اور انہماک سے ایک ایک مضمون کا مطالعہ کیا۔ ہر مضمون دیکھنے کے بعد اس کی علمی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے فرماتے جاتے کہ اگر مجھے ان مضامین کی نقول دستیاب ہو جائیں تو میں ممنون رہوں گا۔ میں نے اثبات میں جواب دیا اور وہ تمام اصل مضامین ہی اُن کی خدمت میں پیش کر دیے۔ ڈاکٹر صاحب نے اسی وقت ایک صاحب کو بلا کر ہدایت فرمائی کہ ان مضامین کی فوٹو اسٹیٹ کروا دی جائے۔
اس دوران چائے بھی آ چکی تھی۔ چائے کے دوران ڈاکٹر صاحب نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ مجھے اس بات کی ترغیب دیتے رہے کہ مولانا کے جتنے بھی دیگر مضامین منتشر صورت میں موجود ہیں، انہیں بھی جمع کیا جائے اور کتابی شکل میں شائع کیا جائے۔ اُن کے لہجے میں محض ایک علمی مشورہ نہیں بلکہ ایک استادانہ خیرخواہی اور علمی امانت کی حفاظت کا احساس نمایاں تھا۔اُس مختصر سی ملاقات میں ڈاکٹر غازی صاحب کی محبت، تواضع، علمی ذوق اور اہلِ علم کی قدر دانی کی جو جھلک مجھے دیکھنے کو ملی، وہ آج بھی میرے لیے ایک ناقابلِ فراموش یاد ہے۔
ڈاکٹر صاحب اپنے ایک مضمون میں مولانا طاسین کی فکری خوبی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "اُنہوں نے ایک طرف اپنے خیالات میں خاصی پختگی پیدا کی تھی لیکن اُس کے باوجود اختلاف رائے کو نہ صرف برداشت کرتے تھے بلکہ اُس کا خیر مقدم بھی کیا کرتے تھے۔ وہ ان تمام لوگوں سے گفتگو کے لیے تیار رہتے تھے جو اُن سے مختلف رائے رکھتے تھے۔ اس سے اُن کے مزاج میں ایک ایسی وسعت اور فکر میں ایسی گہرئی پیدا ہو گئی تھی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے”۔ (تعمیر افکار، اشاعت خاص بیاد علامہ محمد طاسین، اگست ۲۰۰۶ء، چند یادیں چند تأثرات، ص ۷۸)
میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر غازی صاحب کے ذہن میں مولانا طاسین کی فکر اور علمی شخصیت کے حوالے سے جو خیالات اور تصورات مجتمع تھے، وہ یقیناً ایک مستند علمی شہادت کی حیثیت رکھتے ہیں اور میرے لیے بھی ہمیشہ رہنمائی کا باعث رہے ہیں۔ والدِ محترم کے انتقال کے بعد ایسی جلیل القدر علمی شخصیات سے میرا کسی نہ کسی صورت میں تعلق قائم ہونا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔مضامین کی نقول تیار ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ میری تعلیم کہاں تک پہنچی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ایم اے اسلامیات مکمل کر لیا ہے اور اس میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جبکہ اب پی ایچ ڈی میں بھی داخلہ لے لیا ہے۔ یہ سن کر ڈاکٹر صاحب بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے چند قیمتی نصیحتیں فرمائیں، دعائیں دیں اور جاتے ہوئے فرمایا کہ اگر اجلاس کے اختتام کے بعد وقت ملا تو مجلسِ علمی، جو اُس وقت نئی جگہ منتقل ہو چکی تھی، میں ضرور حاضر ہوں گا۔
میں ڈاکٹر صاحب سے اجازت لے کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔ اُس وقت میرے لیے سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ تھی کہ والدِ محترمؒ کے وہ علمی مضامین، جنہیں ڈاکٹر صاحب نے اتنی توجہ اور قدر کی نگاہ سے دیکھا تھا، اُن کے لیے سود کے مسئلے پر جاری اہم قانونی و شرعی بحث میں کسی نہ کسی درجے میں معاون اور مفید ثابت ہوں گے۔ میرے لیے یہ احساس بھی باعثِ اطمینان تھا کہ والدِ محترم کا علمی سرمایہ ایک ایسے اہم قومی اور شرعی معاملے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
اس کے کچھ عرصے بعد ڈاکٹر صاحب کی اسٹیٹ بینک کے شریعہ بورڈ کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی آمد ہوئی۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کی وساطت سے ایک مرتبہ پھر ملاقات کا موقع ملا۔ اس موقع پر میں نے ڈاکٹر صاحب کو مجلسِ علمی تشریف لانے کی دعوت دی، جسے انہوں نے نہایت محبت سے قبول فرمایا اور آمد کا وقت مقرر کر دیا۔مقررہ وقت پر جب ڈاکٹر صاحب مجلسِ علمی تشریف لائے اور لائبریری کو نئے سرے سے دیکھا تو بے حد خوشی اور مسرت کا اظہار فرمایا۔ انہوں نے نہ صرف لائبریری کی علمی سرگرمیوں اور ترتیب و تزئین کو سراہا بلکہ مجلسِ علمی کے رجسٹرِ تأثرات میں اپنے قیمتی تاثرات بھی قلم بند فرمائے۔
ڈاکٹر صاحب نے لکھا۔’’الحمدللہ! آج کم و بیش بیس سال بعد پھر مجلسِ علمی میں حاضری کا اتفاق ہوا۔ اس ادارے سے میری وابستگی کم از کم چالیس پینتالیس سال پرانی ہے۔ اس ادارے کے پاکستانی مؤسس مولانا محمد طاسین مرحوم سے میری ذاتی نیاز مندی ۱۹۷۲ء کے لگ بھگ سے تھی، جو اُن کی وفات تک جاری رہی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ برادرِ عزیز محترم عامر طاسین کو توفیق، ہمت اور وسائل عطا فرمائے کہ وہ اس ادارے کو وطنِ عزیز کا ایک بہت معتبر علمی ادارہ بنا سکیں۔‘‘(رجسٹرِ تأثرات، مجلسِ علمی، کراچی، ۱ جون ۲۰۰۶ء)۔ڈاکٹر صاحب کے یہ تاثرات میرے لیے محض چند تعریفی کلمات نہیں، بلکہ مجلسِ علمی سے اُن کی دیرینہ وابستگی، والدِ محترم سے اُن کے ذاتی تعلق اور ادارے کے مستقبل کے حوالے سے اُن کی نیک خواہشات کی ایک قیمتی علمی شہادت ہیں۔ اُن کے قلم سے نکلے ہوئے یہ الفاظ آج بھی میرے لیے ایک رہنمائی، حوصلہ اور ذمہ داری کا احساس رکھتے ہیں۔
میں والدِ محترم کے حالاتِ زندگی اور علمی خدمات پر اہلِ علم احباب کے تأثرات جمع کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میں نے سابق چیف جسٹس، وفاقی شرعی عدالت، محترم جسٹس تنزیل الرحمن صاحب کے گھر جا کر اُن کے تأثرات حاصل کیے۔ اس کے بعد میں نے دیگر اہلِ علم سے بھی رابطہ کیا۔ ان میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ڈاکٹر شیر زمان، ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن، ڈاکٹر سفیر اختر اور ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی شامل تھے۔والدِ محترم کے حوالے سے مضامین اور علمی تأثرات جمع کرنے کے سلسلے میں میرا اسلام آباد جانا ہوا۔ اس سفر کے دوران مجھے ان حضرات سے ملاقات کا موقع ملا اور میں نے اُن کے قیمتی علمی تأثرات قلم بند کیے۔
اُس وقت ڈاکٹر محمود احمد غازی غالباً بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر کی ذمہ داری کے ساتھ وفاقی وزارتِ مذہبی امور کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان مصروفیات کے باعث اُن کی ذمہ داریاں اور معمولات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے تھے۔ میں نے کراچی سے روانہ ہونے سے قبل اسلام آباد میں موجود کئی اہلِ علم سے رابطہ کیا تھا اور اپنے آنے کا مقصد بھی بتایا تھا۔ سب حضرات نے ازراہِ محبت ملاقات کے لیے وقت عنایت فرما دیا، تاہم ڈاکٹر صاحب سے اُس وقت رابطہ نہ ہو سکا۔
بہرحال، جب میں اسلام آباد پہنچا تو دیگر حضرات سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور والدِ محترمؒ کے حوالے سے بعض قیمتی علمی تأثرات بھی تحریری صورت میں جمع ہو گئے۔ اب میری خواہش تھی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی سے بھی ملاقات ہو اور اُن کے خیالات محفوظ کیے جائیں۔میں نے بالآخر ٹیلی فون پر ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کیا اور ملاقات کے لیے وقت لینے کی خواہش ظاہر کی۔ ڈاکٹر صاحب نے نہایت محبت سے مجھے اگلے ہی روز وزارتِ مذہبی امور میں اپنے دفتر آنے کے لیے کہا۔
مقررہ وقت پر میں ڈاکٹر صاحب کے دفتر پہنچا۔ انہوں نے نہایت عزت، تکریم اور شفقت کے ساتھ ملاقات فرمائی اور دیر تک مختلف امور پر گفتگو کرتے رہے۔ میں نے والدِ محترمؒ کے بارے میں اُن کے علمی تأثرات کو تحریری صورت میں لینے کے بجائے اُن کی گفتگو ریکارڈ کرنے کو ترجیح دی۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے خاصی تفصیل کے ساتھ والدِ محترم کی علمی شخصیت، فکر اور خدمات کے حوالے سے اپنے قیمتی خیالات ریکارڈ کروائے۔ملاقات کے اختتام پر میں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک یادگاری تصویر بنوانے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے انہوں نے بخوشی قبول فرمایا۔ تصویر بھی بن گئی۔ اس کے بعد چائے اور دیگر لوازمات کے ساتھ کچھ دیر مزید گفتگو رہی۔ آخرکار ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُن سے اجازت چاہی اور رخصت ہو گیا۔یہ ملاقات میرے لیے محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی، بلکہ والدِ محتر م کی علمی شخصیت کے بارے میں ایک جلیل القدر عالم اور دانشور کے خیالات کو محفوظ کرنے کا ایک ایسا موقع تھا جس کی اہمیت مجھے آج بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
میرا ارادہ یہ تھا کہ واپسی کے سفر ہی میں ڈاکٹرصاحب کی ریکارڈ شدہ گفتگو کو تحریری صورت میں منتقل کر لوں گا۔ لیکن جب کراچی واپسی کا وقت آیا تو ایک عجیب صورتِ حال پیش آ گئی۔ ٹیپ پر ڈاکٹرصاحب کی گفتگو ریکارڈ تو ضرور ہوئی تھی، مگر کسی فنی خرابی کے باعث آواز اس قدر غیر واضح تھی کہ الفاظ اور جملے سمجھ میں نہیں آ رہے تھے۔مجھے شدید دکھ اور افسوس ہوا کہ محنت ضائع ہوگئی۔ میں نے بڑی مشکل سے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا وقت حاصل کیا تھا اور اُن کی اتنی اہم گفتگو ریکارڈ کی تھی، لیکن اب وہ قابلِ استفادہ نہ رہی تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ احساس پریشان کر رہا تھا کہ یہ صورتِ حال میری اپنی کوتاہی کے باعث پیدا ہوئی تھی۔
اب میرے لیے ڈاکٹر صاحب کو اس بارے میں آگاہ کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ تھا کہ آخر کس طرح اُنہیں بتاؤں کہ اُن کی پوری گفتگو ضائع ہو گئی ہے۔بہرحال، کراچی پہنچنے کے چند روز بعد بہت شرمندگی اور جھجک کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کو ٹیلی فون کیا اور پوری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے میری بات نہایت اطمینان اور شفقت سے سنی اور فرمایا۔کوئی بات نہیں۔ مجھے اگر مولانا طاسینؒ جیسی عظیم علمی شخصیت کے لیے دس مرتبہ بھی کچھ کہنا یا لکھنا پڑے تو میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہوگی۔ وہ میرے استاد تھے اور میں انہیں اپنا روحانی مربی بھی سمجھتا ہوں۔ پھر تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔اب آپ بے فکر رہیں، یہ میری ذمہ داری ہے،ان شاء اللہ خود آپ کو مضمون لکھ کر روانہ کر دوں گا۔
ڈاکٹر صاحب کے یہ الفاظ میرے لیے کسی بڑے حوصلے اور اطمینان سے کم نہ تھے۔ غالباً ہفتہ دس دن بعد ہی ڈاکٹر صاحب کا مضمون بذریعہ ٹی سی ایس کے ذریعے موصول ہو گیا۔ اُنہوں نے نہ صرف اپنی مصروفیات کے باوجود وعدہ پورا کیا بلکہ والدِ محترمؒ کے بارے میں اپنے گہرے علمی و روحانی تعلق کو ایک باقاعدہ تحریر کی صورت میں محفوظ کر دیا۔ڈاکٹر صاحب کا یہ مضمون ماہنامہ ’’تعمیرِ افکار‘‘ کے خصوصی شمارے ’’بیادِ علامہ طاسین‘‘ میں شائع کردیا گیا تھا۔ میرے لیے یہ مضمون محض ایک تعزیتی یا یادگاری تحریر نہیں تھا، بلکہ یہ اُس عظیم علمی تعلق کی ایک قیمتی دستاویز تھا جس میں ڈاکٹر صاحب اپنے الفاظ میں علامہ محمد طاسین کو اپنا استاد اور روحانی مربی قرار دے رہے تھے۔
اسلام آباد سے واپسی کے تقریباً ایک ماہ بعد مجھے یہ خبر ملی کہ ڈاکٹر صاحب نے وفاقی وزارتِ مذہبی امور سے استعفا دے دیا ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کے گھر پر ٹیلی فون کیا اور خیریت دریافت کرنے کے بعد اس خبر کی تصدیق چاہی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ خبر درست ہے۔کچھ عرصے بعد کسی کام کے سلسلے میں دوبارہ اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا۔
میں نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے شام کے وقت مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر میں اپنے بہنوئی حاجی محمد الیاس اور بھانجا حسن( جوکہ اب محترم جاوید غامدی صاحب کے داماد ہیں ) بھی ساتھ تھے۔ ہم سب ڈاکٹر صاحب کے پاس کافی دیر تک بیٹھے رہے اور مختلف امور پر گفتگو ہوتی رہی۔ اس دوران ایک بات نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا کہ ڈاکٹر صاحب خود ہی ہماری تواضع کا اہتمام کرتے رہے۔ چائے اور دیگر لوازمات بھی خود گھر کے اندر سے لا کر ہمارے سامنے پیش کرتے رہے۔ گھر میں کوئی ملازم یا خادم نظر نہیں آیا۔اُن کی یہ سادگی اور بے تکلفی میرے لیے ایک خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔
گفتگو کے دوران مختلف حالات و واقعات کا ذکر ہوتا رہا اور وزارتِ مذہبی امور سے اُن کے استعفے کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ اُن کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور اُن کے مزاج سے واقفیت کے بعد میرے لیے یہ بات ہمیشہ واضح رہی کہ ڈاکٹر صاحب ان اہلِ علم میں سے تھے جو جاہ و منصب کی کشش اور دنیاوی عہدوں کی طلب سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی تو وہ اسے پوری دیانت، اخلاص اور حسنِ تدبیر کے ساتھ نبھاتے۔لیکن جہاں کسی غیر ضروری دباؤ، مداخلت یا اصول کے خلاف کسی مطالبے کا سامنا ہوتا، وہاں وہ معذرت کرنے میں ذرا بھی تامل نہ کرتے۔سفارش، ناجائز دباؤ یا کسی غیر قانونی کام کو قبول کرنا اُن کے مزاج کا حصہ نہیں تھا۔
وہ ایسے معاملات سے دامن بچانے ہی میں عافیت سمجھتے تھے۔ یہی اصول پسندی اور بے نیازی اُن کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ چنانچہ جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنے اصولوں اور ضمیر کے مطابق ذمہ داری ادا نہیں کر سکتے تو انہوں نے کسی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اُس منصب ہی کو خیرباد کہہ دینا مناسب سمجھا۔میرے نزدیک یہی وہ وصف تھا جو ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کو محض ایک بڑے عالم اور فقیہ ہی نہیں، بلکہ ایک بااصول، خوددار اور بے نیاز انسان بھی بناتا تھا۔
ایک روز ڈاکٹر غازی صاحب دعوہ اکیڈمی کے کراچی ریجنل سینٹر تشریف لائے۔ وہاں اُن کا لیکچر تھا اور اس کے بعد اُنہیں ایک دو مختلف مقامات پر جانا تھا۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب نے مجھے بھی وہاں بلا لیا۔ اس بہانے نہ صرف ڈاکٹر صاحب سے دوبارہ ملاقات کا موقع ملا بلکہ اُنہیں اپنی چھوٹی گاڑی سوزوکی ایف ایکس میں ایک دو مقامات پر لے جانے اور واپس لانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔اسی دوران ڈاکٹر صاحب مجلسِ علمی بھی تشریف لائے اور لائبریری میں ہونے والی بعض نئی تبدیلیوں اور انتظامات کو دیکھ کر خوشی کا اظہار فرمایا۔ اس موقع پر ہماری مجلسِ علمی کے چیف ایگزیکٹو اور الراعی گروپ آف کمپنی کے جناب رضا عبدالعزیز صاحب بھی موجود تھے۔ اُن سے ملاقات پر ڈاکٹر صاحب نے خاصی خوشی کا اظہار کیا۔ کچھ دیر گفتگو ہوئی اور مختصر سی تواضع کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
اس کے بعد مجلس علمی سے ڈاکٹر صاحب کو غالبا ً دوبارہ دعوہ اکیڈمی پہنچنا تھا اور وہاں سے اپنا سامان لے کر انہیں براہِ راست ایئرپورٹ روانہ ہونا تھا۔ میں اپنی گاڑی چلا رہا تھا اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمن بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جب ہم دعوہ اکیڈمی پہنچے تو ڈاکٹر صاحب نے عصر کی نماز ادا کی اور اس کے فوراً بعد ایئرپورٹ کے لیے روانگی کے لیے تیار تھے۔ وقت بہت کم تھا۔ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے مجھ سے کہا کہ جتنی جلدی ممکن ہو، ایئرپورٹ پہنچنا ضروری ہے، کہیں فلائیٹ مس نہ ہوجائے ۔ میں نے عرض کہا کہ ان شاء اللہ فلائٹ مل جائے گی۔ بس پھر کیا تھا، فوری طور پر ڈاکٹر غازی صاحب اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمن گاڑی میں بیٹھے اور ایئرپورٹ کی جانب روانہ ہو گئے۔ وقت کی کمی کے باعث گاڑی قدرے تیز رفتاری سے چلاتے ہوئے ہم بروقت ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ اُس وقت جہاز کی روانگی میں صرف بیس منٹ باقی تھے۔ہم نے ڈاکٹر صاحب کو الوداع کہا۔
رخصت ہوتے وقت انہوں نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ عامر صاحب مجھے آپ کی یہ تیز ڈرائیو نگ یاد رہے گی۔ پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے جزاک اللہ کہا، سلام کیا اور ایئرپورٹ کے اندر کی جانب روانہ ہو گئے۔بظاہر یہ چند لمحوں کا ایک معمولی سا واقعہ تھا، لیکن میرے لیے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گزارا ہوا یہ مختصر سفر بھی ایک ایسی خوب صورت یاد بن گیا جو آج تک میرے دل و دماغ میں محفوظ ہے۔
اس کے بعد بھی جب کبھی ڈاکٹر صاحب کا کراچی آنا ہوتا، خصوصاً جب ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب انہیں اپنے ادارے میں لیکچرز کے لیے مدعو کرتے، تو میں ضرور حاضر ہوتا۔ اس بہانے نہ صرف ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہو جاتی بلکہ اُن کے سیر حاصل علمی بیانات سے استفادہ کرنے کا موقع بھی ملتا۔ اُن کی گفتگو میں علم و بصیرت کی ایسی وسعت ہوتی کہ ہر نشست اپنے اندر ایک مستقل علمی درس کا درجہ رکھتی تھی۔اگر کبھی کسی وجہ سے میں اُن کے لیکچر میں شریک نہ ہو پاتا تو اگلے ہی روز ڈاکٹر صاحب کا ٹیلی فون آ جاتا، یا پھر ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کے توسط سے اُن کا سلام پہنچ جاتا۔ یہ اُن کی شفقت اور محبت کا ایسا انداز تھا جسے میں آج بھی قدر و محبت سے یاد کرتا ہوں۔
ڈاکٹر صاحب سے آخری ملاقات اُس وقت ہوئی جب وہ جامعۃ الرشید کے سالانہ کانووکیشن ۲۰۱۰ء میں مدعو تھے۔ اس موقع پر اُن کا آخری علمی خطاب بھی سننے کا موقع ملا، جس سے حاضرین نے بھرپور استفادہ کیا۔ مجھے بھی اُن سے ملاقات کا ایک مختصر سا رسمی موقع میسر آیا۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب کی واپسی پہلے سے طے تھی، اس لیے وہ اگلی صبح اسلام آباد روانہ ہو گئے۔پھر ۲۶ ستمبر کو اچانک یہ خبر ملی کہ پیکرِ علم و عمل، جود و سخا کی نگاہ رکھنے والا، محبت و شفقت کا امین، احترام و اکرام کا منبع اور اپنے وسیع علم سے تشنگانِ علم کو سیراب کرنے والا وہ شخص، جو ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند اپنے اندر علم کا ایک بے کراں خزانہ لیے ہوئے تھا، دنیا والوں کے لیے اپنا انمول علمی سرمایہ لٹا کر داعیِ اجل کو لبیک کہہ گیا۔مجھے کیا معلوم تھا کہ کل تک جس عظیم شخصیت نے میرے والدِ محترمؒ پر محبت و عقیدت سے مضمون لکھا تھا، ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ مجھے اسی علمی شخصیت کی یاد میں اپنے رسمی تاثرات قلم بند کرنے کی کوشش کرنا پڑے گی۔
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی رحلت میرے لیے محض ایک عالم کی وفات نہ تھی، بلکہ ایک ایسے شفیق بزرگ، صاحبِ علم اور صاحبِ بصیرت شخصیت سے محرومی تھی جس سے وابستگی میرے لیے ہمیشہ باعثِ اعزاز رہی۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحبؒ کے درجاتِ بلند فرمائے، اُن کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور اُن کے چھوڑے ہوئے علمی خزانے سے آنے والی نسلوں کو بھی اسی طرح فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔