دنیا کو درپیش مسائل کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ جنگیں، موسمیاتی تبدیلی، عالمی تجارتی کشیدگی، مصنوعی ذہانت اور معاشی عدم استحکام ایسے چیلنجز ہیں جن سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا۔ ان مسائل نے عالمی اداروں کی کارکردگی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایسے حالات میں عالمی حکمرانی کا تصور اہمیت اختیار کر رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ممالک کے درمیان تعاون کو مؤثر بنانا ہے۔
اسی تناظر میں چین کے صوبے حہ بے کے شیونگ آن نیو ایریا میں گلوبل گورننس فورم 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے عالمی حکمرانی سے متعلق چین کے اقدامات کو عملی شکل دینے اور زیادہ منصفانہ و معقول عالمی حکمرانی کا نظام تشکیل دینے کے لیے آٹھ عملی اقدامات کا اعلان کیا،جن میں اقوام متحدہ کی اصلاحات کے عمل میں مسلسل فعال کردار ادا کرنا، "گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس” کے کردار کو مؤثر بنانا، عالمی حکمرانی کے تحقیقی مرکز کا قیام، "آؤٹر اسپیس گورننس کو مضبوط بنانے سے متعلق چین کا مؤقف” اور ” مصنوعی ذہانت کی صلاحیت سازی کے جامع منصوبے سے متعلق پیش رفت رپورٹ” کا اجراء شامل ہیں۔
"اعتماد اور تعاون کی بحالی: صدی کی تبدیلی کے تناظر میں عالمی حکمرانی کی اصلاح اور بہتری” کے موضوع پر منعقد ہونے والے اس فورم میں 90 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاسی، اسٹریٹجک، علمی، کاروباری اور نوجوان رہنماؤں سمیت تقریباً 400 افراد نے شرکت کی۔ فورم میں شریک غیر ملکی نمائندوں نے شیونگ آن نیو ایریا کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے مستقبل کے شہر کے تصور کے تحت ہونے والی تعمیر و ترقی اور اس کی متحرک معاشی و ترقیاتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔
عالمی حکمرانی سے مراد ایسا نظام ہے جس میں خودمختار ممالک اور بین الاقوامی ادارے مشترکہ اصولوں اور باہمی تعاون کے ذریعے عالمی مسائل سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام میں اقوام متحدہ کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، تاہم بدلتے ہوئے عالمی حالات نے اس نظام کی کارکردگی اور نمائندگی سے متعلق سوالات کو اہم بنا دیا ہے۔ترقی پذیر ممالک کا مؤقف ہے کہ عالمی فیصلوں میں ان کی آواز کو زیادہ مؤثر بنایا جانا چاہیے۔ ان کے نزدیک عالمی اداروں کو اس انداز میں کام کرنا چاہیے کہ مختلف ممالک کے مفادات، ترقیاتی ضروریات اور سلامتی کے خدشات کو مناسب اہمیت مل سکے۔
چین میں منعقد ہونے والے فورم کی اہمیت بھی اسی بحث سے جڑی ہے۔ اس میں عالمی حکمرانی کو زیادہ جامع اور مؤثر بنانے کے تقاضوں پر غور کیا گیا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے ساتھ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔
چین عالمی حکمرانی میں اصلاحات، اقوام متحدہ کے مرکزی کردار اور ترقی پذیر ممالک کی بہتر نمائندگی پر زور دیتا رہا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے ستمبر 2025 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیا تھا، جس میں خودمختار ریاستوں کے مساوی حقوق، بین الاقوامی قانون کے احترام، کثیرالجہتی تعاون اور عوامی مفادات کو اہم اصولوں کے طور پر پیش کیا گیا۔چین کا مؤقف ہے کہ عالمی اداروں کو بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ کرنے اور مختلف ممالک کو بین الاقوامی معاملات میں مؤثر کردار دینے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ معاملہ اہم ہے، کیونکہ عالمی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی تک رسائی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے دستیاب وسائل ان کی معاشی ترقی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔تاہم عالمی حکمرانی میں اصلاحات کے بارے میں مختلف ممالک کی ترجیحات یکساں نہیں۔ اس لیے کسی بھی اقدام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف نقطۂ نظر کو جگہ دی جائے اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جنہیں وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔
2026 کے اس فورم میں عالمی سلامتی، بین الاقوامی تجارت، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات خصوصی اہمیت رکھتے تھے۔ یہ ایسے شعبے ہیں جن میں قومی پالیسیوں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت کی ترقی نے ڈیٹا کے تحفظ، ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ اسی طرح موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی مسابقت بھی اس بحث کو اہم بناتی ہے کہ ممالک اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے معاشی تعاون کو کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی خاص طور پر اہم ہیں۔
عالمی حکمرانی میں اصلاحات کی بحث پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اہم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت، ترقیاتی سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی اور عالمی تجارت میں بہتر مواقع پاکستان کی معاشی ترقی سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر اپنی ترجیحات مؤثر انداز میں پیش کرے اور ایسے اقدامات کی حمایت کرے جو ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بہتر بنانے کے ساتھ عملی تعاون کو بھی فروغ دیں۔ چین کے ساتھ اقتصادی اور ترقیاتی روابط کے تناظر میں بھی علاقائی استحکام اور پائیدار ترقی اہم موضوعات ہیں۔
گلوبل گورننس فورم 2026 نے بدلتی ہوئی دنیا میں عالمی اداروں کے کردار اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ایسے اجتماعات کی حقیقی اہمیت اس بات سے طے ہوتی ہے کہ ان میں ہونے والی گفتگو عملی اقدامات اور پالیسیوں میں کس حد تک تبدیل ہوتی ہے۔ عالمی مسائل کے حل کے لیے اختلافات کے باوجود تعاون، بین الاقوامی قوانین کا احترام اور ترقی کے مواقع میں وسیع تر شراکت داری ہی زیادہ پُرامن اور مستحکم دنیا کی بنیاد بن سکتے ہیں۔