پاکستان اور عالمی امن کانفرنس گورنر ہاؤس لاہور کی مشترکہ قرارداد !

کانفرنس میں سیاسی ، سماجی اور مذہبی تنظیموں نے متفقہ قراداد پیش کی ۔ جس کا متن حسب ذیل ہے ۔

معرکہ حق میں فتح کے بعد پاکستان نے جنوبی ایشیا کی دفاعی و سیاسی پوزیشن تبدیل کی ۔

امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات صرف پاکستانی قیادت نے کرائے ۔جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ناممکن تھا۔ خصوصا ایسے موقع پر جب دنیا کی ٹریلین ڈالرز اکانومی تباہی کے دھانے پر تھی پاکستان نے عالمی معیشت کو سہارا دیا ۔

کانفرنس کا متفقہ موقف ہے کہ پاکستان نے دنیا کو امن کا پیغام دیکر عالمی سطح پر ہندوستانی پروپیگنڈہ بے نقاب کیا ، اب داخلی اور مقامی بیانیہ بھی تبدیل کرنے کا وقت ہے ۔

میڈیا ، سول سوسائٹی ، تھنک ٹینکس ، مذہبی سیاسی جماعتیں ، عسکری قیادت کو متفق ہوکر عالمی چیلنجز کو ایڈریس کرنا ہوگا ۔ جو کہ داخلی یکجہتی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پاکستان علاقائی پوزیشن سے نکل کر عالمی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے لہذا اب پاکستان کو بیانیہ بھی عالمی ہونا چاہیے ۔

کانفرنس کے میں شریک رہنماؤں نے امریکہ اور ایران سے پاکستان کی جنگ بندی کی اپیل کی تائید کرتے ہوئے متفقہ قرار داد پیش کیا ۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن کے لئے آخری کامیاب کوشش ہے۔ لہذا فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کرکے مذاکرات کی میز پر آجائیں ۔

مذاکرات کے تعطل کو ختم کرکے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کو آگے بڑھایا جائے ۔

کانفرنس شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معرکہ حق کی عظیم الشان فتح اور ایران امریکہ امن مذاکرات کے بعد ہمیں معاشی مواقع تلاش کرنے ہونگے ۔

کانفرنس کے شرکاء نے معرکہ حق کے دوران پاکستانی عوام ، سیاسی و مذہبی و سماجی تنظیموں اور میڈیا نے جس طرح افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کردار کو سراہا ۔
کانفرنس شرکا نے عالمی امن کیلئے پاکستانی قیادت کے اقدامات خصوصا مکہ دفاعی معاہدے کو سراہا اور اسے عالمی امن کیلئے سنگ میل قرار دیا ۔

کانفرنس شرکا نے متفقہ قرادار میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ، وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ، مکہ دفاعی معاہدے سمیت عالمی امن کیلئے کاوشوں پر خراج تحسین پیش کیا ۔

کانفرنس کے شرکاء نے ملک کے تمام صوبوں اس طرح کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔

مہمان خصوصی سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کانفرنس میں شرکت کرنےوالے مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کانفرنس کے منتظمین پی پی اے ایف (PPAF ) , اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امورIRCRA کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ایسے اہم وقت میں ملک بھر میں ایسے مکالموں اور کانفرنسز کا آغاز کرکے پاکستان عالمی امن اور ترقی کے کردار کو آگے بڑھایا ۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ایسے مجالس کو واشنگٹن ، بیجنگ ، برسلز، جینوا ، ویانا، ماسکو اور لندن میں بھی ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کا بیانیہ ہر عالمی فورم پر جائے ۔اور اس مقصد کیلئے ایسے تھنک ٹینکس کے ساتھ اشتراک عمل سے یہ سلسلہ آگے بڑھنا چاہیے ۔

کانفرنس میں شریک تمام مذاہب کے قائدین ، تمام سیاسی اور سماجی تنظیموں نے قومی بیانیہ پیغام پاکستان ، سمیت اسلام آباد اعلامیہ برائے عالمی امن و ہم آہنگی ، اور قیام امن کیلئے داخلی اور خارجی سطح پر پرامن بیانیوں کی تشکیل ، نوجوانوں کی شمولیت اور ملکی استحکام پر اتفاق کیا ۔

انتہاپسندی اور دہشت گردی کی روک تھام ، قومی بیانیہ پیغام پاکستان کے ذریعے امن ، برداشت اور ہم آہنگی کیلئے ٹھوس لائحۂ تجاویز اور لائحۂ عمل پیش کیا گیا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے