ظرفِ لاجواب، کرم بے مثال ہے
مجھ جیسا آ گیا ہے مدینہ کریم ہے
میں جب بھی مدینہ آتا ہوں، واپس جانے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ رسولِ خدا اتنے مہمان نواز ہیں کہ جانے ہی نہیں دیتے۔ دل تو کب کا اُن کا ہے، روح کھینچتے رہتے ہیں۔ ابھی چند لمحے پہلے قرآنِ کریم کے رحل، جو مسجدِ نبوی میں جگہ جگہ پڑے ہوتے ہیں، اٹھائے، اُن پہ سر رکھا اور سیدھا نبی کریم ﷺ کے گنبدِ خضریٰ اور جالیوں کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد اٹھا کہ چلو چائے پی کر آتا ہوں، مغرب کی نماز کے لیے تازہ دم ہو کر آؤں گا، مگر چند قدم آگے بڑھا ہی تھا کہ دل نے پیچھے مڑنے کا سوچا، اور سبز جالیوں سے آگے آیا تو سوچا کل پرسوں مدینہ سے واپسی ہوگی تو پھر کیا کروں گا۔ بیٹھ گیا اور رونے لگ گیا۔
I love you یا رسول اللہ، I love you۔
یہاں تو نیک لوگ آتے رہتے ہیں، ہم گنہگار جب آتے ہیں تو صبح شام اپنی سوچوں میں رہتے ہیں اور آپ کی شفاعت کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ صبح حدیث پڑھی کہ جو روضۂ مبارک پہ حاضری کے لیے آتے ہیں، نبی کریم ﷺ کہتے ہیں مجھ پہ اُن کی شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔ بس پھر آتا رہتا ہوں اور سوچتا ہوں، اللہ سے دعا مانگتا ہوں کہ کبھی یہاں آنا بند نہ ہو۔
جب بوڑھوں اور ضعیفوں کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں، اللہ بس مجبور مت کرنا اور کسی کا محتاج مت کرنا درِ نبی پہ آنے کے لیے۔ موت اِدھر ہی دینا اور اِدھر ہی دفنانا۔ حدیث میں آتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو تم میں سے مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھے وہ یہیں مرے، کیونکہ جو یہاں مرتا ہے میں اُس کی شفاعت کروں گا۔ (ترمذی، حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ)
ستمبر کافی گرم مہینہ ہوتا ہے۔ پھر سوچتا ہوں، اللہ بعد از مرگ اصل گرمی سے بچانا۔ مدینہ میں لانڈری کا کام زیادہ تر پاکستانی کرتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے کپڑے اور احرام دیے، دھونے اور پریس کرنے کے لیے۔ اللہ جانتا ہے، خرابی ہو رہی تھی دکان میں گرمی کی تپش سے۔ میں نے پاکستانی سے کہا، اللہ کرے آپ کی دکان میں اے سی لگے تاکہ گرمی کم ہو۔ اُس نے عجیب جواب دیا، کہتا ہے گرمی اچھی ہے، اعمال ٹھیک کر لیں، آنے والی گرمی کے لیے تیار ہو جائیں۔ میں نے کہا یار، آپ تو مدینہ میں رہتے ہیں، آپ لوگوں کے لیے گرمی نہیں ہوگی، اور اِن شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ کچھ بھی ہو، رہتے تو مدینہ میں ہو۔
ہم تو آتے ہیں، پھر چلے جاتے ہیں، اور سرکار کی آمد اور توجہ کے منتظر رہتے ہیں، پتا نہیں اگلا بلاوا کب آئے گا۔
I love you یا رسول اللہ۔
میں قربان، میرے ماں باپ آپ پہ، آپ کی آل پہ قربان، بس یہی کہنا ہے۔ دنیا میں بلاتے رہنا اپنے در پہ۔ جانتا ہوں اِس قابل نہیں، نہ مہمان کوئی خاص ہوں، بس دل لگا بیٹھا ہوں آپ سے، ورنہ میری کیا اوقات۔
یہی آخرت میں بھی، کہ پہچان لینا، ورنہ میری کیا اوقات۔
عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کے لیے مدینہ منورہ صرف ایک شہر نہیں، بلکہ روح کی آخری پناہ گاہ ہے۔ جب ایک طالب اپنی تمام تر کمزوریوں اور گناہوں کے بوجھ کے ساتھ درِ اقدس پر حاضر ہوتا ہے، تو سرکارِ دو عالم ﷺ کی رحمت کی بے پایاں چادر اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے واپسی کا خیال ہی دل کو تڑپا دیتا ہے۔ مدینہ کی فضاؤں میں جو سکون اور سفیرِ رحمت کی مہمان نوازی کا احساس ہے، وہ انسان کو دنیا کے ہر رشتے اور ہر آسائش سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ یہ عشق ہی تو ہے جو ایک بندے کو بارگاہِ رسالت میں بلکنے پر مجبور کرتا ہے اور اس کی آہ و زاری کو شفاعت کی سند بنا دیتا ہے۔
جہاں عشق اور جذبات کی یہ شدت انسان کو بے خود کر دیتی ہے، وہاں درِ نبی ﷺ کی عظمت کا اصل تقاضا یہ بھی ہے کہ اس عقیدت کو اطاعت اور عمل کی روشنی دی جائے۔ مدینہ کی گرمی ہو یا دنیا کی آزمائش، یہ ہمیں آخرت کی فکر اور اپنے اعمال کی اصلاح کی یاد دلاتی ہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ سے سچی محبت کا پہلا پیغام ان کی سنتوں پر چلنا، مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور ان کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا ہے۔ روضۂ اطہر کی حاضری اگر دل میں روحانی بیداری اور اعمال میں پاکیزگی پیدا کر دے، تو یہی وہ حقیقی شفاعت کی زمین تیار کرتی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتی ہے۔
درِ نبی ﷺ کا ذکر ہو اور دل درِ حسینؑ کی طرف نہ مڑے، یہ ہو نہیں سکتا۔ درِ حسینؑ کا عشق اور درِ نبی ﷺ کا درد، نصیب والی بات ہے۔ دونوں میں بہت سی خوبیاں ایک ساتھ ہیں۔ آپ دونوں در پر جائیں گے تو آپ کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی، اور سب سے بڑھ کر، وہاں آپ کے ساتھ یکساں طور پر، انصاف پر مبنی انداز میں برتاؤ کیا جائے گا۔ آپ سے محبت کی جائے گی، اور آپ کو یہ احساس دلایا جائے گا کہ آپ درِ حسینؑ اور درِ رسول ﷺ پر موجود ہیں۔ بہت ہی خوبصورت ہستیاں ہیں دونوں۔
درِ حسینؑ پر لکھے یہ اشعار دل کی حالت بیان کرتے ہیں۔ یہ مصر، قاہرہ میں درِ حسینؑ یعنی مسجدِ حسین کے اندر، محراب کے اوپر، سبز سنگِ مرمر پر سنہری حروف میں کندہ ہیں۔ سعاد ماہر اپنی کتاب ”مساجد مصر وأولياؤها الصالحون“ میں لکھتی ہیں کہ گنبد کے نقوش امام شافعیؒ کے گنبد کے نقوش سے ملتے جلتے ہیں، اور محراب کے اوپر یہ قصیدہ سنہری پانی سے لکھا گیا، جسے خطاط البلخی نے ۱۱۸۷ ہجری میں رقم کیا۔ مطلع ہے:
أَلَا إِنَّ تَقْوَى اللهِ خَيْرُ البَضَائِعِ
وَمَنْ لَازَمَ التَّقْوَى فَلَيْسَ بِضَائِعِ
”سن لو! اللہ کا تقویٰ بہترین سودا ہے، اور جس نے تقویٰ کا دامن تھام لیا، وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔“ عربی میں ”البَضائع“ (سوداگری کا مال) اور ”بِضائع“ (ضائع ہونے والا) کا جو جناس ہے، وہی اِس شعر کی جان ہے۔ اور ہم فقیروں کے پاس تو یہ سودا بھی کم ہی ہوتا ہے بس ایک اُمید ہوتی ہے کہ اِس در پر خالی ہاتھ کو بھی کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے۔
آگے ایک اور شاعر اُنہی سنہری نقوش کا ذکر کرتا ہے جن پر نظر پڑتے ہی دل ٹھہر جاتا ہے:
فَهٰذَا لِوَاءُ النَّصْرِ لَاحَتْ نُقُوشُهُ
مُطَرَّزَةً بِالتِّبْرِ حُسْنَ الصَّنَائِعِ
”یہ نصرت کا پرچم ہے، جس کے نقوش جگمگا اُٹھے .
اِس بارگاہ کے بارے میں شاعر کہتا ہے:
تَحِنُّ لَهُ كُلُّ الوَرَى بِالطَّبَائِعِ
”ساری خلقت فطرتاً اِس کی طرف کھنچی چلی آتی ہے۔“ اور ایک جگہ کہا:
مَقَامُ النَّبِيِّ بَدِيعُ المَوَاضِعِ
”نبی ﷺ کا مقام سب جگہوں سے نرالا ہے۔“ پھر شاعر اہلِ بیت کو براہِ راست پکارتا ہے:
فَيَا آلَ طٰهٰ يَا ذَوِي الفَضْلِ
”اے آلِ طٰہٰ! اے صاحبانِ فضل!“ اور یہیں سے قصیدہ اپنے سب سے حسین مصرعے پر پہنچتا ہے:
نَسَخْتُمْ مِنَ الأَحْشَاءِ حُبَّ سِوَاكُمُ
”آپ نے دل کی گہرائیوں سے، اپنے سوا ہر محبت منسوخ کر دی۔“ اگلے مصرعے میں شاعر اِسی ”نسخ“ کو جدِّ امجد ﷺ کی شریعت سے جوڑ دیتا ہے یعنی جس طرح نبی کریم ﷺ کی شریعت نے پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا، بالکل اُسی طرح اہلِ بیت کی محبت نے دل کے اندر سے ہر دوسری محبت منسوخ کر دی۔ اِس سے بڑی بات کوئی عاشق کیا کہے گا۔
اور آخر میں وہ شعر، جس کے اندر تاریخ چھپی ہوئی ہے:
وَإِشْرَاقُ نُورِ اللهِ لَاحَ مُؤَرِّخًا
لِمَنْ زَارَ آلَ البَيْتِ جَمْعُ المَنَافِعِ
”اللہ کے نور کی چمک تاریخ بن کر ظاہر ہوئی: جو اہلِ بیت کی زیارت کو آئے، اُس کے لیے ساری منفعتیں جمع ہیں۔“ اور یہ محض شعر نہیں ابجد کے حساب سے آخری مصرعے کے حروف جوڑیے تو پورے ۱۱۸۷ بنتے ہیں، ٹھیک وہی سن جس میں یہ قصیدہ لکھا گیا۔ پرانے نقاشوں کا یہ انداز تھا کہ تاریخ الگ سے نہ لکھتے، بلکہ اُسی مصرعے میں چھپا دیتے تھے۔ یعنی ڈھائی سو برس پہلے کسی نے درِ حسینؑ کی دیوار پر لکھ دیا تھا کہ یہاں آنے والا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا اور آج بھی، جو وہاں جا کر کھڑا ہوتا ہے، اُسی بات کی گواہی دیتا ہے۔
میں وہاں جا کر فقیر اور بھکاری بن جاتا ہوں۔ وہاں ویسے بھی شاہوں اور فقیروں میں فرق نہیں ہوتا، بلکہ سچ کہوں تو غلاموں اور فقیروں کی وہاں عزت زیادہ ہے۔ اور بادشاہ بھی وہاں فقیر ہی تو بن کر جاتے ہیں سلام کرنے، حاضری دینے۔
میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ کبھی یہاں آنا بند نہ ہو، کبھی حاضری پر پابندی نہ لگے۔ ورنہ فقیر کہاں جائیں گے؟ کیا کریں گے؟ رسول اللہ ﷺ اور حسینؑ سے تو رشتہ دنیا سے زیادہ آخرت کا ہے۔ ایک طرف جنت کو بھی رکھا ہوا ہے اور دوزخ کو بھی۔ ہم جیسے تو وہاں دل کی مرادیں لے کر جاتے ہیں۔