قلم کی حرمت اور انسانیت کی خدمت جب زندگی کا اوڑھنا بچھونا بن جائے، تو معاشرے کا ہر درد روح میںاترنے لگتا ہے۔ فلاحی کاموں اور عوامی رابطوں کے دوران میرا جن ماوں اور بہنوں سے روزانہ کا واسطہ پڑتا ہے، ان میں سے اکثریت کا تعلق اسی غیور متوسط طبقے سے ہے۔ یہ وہ مڈل کلاس مائیں ہیں جو نہ تو کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل رہی ہیں۔
جب یہ سفید پوش خواتین مجھ سے دل کا حال بیان کرتی ہیں، تو ان کے چہروں پر پھیلی زردی اور آنکھوں کا کرب صاف بتا دیتا ہے کہ وہ کس طرح اپنی عزتِ نفس اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے روز جیتی اور روز مرتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور آٹے کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے نے ان خاندانوں کے کچن اور بجٹ پر آخری وار کر دیا ہے۔ ہمارے شہر لاہور میں پٹرول 382 روپے 2 پیسے اور ڈیزل 389 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہو چکا ہے، جبکہ 5 کلو آٹے کا تھیلا مزید 115 روپے مہنگا کر کے پرچون میں 1,150 روپے کا کر دیا گیا ہے۔ رہی سہی کسر ایل پی جی کے 45 کلو والے سلنڈر نے پوری کر دی جو بلیک میں 25,000 روپے کا بک رہا ہے۔ یہ محض منجمد اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ ان کروڑوں سسکتے چولہوں کی داستان ہے جنہیں خاموشی سے بجھایا جا رہا ہے۔
متوسط اور لوئر مڈل کلاس لوگوں میں جاکر میں نے دیکھا ہے کہ جب سوئی گیس غائب ہوتی ہے، تو خواتین ایل پی جی یا لکڑی کا رخ کرتی ہیں۔ اب جب 17,100 روپے کا سرکاری سلنڈر مافیا کی من مانی سے 25,000 روپے میں بلیک ہو رہا ہو، تو وہ محدود تنخواہ دار طبقہ کہاں جائے جس کی آمدنی مہینے کے پہلے دس دن میں ہی ختم ہو جاتی ہے؟ گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے پہلے ہی خواتین کا جینا محال کر رکھا تھا، اب اس کمرشل سلنڈر کی بلیک مارکیٹنگ نے چھوٹے تندور والوں کو بھی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسی لیے شہر میں سادہ روٹی 20 اور نان 35 روپے کا ہو چکا ہے۔ جب ایک مڈل کلاس خاندان میں صرف پانچ افراد کے لیے دو وقت کی سوکھی روٹی کی خریداری ہی پورے مہینے کے بجٹ کو چاٹ جائے، تو وہاں غذائی قلت اور بچوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن کے سدِباب کے لیے ہم روزانہ اپنے فلاحی مراکز میں تگ و دو کرتے ہیں۔
ایک ماں جب اپنے بچے کو دودھ یا روٹی دینے سے قاصر ہوتی ہے، تو وہ کرب لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آٹے کی قیمت میں فی کلو 23 روپے کا یکمشت اضافہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ نجی کمپنیوں نے 5 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1,100 روپے مقرر کی، لیکن مارکیٹ میں وہ 1,150 روپے کا مل رہا ہے۔ فیلڈ ورک کے دوران بہت سی خواتین مجھے روتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اب وہ پورے مہینے کا راشن خریدنے کی سکت نہیں رکھتیں، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر چند گرام آٹا اور دال ادھار لاتی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مال برداری کے اخراجات بڑھا دیتا ہے، جس سے منڈی میں سبزی اور پیاز جیسی بنیادی چیزیں بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ پٹرول مہنگا ہونے سے مڈل کلاس کے وہ نوجوان جو بائیک چلا کر رزق کماتے ہیں یا دفاتر جاتے ہیں، ان کی آدھی تنخواہ صرف راستوں کی نذر ہو جاتی ہے۔
اس سارے بحران میں سب سے زیادہ دل خون کے آنسو روتا ہے یہ دیکھ کر کہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں بالکل بے حس ہو چکی ہیں۔ منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور ڈیلرز کا سرِعام سرکاری نرخناموں کی دھجیاں اڑانا اور انتظامیہ کا اس حوالے سے کوئی بھی ایکشن لینے سے گریزاں ہونا ہمارے پورے ریاستی نظام پر ایک طمانچہ ہے۔ منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دینا اور سرکاری نرخناموں پر عمل نہ کروانا سراسر ظلم ہے۔ جب قانون خاموش تماشائی بن جائے، تو فلاحی اداروں پر بوجھ حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ فلاحی ادارے کتنے ہی خاندانوں کو راشن پہنچا دیں، جب تک ریاست اپنا سرپرستانہ کردار ادا نہیں کرے گی، یہ سمندر کو چمچ سے خالی کرنے جیسا ہوگا۔
ایک سماجی اور قلمی کارکن کے طور پر میں گواہ ہوں کہ یہ معاشی پسماندگی اب ذہنی امراض اور گھریلو ناچاقیوں کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ غربت کی وجہ سے مڈل کلاس باپ اپنے بچوں کو نجی اسکولوں سے اٹھا کر یا تو سرکاری اسکولوں میں ڈال رہے ہیں یا پھر پڑھائی ہی چھڑوا رہے ہیں، مائیں علاج نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ رہی ہیں، اور سفید پوش لوگ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے خاموش موت کو گلے لگانا بہتر سمجھ رہے ہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پٹرول، آٹا اور گیس کسی سیاسی بحث یا نعرے کا حصہ نہیں، بلکہ انسان کی بنیادی ضرورت ہیں۔
میری حکومت، اربابِ اختیار اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور اپیل ہے کہ خدارا اس غریب کش مہنگائی کا نوٹس لیں۔ مارکیٹ میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو فعال کیا جائے اور بلیک مارکیٹنگ کرنے والے ڈیلرز کو جیلوں میں ڈالا جائے۔ خواتین اور بیواوں کے لیے آٹے اور ایندھن پر خصوصی فلاحی پیکجز اور براہِ راست سبسڈی دی جائے تاکہ کسی گھر کا چولہا بجھنے نہ پائے۔ اگر اب بھی ہم نے ان سسکتی ہوئی ماوں کی پکار نہ سنی، تو یاد رکھیں کہ بھوک جب حد سے بڑھتی ہے تو وہ پورے معاشرتی امن کو نگل جاتی ہے۔