فطری آزادی اور معاشرتی دباؤ کے درمیان کشمکش میں رہتے حساس لوگوں کا المیہ

محترمہ رابعہ سید صاحبہ ہزارے سے تعلق رکھنے والی اسلام آباد میں مقیم ایک لائق صحافی، جرآت مند سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور قرآن کریم کے درس و تدریس سے منسلک ایک باوقار، مہذب، شائستہ اور سنجیدہ خاتون ہیں۔ ہم ایک عرصے تک ایک ویب سائٹ پر ساتھ لکھتے رہے ہیں اور اب بھی فیس بک پر ان کے خیالات اور کالمز وقت بہ وقت ملاحظہ کر رہا ہوں۔ آپ کے خیالات واضح، تحریری اسلوب سادہ، طرزِ تخاطب معقول اور زیر بحث موضوعات نہایت اہم ہوتے ہیں۔

رابعہ سید صاحبہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ زندگی کے بارے میں ایک حقیقت پسندانہ اور حریت پسند نقطہ نظر رکھتی ہیں۔ آپ کے خیالات اور کالمز پڑھ کر زندگی اور اس سے جڑے مختلف احوال اور حقائق کے بارے میں زبردست جانکاری میسر آتی ہے۔ آپ لاگ لپیٹ رکھے بغیر جو کچھ درست سمجھتی ہیں اس کو سلیقے سے بیان کرنے پر قادر ہیں اور یوں وہ زندگی اور لوگوں کو سمجھنے سمجھانے میں ایک قابل ذکر کنٹری بیوشن شامل کر رہی ہیں۔ حال ہی میں ایک پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ

"کامیابی کی بنیاد اُس وقت رکھ دی جاتی ہے، جب آپ باتوں کو خود سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں…!!”

جس پر میں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ

"آپ کی بات درست ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اس بات کی اجازت قطعاً نہیں کہ کوئی خود سے باتوں کو سوچنے سمجھنے کی جسارت کرے۔ یہاں بے شمار ایسے عناصر اور عوامل ہیں جو انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور ارادے پر باقاعدہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس لیے مناسب طرزِ عمل یہ ہے کہ بس انسان "ففٹی ففٹی” کے اصول پر چلے، کبھی خود سے سوچنے سمجھنے کی جسارت کرے اور کبھی اس معاملے میں سامنے موجود حالات کا لحاظ بھی۔”

آئیے اس موضوع پر ذرا تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں اور اس بات کی کوشش بھی کہ کیا آزادی اور پابندی کے تقاضوں کو ایک ساتھ نبھایا جا سکتا ہے یا کسی ایک لائن پر لازماً کھڑا ہونا ضروری ہے؟۔

مندرجہ بالا پوسٹ میں ظاہر خیال اپنی جگہ بالکل درست ہے کیونکہ جب تک انسان خود زندگی کو آزادانہ طور پر سمجھنے کا موقع اور ماحول نہیں پاتا تو وہ ایک سوچے سمجھے عمل کا راستہ کبھی اختیار نہیں کرسکتا تاہم ہمارے معاشرے میں یہ ایک حقیقت ہے کہ خود سے سوچنے سمجھنے کی جسارت کرنے والوں کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ایسے افراد کو اکثر تنقید، مخالفت اور بعض اوقات سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے لوگ سوچنے سمجھنے کی آزادی کے بجائے روایتی راستوں پر چلنا پسند کرتے ہیں۔

انسان سوچے کچھ اور کہے کچھ، دیکھے کچھ اور بتائے کچھ، سمجھے کچھ اور سمجھائے کچھ، سہے کچھ اور دکھائے کچھ، سنے کچھ اور بولے کچھ، چاہے کچھ اور پائے کچھ تو ایسے حالات میں لامحالہ دو طرح کے نتائج پیدا ہوتے ہیں ایک سخت قسم کی اذیت اور دوم نرم قسم کی منافقت۔ ایک ذاتی زندگی کا المیہ ہے اور دوسرا اجتماعی کا سانحہ۔ آزادی، تحفظ اور احترام ہر انسان کے وہ حقوق ہیں جن پر اللہ، تاریخ، شریعت، ضمیر اور عقل نے مل کر مہر تصدیق ثبت کر دیئے ہیں لیکن جبر اور جہالت کے نرغے میں دور تک چلے جانے والے معاشروں میں ان بنیادی حقوق سے انکار کیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں آزادانہ اور فطری سوچ کے راستے میں متعدد رکاوٹیں ہر طرف سر اٹھائے کھڑی ہیں۔ کہیں طاقت حائل ہے، تو کہیں عقیدت، کبھی سماجی دباؤ راستہ روکتا ہے، تو کبھی ثقافتی تفریق، معاشی مجبوریوں کے تقاضے بھی سامنے ہیں اور سیاسی احوال کے قرینے بھی۔ انسان زندگی بھر مختلف اندازوں اور رویوں کی سطح پر سرگرداں رہتا ہے، مگر بے سوچے سمجھے صبح و شام کرتا ہے۔ نہ ایمان کی مٹھاس پاتا ہے، نہ اطمینان کی حلاوت، نہ خوشحالی میں حصہ دار ہوتا ہے، نہ حقائق کے ادراک میں۔ اور یوں کسی دن اچانک موت کی وادی میں اتر جاتا ہے۔

ان حالات میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر انسان کرے کیا؟ کیا وہ آنکھیں بند کر کے ہر بات مان لے، یا پھر ہر معاملے میں کھلی بغاوت پر اتر آئے؟ جرات اور مصلحت کا تقاضا ہے کہ انسان کسی جانب نہ جھکے بلکہ توازن اور اعتدال کا راستہ اپنانے اور یہیں پر "ففٹی ففٹی” کا اصول کام آتا ہے یعنی ایک متوازن طرزِ عمل جو نہ آندھی تقلید کی دعوت دیتا ہے اور نہ ہی بے سوچے سمجھے بغاوت کی۔

"ففٹی ففٹی” کا اصول دراصل حکمت اور تدبر کا اصول ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کبھی خود سے سوچنے سمجھنے کی جسارت بھی کرے اور کبھی اپنے گرد و نواح کے حالات اور حقیقتوں کا لحاظ رکھے۔ یہ اصول انسان کو نہ اندھی تقلید کی طرف دھکیلتا ہے اور نہ بے مقصد بغاوت یا لامحدود آزادی کی طرف۔ یہ وہ درمیانی راستہ ہے، جو عقل و حکمت اور احساس و ادراک سے پوری طرح روشن ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے ہمیشہ حالات سے مکمل بغاوت نہیں کی، بلکہ حکمت سے کام لیا۔ انہوں نے اپنے خیالات کو وقت اور ماحول کے مطابق ڈھالا، مخالفت کا سامنا بھی کیا مگر اپنے اصولوں سے دستبردار نہیں ہوئے۔ یہی وہ مناسب طرزِ عمل ہے جو "ففٹی ففٹی” کے اصول میں پوشیدہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں خود سے سوچنے کی جسارت کو فروغ دینے کے لیے سب سے پہلے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو رٹے کی تعلیم کے بجائے تنقیدی سوچ، سوال کرنے کی صلاحیت اور تجزیے کی مہارت سکھانی ہوگی۔ جب تک تعلیمی نظام آزادانہ طور پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو پروان نہیں چھڑائے گا، تب تک معاشرہ آزادی کا خوگر بنے گا اور نہ ہی ترقی کر سکے گا۔

دوسری طرف، خاندانی سطح پر بھی بدلتے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے باہم ہم آہنگ رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سوالات کو سراہیں، انہیں سوچنے کی ترغیب دیں اور غلطی کرنے پر تنقید کے بجائے باقائدہ سمجھائیں۔ جب گھر میں آزادی سے سوچنے سمجھنے کے لیے درکار ماحول میسر ہوگا تو بچے بڑے ہو کر خود اعتمادی اور قوت فیصلہ سے مالامال ہوں گے۔

سماجی سطح پر بھی ہمیں رواداری اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا۔ مختلف آراء کا احترام، اختلافِ رائے کو جرم نہ سمجھنا اور دوسروں کے نقطہ ہائے نظر کو سننے کی عادت ڈالنا وغیرہ یہ سب وہ عناصر ترکیبی ہیں جو کہ ایک صحت مند، مطمئن اور باہم مربوط معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔

میڈیا کا کردار بھی اس معاملے میں نہایت اہم ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ بیانیوں کے بجائے مختلف آراء کو انصاف کے ساتھ نمایاں کرے، حقیقت پسندانہ اور متوازن رپورٹنگ کرے اور عوام کو سوچنے سمجھنے کی دعوت دے۔ جب میڈیا آزاد، ذمہ دار اور غیر جانبدار ہوگا تو عوام بہتر انداز میں چیزوں کو سوچنے سمجھنے پر قادر ہوں گے۔

یہ بات طے ہے کہ کامیابی کی بنیاد خود سے سوچنے سمجھنے کی جسارت میں ہے، مگر اس جسارت کے ساتھ ضروری صبر اور حالات کا شعور بھی لازم ہے۔ "ففٹی ففٹی” کا اصول ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ نہ اندھی تقلید کریں اور نہ بے سوچے سمجھے بغاوت۔ اپنے اندر سوچنے کی ہمت ضرور پیدا کریں، مگر ساتھ ہی اپنے ارد گرد کے حالات کا ضروری ادراک اور احترام بھی۔

اگر ہم مل کر معاشرے میں ایک متوازن طرزِ عمل اپنائیں گے یعنی جس میں سوچنے سمجھنے کی آزادی بھی ہو اور موجود حالات کا شعور و ادراک بھی تو ہم نہ صرف انفرادی سطح پر کامیابی حاصل کر سکیں گے، بلکہ اس سے اجتماعی سطح پر بھی ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو سچائی، آزادی، انصاف، احساس اور گرد و نواح میں موجود حقائق و احوال کے ادراک کے مطابق سچائی اور جرات سے سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے