کہتے ہیں کہ بستیاں تب اجڑتی ہیں جب وہاں ظلم عام ہو جائے اور معاشرے تب تباہ ہوتے ہیں جب غریب اور یتیم کی جان سستی ہو جائے۔ ملتان کی ایک چمکتی دمکتی اور پوش ہاﺅسنگ سوسائٹی ”رائل آرچرڈ“کی سنگلاخ سڑک پر چند روز قبل بربریت اور فرعونیت کا جو خونی کھیل کھیلا گیا، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ کسی فلم کا سکرپٹ نہیں، بلکہ ہمارے اپنے معاشرے کا وہ تاریک چہرہ ہے جہاں غریب ہونا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔ یہ کہانی ہے 15 سالہ معصوم یتیم لڑکے وسیم عباس کی، جو مظفر گڑھ کی غربت سے تنگ آ کر اپنے ہاتھوں میں ہنر کا چراغ روشن کرنے نکلا تھا، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہاں کا ایک ظالم اور بے رحم ٹھیکیدار اس کی زندگی کا چراغ ہی ہمیشہ کے لیے گل کر دے گا۔
مقتول وسیم عباس ایک بے آسرا بچہ تھا، جو گزشتہ 5،6 سال سے ملتان کے ایک نجی یتیم خانے میں مقیم تھا۔ یتیم خانے کی انتظامیہ نے چند دن پہلے ہی اسے اس امید پر ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بجلی کا کام سیکھنے کے لیے بھیجا تھا کہ بچہ بڑا ہو کر اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو سکے گا۔ لیکن بدقسمتی سے وہ ہنر سکھانے والے استاد کے پاس نہیں، بلکہ ایک جلاد کے چنگل میں پھنس گیا۔ چند ہی دنوں میں جب معصوم لڑکا ٹھیکیدار کے سخت رویے اور تلخ کلامی سے تنگ آ کر کام چھوڑ کر جانے لگا، تو اس بااثر ٹھیکیدار کی انا کو ٹھیس پہنچی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج نے دیکھنے والوں کے کلیجے چیر کر رکھ دیے ہیں۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک 15سالہ بچہ جان بچانے کے لیے سڑک پر آگے آگے بھاگ رہا ہے، جبکہ ٹھیکیدار توقیر نذیر اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کار میں کسی شکاری کی طرح اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اس سنگدل شخص نے انسانیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تیز رفتار گاڑی معصوم بچے پر چڑھا دی۔ گاڑی کی زوردار ٹکر لگنے سے غریب یتیم بچہ ہوا میں اچھل کر سڑک پر جا گرا اور سر پر شدید چوٹیں آنے کی وجہ سے اس نے موقع پر ہی تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ یہ منظر صرف ایک بچے کی موت کا نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی انسانیت کے قتل کا منظر تھا۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں ایک غریب اور یتیم مزدور کی جان کی قیمت ایک کار کے ایکسلریٹر سے بھی کم ہے؟ کیا کام چھوڑ کر جانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی سزا سیدھی موت مقرر کر دی جائے؟ وسیم عباس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ بے آسرا تھا، اس کا کوئی بڑا والی وارث نہیں تھا جو اس وقت اس فرعون صفت ٹھیکیدار کا ہاتھ روک سکتا۔ مقتول بچے کو تو سسکتے آنسوﺅں کے ساتھ مظفر گڑھ کے موضع دولت پور میں سپردِ خاک کر دیا گیا، لیکن اس واقعے نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
عوامی غصے کا پہلا اظہار ملتان کی مقامی عدالت میں دیکھنے کو ملا، جہاں ریمانڈ کے لیے پیشی کے موقع پر غصے سے بھرے ہوئے وکلاءنے ملزم توقیر نذیر پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کر دی، جو اس بربریت کے خلاف عوامی ردعمل کا ایک واضح ثبوت تھا۔ بعد ازاں، یہ کیس تفتیش کے لیے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ پنجاب کے حوالے کیا گیا۔ اور پھر قدرت کا وہ انصاف سامنے آیا جس سے کوئی ظالم نہیں بچ سکتا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم دورانِ حراست فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب ایک مبینہ پولیس مقابلے میں گولیوں کا نشانہ بن کر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ جو شخص کل تک ایک بے بس بچے کو گاڑی تلے کچل کر فرعون بنا ہوا تھا، آج وہ خود مٹی میں رول دیا گیا۔
اگرچہ مرکزی قاتل اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچ چکا ہے اور قدرت نے معصوم وسیم عباس کے خون کا حساب برابر کر دیا ہے، لیکن یہ سسکتا ہوا واقعہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور یتیم خانوں کی انتظامیہ کے لیے ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ وسیم عباس تو منوں مٹی تلے جا سویا، لیکن یتیم خانوں اور چائلڈ لیبر کی دلدل میں پھنسے ہزاروں دیگر بچے آج بھی معاشرے کے ایسے ہی بھیڑیوں اور فرعونوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ قاتل کی موت اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے، مستقل حل تب ہوگا جب ہم غریب اور امیر کے بچے کے لیے یکساں تحفظ اور انصاف کا نظام قائم کریں گے۔ جب تک ہمارے ملک میں کمسن مزدوروں کو تحفظ دینے کے قوانین پر سختی سے عمل نہیں ہوگا، تب تک رائل آرچرڈ کی سڑک پر پھیلا وہ معصوم خون ہمارے ضمیروں کا گریبان پکڑ کر سوال کرتا رہے گا۔ کاش ہم جاگ جائیں، اس سے پہلے کہ کوئی اور وسیم عباس ہنر سیکھنے کی قیمت اپنی جان دے کر چکائے!