سلمیٰ بٹ: معاونِ خصوصی سے صوبائی وزیر تک کا سفر

مشہور بین الاقوامی فلاسفر اور مفکر ارسطو کا ایک عظیم قول ہے کہ ”ہم وہی بنتے ہیں جو ہم بار بار کرتے ہیں۔ پس، عمدگی یا کامیابی کوئی ایک وقتی عمل نہیں، بلکہ یہ ہماری مسلسل عادت کا نام ہے۔“ جب ہم پاکستان کی موجودہ سیاست اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی انتظامی ٹیم کا جائزہ لیتے ہیں، تو ارسطو کا یہ فلسفہ مسلم لیگ (ن) کی متحرک رہنما سلمیٰ بٹ کی شخصیت پر بالکل پورا اترتا ہے۔

انہوں نے اپنی مسلسل محنت، عوامی خدمت کی عادت اور انتھک جدوجہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ سیاسی میدان میں اعلیٰ منصب کسی حادثے یا راتوں رات مِلنے والی کامیابی کا نتیجہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ سالہا سال کی قربانیوں کا صلہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اسی ”مسلسل عمدگی“ اور شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں 22 اکتوبر 2026 کو پنجاب کی صوبائی وزیر برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کے طور پر کابینہ میں شامل کیا گیا۔ یہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پنجاب حکومت میں اب عہدے صرف سفارش پر نہیں، بلکہ حقیقی کارکردگی اور عوامی خدمت کی بنیاد پر دیے جا رہے ہیں۔

سلمیٰ بٹ کا تعلق پنجاب کے تاریخی اور زندہ دل شہر گوجرانوالہ کے ایک معزز بٹ خاندان سے ہے۔ ان کا خاندان طویل عرصے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا نظریاتی حامی اور شریف خاندان کا وفادار رہا ہے۔ گوجرانوالہ کی مٹی سے وابستہ اس خاندان نے سیاست کو ہمیشہ طاقت کا سرچشمہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ اسی خاندانی ماحول نے سلمیٰ بٹ کے اندر بچپن ہی سے ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ ان کی تربیت ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں اصول پسندی، پارٹی سے وفاداری اور غریب پروری کو اولین ترجیح دی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے خاندانی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے سیاست کے میدان میں اپنے لیے ایک منفرد اور باوقار مقام پیدا کیا۔

سلمیٰ بٹ روایتی سیاست دانوں کی طرح صرف نعروں پر یقین نہیں رکھتیں، بلکہ وہ ایک انتہائی پڑھی لکھی، سلجھی ہوئی اور جدید ویژن رکھنے والی خاتون ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے نفسیات کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس کی بدولت وہ عوامی اور سماجی مسائل کو گہرائی سے سمجھنے اور لوگوں کی نفسیات کے مطابق ان کی داد رسی کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پبلک پالیسی اور بین الاقوامی ترقی کے میدان میں بھی اعلیٰ مہارت رکھتی ہیں۔ وہ امریکہ کے نامور اور معتبر تعلیمی ادارے کی گریجویٹ ہیں اور انہوں نے اردن میں واقع اقوامِ متحدہ کی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل فیلوشپ بھی حاصل کر رکھی ہے۔ اس بین الاقوامی تعلیم اور تربیت نے انہیں انتظامی امور، پالیسی سازی اور عوامی مسائل کو جدید خطوط پر حل کرنے کی گہری سمجھ بوجھ عطا کی۔ جب وہ یہ تمام تجربات حاصل کر کے وطن واپس لوٹیں، تو انہوں نے اسی علم کو اپنے ملک کے عوام کی حالت بدلنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کی سیاسی جدوجہد سالہا سال کی قربانیوں اور انتھک محنت پر محیط ہے۔ انہوں نے پارٹی کے اندر کسی بڑے عہدے کی خواہش کے بغیر بطور ایک عام کارکن اور سوشل ایکٹوسٹ کام شروع کیا۔ خاص طور پر 2018ءسے 2022ءکا دور، جو مسلم لیگ (ن) کے لیے سیاسی طور پر ایک انتہائی کڑا اور مشکل ترین دور تھا، اس دوران سلمیٰ بٹ فرنٹ فٹ پر نظر آئیں۔ انہوں نے پارٹی کے پیغام کو گلی گلی پہنچایا، خواتین اور نوجوانوں کو متحرک کیا اور آمریت پسند سوچ کے سامنے ڈٹ گئیں۔ انہوں نے میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور بالخصوص مریم نواز شریف کے ویژن کو آگے بڑھانے کے لیے دن رات ایک کیا۔ پارٹی قیادت نے ہمیشہ ان کی اس نظریاتی وابستگی، جرات اور پبلک پالیسی میں ان کی مہارت پر بھرپور اعتماد کیا۔

ان کی اسی طویل جدوجہد اور تعلیمی قابلیت کے اعتراف میں مسلم لیگ (ن) نے انہیں فروری 2024ءکے عام انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی کا ٹکٹ دیا، جہاں سے وہ کامیاب ہو کر ایوان میں پہنچیں۔ پنجاب میں جب مریم نواز شریف نے بطور پہلی خاتون وزیراعلیٰ اقتدار سنبھالا، تو انہوں نے صوبے کے سب سے اہم، عوامی اور حساس شعبے یعنی”فوڈ سیفٹی اور پرائس کنٹرول“ کی نگرانی کے لیے سلمیٰ بٹ کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا۔ یہ ایک ایسا چیلنج تھا جہاں بیوروکریسی کے ساتھ مل کر ملاوٹ، گراں فروشی اور ذخیرہ اندوز مافیا کا مقابلہ کرنا تھا۔

بطور معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے روایتی سیاست دانوں کی طرح دفتروں میں بیٹھ کر فائلیں چلانے کے بجائے عملی طور پر فیلڈ کا رخ کیا۔ انہوں نے پنجاب بھر کے بازاروں، ہوٹلوں، بیکریوں اور موٹروے پر موجود فوڈ آوٹ لیٹس پر خود اچانک چھاپے مارنا شروع کیے۔ ملاوٹ مافیا، باسی اور غیر معیاری کھانا فروخت کرنے والوں کے خلاف انہوں نے ایک بے رحم کریک ڈاون کی قیادت کی۔ مریم نواز کے ”صحت مند پنجاب“ کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے”چیف منسٹر اسٹریٹ فوڈ سیفٹی مشن“ کا آغاز کیا، جس کے تحت ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں کو صفائی ستھرائی کی مفت ٹریننگ دی گئی تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے عام آدمی کو بھی معیاری اور صاف ستھری خوراک مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے خاتمے کے لیے انہوں نے قیمتوں کی سخت مانیٹرنگ کی، جس سے عام عوام کو براہِ راست ریلیف ملا۔

کہتے ہیں کہ کارکردگی کبھی چھپتی نہیں ہے اور مخلصانہ محنت ہمیشہ اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ سلمیٰ بٹ کی دن رات کی اس فیلڈ ورک، پبلک پالیسی کی جدید سمجھ بوجھ اور ملاوٹ مافیا کے خلاف جرات مندانہ کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے، وزیراعلیٰ مریم نواز اور پارٹی قیادت نے انہیں مزید بااختیار بنانے اور بڑی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا۔ گورنر پنجاب نے 21 اکتوبر 2026 کو ان کی ترقی کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور اگلے ہی روز انہوں نے باقاعدہ صوبائی وزیر برائے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کا حلف اٹھایا۔

معاونِ خصوصی سے صوبائی وزیر کے عہدے تک کا یہ سفر اس بات کی علامت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں اب صرف کام اور میرٹ بولتا ہے۔ سلمیٰ بٹ کا کابینہ میں شامل ہونا پنجاب کی انتظامی گورننس اور فوڈ اتھارٹی کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند اقدام ہے۔ ان کا یہ سفر پاکستان کی ہر اس نوجوان لڑکی اور سیاسی کارکن کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنی محنت، اعلیٰ تعلیم اور سچی لگن کے بل بوتے پر ملک کی تقدیر بدلنا چاہتی ہے۔ عوام پرامید ہیں کہ سلمیٰ بٹ بطور وزیر اب مزید بااختیار ہو کر پنجاب کو ملاوٹ سے پاک اور صحت مند بنانے میں تاریخی کردار ادا کریں گی اور ارسطو کے اس فلسفے کو سچ ثابت کرتی رہیں گی کہ عمدگی کوئی وقتی عمل نہیں بلکہ ایک مستقل عادت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے