جائیں تو جائیں کہاں؟

اب میں کیا کروں ، بہت سی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہوں ، مگر ہر دفعہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً جب میں اپنے قریب سے گنوں سے لبالب بھری اور اچھی طرح پیک کی ہوئی کوئی ٹرالی گزرتے دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ گاڑی روک کر ٹرالی میںسے ایک گنا کھینچ لوں اور اس کے چھلکے اتار کر وہیں کھانا شروع کر دوں ۔ لاہور کی چوڑی سڑکوں پر سے گزرتے ہوئے مجھے گلہ بکریاں والا کوچہ وزیر آباد میں اپنے گھر کی گلی یاد آتی ہے، جس کے ایک طرف سے داخل ہونے والی گلی کشادہ تھی اور دوسری گلی سے دوبارہ بازارکی طرف لے جانے والی گلی اتنی تنگ تھی کہ سامنے سے آنے والے کی کیا مجال تھی کہ وہ ریورس لگا کر واپس بازار میں نہ جائے اور پھر میں ادھر سے گزرسکوں ۔ مجھے اپنے گھر کےقریب واقع وہ خالی پلاٹ بھی یاد آتا ہے جسے ہم بچے کھولا، کہتے تھے اور اللہ جانے کیوںکہتے تھے۔ جی چاہتا ہے کہ اگر آج بھی بچے وہاں گلی ڈنڈا، پٹھو گرم اور کوکلا چھپا کی کھیلتے ہیںتو میں ایک دفعہ وہاں کھڑے ہو کر پھر سے یہ منظر دیکھ سکوں۔

مجھے اے بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور کا وہ گھر بہت یاد آتا ہے جسکے برآمدے کے شیڈ کو میں چھلانگ لگا کر اپنے ہاتھوںکی گرفت میں لیتا تھا اور پھر دسیوں بار اپنے پورے جسم کو شیڈ سے اوپر لے جاتا اور پھر باربار نیچے سے اوپر جاتا۔ مجھے اپنے ماڈل ٹاؤن والے گھر کی وہ بھینس بھی بہت یاد آتی ہےجسے میں سیر کرانے اور کسی چھپڑ میں نہلانے کیلئے گھر سے نکلتا تھا اور بھینس کے واپس گھرجا کر چارہ کھانے کی خواہش کے باوجود اپنے ہم عمروں کے ساتھ دوڑیں لگانے میںمصروف رہتا تھا۔ کئی دفعہ یہ بھینس چھپڑ میں سے نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی اور ایسا عموماًگرمیوں کے موسم میں ہوتا تھا۔ پھر مجھے لنگر لنگوٹ کس کر میدانِ کارزار میں اترنا پڑتاتھا۔ مجھے وہ انگیٹھی بھی یاد آتی ہے جس میں لکڑی کا برادہ کوٹ کوٹ کر بھرنے کی ذمہ داری میری ہوتی تھی کہ اس زمانے میں سوئی گیس نام کی چیز کہاں ہوتی تھی ؟ لوگ یا تو چولہے میں لکڑیاں جلا کر کھانا پکاتے تھے یا پھر لکڑی کے برادے سے یہ کام لیا جاتا تھا۔ مجھے یہ کام برا لگتا تھا۔ میرا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یا تو میرا نک نیم شہزادہ نہ رکھا جاتا تا کہ اس نام کی تھوڑی بہت لاج تو رہ جاتی ۔ مگر اب سب کچھ ایک خوشگوار یاد کی طرح میرے ساتھ رہتے ہیں۔ اور ہاں میں اباجی کا حقہ بھی بھرا کرتا تھا۔ ابا جی اپنی حقہ نوشی کو پسند نہ کرتے تھے۔ میں حقے کی نالی میں سے پانی گزار کر اس کی صفائی کرتا اور اس کے بعد چلم میں تمباکو کی مناسب مقدار اور دہکتے ہوئے کوئلے بڑے سلیقے سے دھرتا۔

یہ اہتمام کرنے کے بعد حقہ چالو کرنے کیلئے میں اس کی باری لگاتا یعنی تین چار لمبے لمبے کش لیتا بلکہ اس وقت تک یہ شغل جاری رکھتا جب تک اباجی کی آواز نہ آتی اتنی دیر لگا دی ، کیا کر رہے ہو؟ دراصل مجھے حقے کی گڑگڑاہٹ بہت اچھی لگتی تھی۔چلیں یہ سمجھ لیں کہ مجھے حقے کی گڑ گڑاہٹ ہی بہت اچھی لگتی تھی۔ اب میں کیا کروں، یہ سب کام اگر کرنے کو نہیں تو کم از کم ایک بار پھر دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔ مثلاً مجھے لڈو کا کھیل بہت یاد آتا ہے اور اس وقت بہت غصہ آتا تھا جب سو کے قریب پہنچنے پر سانپ ڈنگ مارتا تھا اور واپس زیر و پر آنا پڑتا تھا۔ میں ایک بار پھر اُس نابینا فقیر کو دیکھنا چاہتا ہوں جو ہم دوستوں کے لڈو کھیلنے کے دوران بھیک مانگنے آجاتا تھا۔ مگر وہ کچھ مانگتا نہیں تھا ، صرف ایک آیت ( اسے آتی ہی ایک آیت تھی )اپنی انتہائی بے ہنگم آواز میں پڑھنے لگتا۔ ہم اسکی کرخت آواز سے بچنے کیلئے فوراً آنہ دو آنے اس کی نذر کر دیتے تھے اور وہ چلا جاتا تھا۔ ایک دن ہم نے اسے کہا کہ یار ! تم تلاوت نہ کیا کرو کہ اللہ خوبصورت لحن کو پسند کرتا ہے، بس چپ کر کے کھڑے ہو جایا کرو، ہم تمھیں کچھ دے دیا کریں گے۔ ایک روز ہم اپنی گیم میں اتنے مگن تھے کہ پتہ ہی نہیں چلا وہ کب سے ہمارا منتظر کھڑا ہے۔ اس نے کچھ دیر صبر کیا اور پھر کہا کچھ دیتے ہو کہ شروع کروں تلاوت ؟

یہ سب کچھ عمر کے اس حصے میں بھی میری یادوں کے ہمراہ ہے۔ مجھے یہ زمانہ بھی یاد ہے اور اس کے بعد کا زمانہ بھی۔ جب کچھ شہرت نصیب ہوئی ، جب میں کالج میں لیکچرار مقرر ہوا، جب نوائے وقت میں کالم نگاری شروع کی ، جب الحمرا آرٹس کونسل کا آٹھ سال تک چیئر مین رہا اور استعفیٰ دے دیا۔ جب پی ٹی وی کا چیئر مین بنا اور تین سال مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر استعفیٰ دے ڈالا۔ جب ناروے اور تھائی لینڈ میں پاکستان کی سفارت کا اعزاز حاصل ہوا اور ملک میں آمریت کی خبر سنتے ہی اسی وقت اپنا استعفیٰ وزارت خارجہ کو ارسال کر دیا۔ مگر ان تمام ادوار میں میرا بچپن، اس کی یادیں، جو مجھے ہمیشہ خوشگوار محسوس ہوئیں ، کل بھی میرے ساتھ تھیں اور آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ میرا حال اُس دیہاتی خاتون جیسا ہے جس کا شوہر اسے گاؤں سے بیاہ کر لایا اور پھر اپنے ساتھ سوئٹزر لینڈ لے گیا۔ اس دیہاتی خاتون کو ایک دفعہ اپنی ایک ہمجولی کا فون آیا اور اس کا حال احوال پوچھا تو اس نے آزردہ لہجے میں کہا "میں یہاں ذلیل ہو رہی ہوں اور آپ لوگ ٹیوب ویل میں تربوز ٹھنڈے کر کے کھا رہے ہیں۔”

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے