آخر اللہ تعالیٰ نے مکھی ہی بنانے کا چیلنج کیوں کیا؟

آپ کا کیا خیال ہے؟ ہمیں صرف مطالعۂ پاکستان ہی غلط پڑھایا گیا ہے؟

جی نہیں!

ہمیں رج کے بیوقوف بنایا گیا ہے۔ ہر چیز غلط بتائی اور پڑھائی گئی ہے۔ ہمیں اردو تک غلط پڑھائی گئی۔ اردو کے محاورے غلط بنائے گئے اور پھر ہمیں پڑھائے گئے۔

اردو کے جتنے بابے گزرے ہیں اگر وہ کم بخت اردو کے علاوہ دو چار چیزیں اور بھی پڑھ لیتے تو اردو کے محاورے سائنسی اعتبار سے درست ہوتے۔ مثال کے طور پر مکھیاں مارنا۔ مکھی پر مکھی مارنا۔ آنکھوں دیکھتے مکھی نگلنا یا جیتی مکھی نگلنا۔ اس قسم کے محاورے یقیناً معرضِ وجود میں نہ آتے جو ہر لحاظ سے اور خاص طور پر سائنسی لحاظ سے غلط اور گمراہ کن ہیں اور مکھی کے لیے باعثِ رسوائی ہیں۔

ان محاوروں میں مکھی کو جتنا کمتر دکھایا گیا ہے اور جتنا ہلکا لیا گیا ہے وہ بھی ہمارے اردو کے بابوں کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

نہیں! آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ مجھے اردو کے بابوں سے نہ تو کوئی ذاتی پرخاش ہے اور نہ ہی مکھی سے میری کوئی رشتے داری ہے۔

اگر میں آپ کو بتاؤں کہ یہ سب کیوں کہہ رہا ہوں تو آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔ عش عش کر اٹھیں گے اور کافی دیر تک کرتے رہیں گے۔ عش عش!

اگر آپ کو معلوم ہو کہ جب آپ مکھی پکڑتے یا مارتے ہیں تو دراصل ایک انتہائی جدید سائنسی مشین یا ایک مکمل تربیت یافتہ فوجی کو پکڑ رہے ہوتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو کسی کمانڈو سے کم نہیں سمجھیں گے۔

گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے آج اپنی بعض گاڑیوں میں ایسے سینسر لگائے ہیں کہ سامنے رکاوٹ آنے پر گاڑی خودبخود رفتار کم کر لیتی ہے یا رک جاتی ہے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکھی میں بھی خطرہ محسوس کرنے اور فوراً ردِعمل ظاہر کرنے کا حیرت انگیز نظام رکھا ہے۔

یہاں اگر آپ میرا کالم یہ سوچ کر پڑھنا چھوڑ دیں کہ اب مکھی کے بارے میں کون پڑھتا رہے تو آپ یقیناً غلطی کریں گے۔ عین ممکن ہے کہ مکھی کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کیے بغیر ہی آپ اس دنیا سے روانہ ہو جائیں۔

ذرا جم کر بیٹھیے اور جانیے کہ مکھی ہے کیا چیز؟ اس میں کچھ تو ایسا ہے کہ اس کائنات کے مالک اور خالق نے بھی اپنے نہ ماننے والوں اور اپنے ساتھ شرک کرنے والوں کو چیلنج کر دیا کہ جنہیں تم میرے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے جائے تو وہ اسے واپس بھی نہیں لے سکتے۔

ایسی کیا خاص بات ہے مکھی میں؟ ایک چھوٹا سا اڑنے والا کیڑا؟

آئیے! مکھی سے آپ کا ہلکا سا تعارف کرواتے ہیں۔

سب سے پہلے اس کی آنکھوں کو دیکھیے۔ گھریلو مکھی کی ہر بڑی آنکھ تقریباً 4000 ننھے حصوں سے مل کر بنتی ہے۔ ہر حصے کا اپنا چھوٹا سا لینز ہوتا ہے جس کے پیچھے روشنی محسوس کرنے والے خلیے ہوتے ہیں۔ یہ سب حصے مل کر اسے اردگرد کا منظر دکھاتے ہیں۔ اسی لیے اسے ’’مرکب آنکھ‘‘ کہتے ہیں۔ اور ساری زندگی مکھی کو عینک بھی نہیں لگانی پڑتی۔

ان دو بڑی آنکھوں کے علاوہ سر کے اوپر 3 چھوٹی آنکھیں بھی ہوتی ہیں۔ ان کا بنیادی کام روشنی اور اس کی تبدیلیوں کو محسوس کرنا ہے۔ یعنی دیکھنے کے ساتھ روشنی کا حساب رکھنے کا بھی الگ انتظام ہے۔ سبحان اللہ!

جب آپ ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہیں تو مکھی کا دیکھنے کا نظام اسے خبردار کر دیتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم تشبیہ کے طور پر یوں کہہ سکتے ہیں کہ اسے ہماری حرکت ’’سلو موشن‘‘ جیسی محسوس ہوتی ہے۔ یعنی اس کا بصری نظام تیز تبدیلیوں کو ہم سے زیادہ تیزی سے پہچان سکتا ہے۔ اسی صلاحیت کو سمجھانے کے لیے ہماری عام حرکت کو اس کے لیے ’’سلو موشن‘‘ جیسا کہا جاتا ہے۔

ہاتھ قریب آنے پر اس کے بصری میدان میں ہاتھ کی شبیہ تیزی سے بڑی ہوتی ہے۔ یہ خطرے کا اشارہ ہے۔ مکھی اپنا جسم اور ٹانگیں اس طرح جما لیتی ہے کہ فوراً بچ کر نکل سکے۔ پھل کی مکھی پر تحقیق میں اڑنے سے تقریباً 0.2 سیکنڈ پہلے یہ تیاری دیکھی گئی ہے۔ آپ ابھی ہاتھ بڑھا رہے ہوتے ہیں اور وہ روانگی کی تیاری کر رہی ہوتی ہے۔

اس کی نظر میں ایک اور خوبی بھی ہے۔ گھریلو مکھی الٹرا وائلٹ روشنی محسوس کرتی ہے جسے ہماری آنکھ نہیں دیکھتی۔ یوں ایک ہی جگہ پر موجود ہونے کے باوجود ہماری اور مکھی کی نظر تک پہنچنے والی معلومات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔

اب مکھی کھانے کی طرف مڑتی ہے۔ اسے کھانے تک پہنچانے میں اس کے سر پر موجود دو چھوٹے اینٹینا بھی مدد دیتے ہیں۔ ان میں بو پہچاننے والے خلیے ہوتے ہیں جو ہوا میں پھیلے کیمیائی ذرات کا سراغ لگاتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ کھانے کی خوشبو ہے۔ مکھی کے لیے کھانے کا پتا۔

وہ خوراک پر بیٹھتی ہے اور پاؤں سے ذائقہ چکھتی ہے۔ اس کے پاؤں پر باریک حسی بال ہوتے ہیں جو خوراک کو چھوتے ہی اس کے ذائقے کی خبر دیتے ہیں۔ مناسب ذائقہ ملنے پر وہ منہ آگے بڑھاتی ہے۔ ہمیں کھانا چکھنے کے لیے منہ تک لانا پڑتا ہے۔ مکھی قدم رکھتے ہی ابتدائی جانچ کر لیتی ہے۔

پھر اس کی چھوٹی سی سونڈ آگے آتی ہے۔ اس کے سرے پر دو نرم حصے ہوتے ہیں جو اسفنج کی طرح مائع خوراک سمیٹتے ہیں۔ ان پر موجود باریک نالیاں خوراک کو منہ کی طرف پہنچاتی ہیں۔

لیکن ٹھوس چیز کا کیا ہوتا ہے؟

گھریلو مکھی ہمارے جیسے دانتوں سے کھانا نہیں چباتی۔ وہ ٹھوس خوراک کے قابلِ حل حصے پر لعاب یا اپنے اندر سے واپس لایا ہوا مائع ڈالتی ہے۔ خوراک نرم ہو کر گھلتی ہے۔ پھر وہ اسے چوس لیتی ہے۔ گویا بعض کھانوں کو نگلنے کے قابل بنانے کا کام جسم سے باہر ہی شروع ہو جاتا ہے۔

کھانے کے بعد وہ ٹانگیں آپس میں رگڑتی ہے اور انہیں آنکھوں اور اینٹینا سمیت جسم کے مختلف حصوں پر پھیرتی ہے۔ دیکھنے میں لگتا ہے کہ اگلے کھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے مگر وہ صفائی کر رہی ہوتی ہے۔ گرد اور چپکے ہوئے ذرات ہٹانا اس کے حسی اعضا کو اپنا کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پھل کی مکھی پر تحقیق میں صفائی کی ان حرکتوں کی باقاعدہ ترتیب بھی دیکھی گئی ہے۔

اس کے جسم کے بہت سے باریک بال بھی خبر پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ چھونے اور حرکت جیسے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ بعض حسی بال ہوا کے بہاؤ کی خبر دینے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ یوں مکھی کو اردگرد کی خبر آنکھوں اور اینٹینا کے ساتھ جسم کی سطح سے بھی ملتی رہتی ہے۔

اب وہ اڑ کر چھت پر الٹی بیٹھ جاتی ہے۔ ہمارے لیے مشکل۔ اس کے لیے معمول۔

اس کے پاؤں میں باریک بالوں والی چپکنے کی گدیاں ہوتی ہیں۔ ان بالوں کے سروں پر موجود معمولی سی رطوبت ہموار سطح پر گرفت بنانے میں مدد دیتی ہے جبکہ کھردری سطح پر چھوٹے پنجے کام آتے ہیں۔ اسی انتظام سے وہ شیشے پر چلتی ہے اور چھت سے لٹکتی ہے۔

کمال صرف چپکنے میں نہیں بلکہ وقت پر پاؤں چھڑانے میں بھی ہے۔ ہر قدم کے ساتھ گرفت بنتی اور چھوٹتی ہے۔ ورنہ چھت تک پہنچنا تو کامیابی ہوتی۔ واپس آنا الگ مسئلہ بن جاتا!

اب اس کے پروں کو دیکھیے۔ اڑنے والے پر 2 ہیں مگر ان کے پیچھے دو ننھی ڈنڈیاں بھی ہوتی ہیں جن کے سروں پر گول گٹیاں ہوتی ہیں۔ انہیں ہالٹرز کہتے ہیں۔ یہ پچھلے پروں کی بدلی ہوئی شکل ہیں اور مکھی کا توازن سنبھالنے میں مدد دیتی ہیں۔

اڑتے وقت یہ مسلسل ہلتی ہیں۔ جسم مڑنے یا گھومنے پر ان پر پڑنے والی قوتیں بدلتی ہیں۔ ان کی جڑ کے پاس موجود حسی خلیے یہ تبدیلی محسوس کرکے اعصابی نظام کو خبر دیتے ہیں جو پروں کی حرکت درست کرتا ہے۔ یہ مکھی کے قدرتی جائروسکوپ ہیں۔ یعنی جسم کے گھومنے کا پتا دینے والے آلات۔

پروں کو چلانے کا انتظام بھی خوب ہے۔ سینے کے بڑے پٹھے اڑنے کی طاقت پیدا کرتے ہیں جبکہ چھوٹے پٹھے پروں کی حرکت میں باریک تبدیلیاں کرکے سمت سنبھالتے ہیں۔ بڑے پٹھوں کو ہر پھڑپھڑاہٹ کے لیے الگ اعصابی حکم نہیں چاہیے۔ ان کا کھنچاؤ اور سینے کی لچک مل کر تیز اور مسلسل حرکت پیدا کرتے ہیں۔

اتنی محنت کے لیے آکسیجن بھی چاہیے مگر مکھی کے پاس ہمارے جیسے پھیپھڑے نہیں ہوتے۔ اس کے جسم کے اطراف چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں۔ ان سے ہوا اندر جاتی ہے اور باریک نالیوں کے جال کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہے۔ ان سوراخوں کا نام اسپائریکلز ہے۔

اس کے جسم میں خون جیسا ایک سیال بھی گردش کرتا ہے جسے ہیمولِمف کہتے ہیں۔ اسے گردش دینے والا دل ایک نالی جیسا ہوتا ہے۔ مگر ہماری طرح آکسیجن پہنچانے کی بنیادی ذمہ داری اس سیال کی نہیں ہوتی۔ یہ کام ہوا کی نالیاں کرتی ہیں۔

اب اس مکھی کی زندگی کو ذرا پیچھے لے چلتے ہیں۔ یہ ہمیشہ سے پروں والی مکھی نہیں تھی۔

پہلے انڈا تھا۔ پھر اس سے نرم اور بے پر لاروا نکلا۔ اس نے خوراک کھائی اور نشوونما پائی۔ پھر وہ پیوپا کے مرحلے میں داخل ہوا جہاں ایک حفاظتی خول کے اندر بالغ مکھی کی تشکیل ہوئی۔ یوں اس کی زندگی کے چار مرحلے ہیں۔ انڈا۔ لاروا۔ پیوپا۔ بالغ مکھی۔

باہر نکلنے کے لیے بھی اس کے پاس خاص انتظام ہے۔ سر کے اگلے حصے پر ایک عارضی تھیلی پھولتی ہے جو دباؤ ڈال کر خول کا سرا کھولتی ہے۔ اسے پٹیلائنم کہتے ہیں۔ کام مکمل ہونے پر یہ اندر سمٹ جاتی ہے۔ زندگی کا پہلا دروازہ کھولنے کے لیے اپنا اوزار ساتھ لاتی ہے!

نئی نکلی ہوئی مکھی کے پر فوراً اڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جسمانی سیال ان کی رگوں میں پہنچتا ہے۔ پر پھیلتے اور سخت ہوتے ہیں۔ پھر پرواز کا وقت آتا ہے۔ گرمیوں کے سازگار حالات میں انڈے سے بالغ مکھی بننے کا سفر صرف 7 دن میں بھی مکمل ہو سکتا ہے۔ موسم اور خوراک ناموافق ہوں تو زیادہ وقت لگتا ہے۔

ایک مادہ مکھی سازگار حالات میں اپنی زندگی میں سینکڑوں انڈے دے سکتی ہے۔ جی آپ کے منہ میں پانی نہ آئے تو بہتر ہے کیوں کہ ان انڈوں کو نہ تو آپ ھاف بوائل کرسکتے ھیں نہ املیٹ بنا کر کھا سکتے ہیں۔ عموماً یہ انڈے نم اور گلتے سڑتے نامیاتی مادّے میں رکھے جاتے ہیں جہاں لاروؤں کو خوراک ملتی ہے۔ یہی تیز افزائش سازگار ماحول میں مکھیوں کی تعداد جلد بڑھا دیتی ہے۔

مگر اس حیرت کے ساتھ ایک ضروری بات بھی یاد رکھیے۔ مکھی آلودہ جگہوں سے جراثیم اپنے پاؤں اور جسم کے ساتھ منہ کے ذریعے بھی خوراک تک پہنچا سکتی ہے۔ اپنی صفائی کرنا اسے جراثیم سے پاک نہیں بناتا۔

وہی مکھی آپ کے سامنے بیٹھی ہے جسے پہلے آپ صرف بھنبھنانے والا کیڑا سمجھتے تھے۔ لیکن اب آپ کو اس کے ہزاروں ننھے لینز اور روشنی اور بو محسوس کرنے والے اعضا کے بارے میں پتا ہے۔ ذائقہ چکھتے پاؤں اور خوراک سمیٹنے والا منہ بھی آپ کے علم میں آ چکے ہیں۔ چھت پر چلنے کے انتظام اور توازن سنبھالنے والے آلات کے بارے میں بھی آپ جان چکے ہیں۔

اب اسے عزت و احترام اور مرعوبیت سے دیکھیے۔ وہ اپنے چھوٹے سے جسم میں نہایت پیچیدہ اور مؤثر نظام سے لیس ہے۔ حدِ ادب ملحوظ رہے۔ اور اگر کبھی آپ کو کوئی طعنہ دے کہ کیا ہر وقت مکھیاں مارتے رہتے ہو تو یہ آپ کے لیے ایک اعزاز اور بہادری کا خطاب ہوگا۔ اور اگر ائندہ اپ کوئی مکھی ماریں تو اس مکھی کے اوپر اپنا پیر رکھ کر ایک سیلفی لیں کیونکہ یہ ایک اعزاز کی بات ہوگی۔

نہیں! مکھی مارنے پر کوئی سرکاری خطاب نہیں دیا جاتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے