ریاست اپنے عوام کو کچھ عرصے کے لیے طاقت کے ذریعے اطاعت پر مجبور تو کر سکتی ہے، لیکن محض طاقت کے بل بوتے پر ان کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتی۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان میں جمہوریت، وفاقی ڈھانچے اور ریاست و عوام کے باہمی تعلق کے حوالے سے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا امن کے نام پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنا واقعی بحران کا حل ہے، یا اس سے بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے؟
11 اکتوبر 2026 کو صدرِ پاکستان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کو بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملات میں صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون سے جوڑا، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اسے ایک سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا۔ 15 اکتوبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے ان اعلانات کی منظوری دے دی۔
دریں اثنا، 13 اکتوبر کو تحصیل باڑہ، ضلع خیبر میں ایک احتجاج پُرتشدد صورت اختیار کر گیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچا اور مظاہرین زخمی ہوئے۔ پولیس کی جانب سے فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ پُرامن احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن تشدد اور سرکاری املاک پر حملے بھی قابلِ مذمت ہیں۔ اسی طرح ریاستی طاقت کا غیر ضروری استعمال جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب سیاسی تنازعات کو اتفاقِ رائے کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ریاستوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ 1971 میں 1970 کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا۔ یوگوسلاویہ میں معاشی بحران، بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور ٹیٹو کی وفات کے بعد وفاقی اداروں کی کمزوری نے مرکزی حکومت کی گرفت ڈھیلی کر دی، جبکہ جبر نے ان دراڑوں کو مزید گہرا کیا۔ سوویت یونین میں اگست 1991 کی سخت گیر عناصر کی ناکام بغاوت نے مرکزی حکومت کی باقی ماندہ اتھارٹی کو بھی تباہ کر دیا، اور چند ہی ماہ بعد سوویت یونین تحلیل ہو گیا۔
یہ ریاستیں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں: ایک فوجی حکمرانی کے تحت تھی، جبکہ دیگر یک جماعتی نظاموں کے تحت چلتی تھیں۔ تاہم، ان سے ملنے والا سبق یکساں ہے۔ ریاست جمہوری ہو یا غیر جمہوری، جب اس کا مرکز کمزور ہو جائے اور اس کی اکائیاں اس پر اعتماد کھو دیں تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، جن میں بدامنی، علیحدگی پسندی اور انتہائی صورتوں میں ریاست کا انہدام شامل ہیں۔ طاقت ان نتائج کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر تو کر سکتی ہے، لیکن ان کا مستقل تدارک نہیں کر سکتی۔ یہ مثالیں پاکستان کے مستقبل کی پیش گوئی نہیں ہیں، تاہم ان سے حاصل ہونے والے تاریخی اسباق کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔
رابرٹ آئی روٹبرگ اپنی کتاب When States Fail: Causes and Consequences میں ریاست کی مضبوطی کو محض طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ تحفظ، انصاف اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے بھی جوڑتے ہیں۔ اسی طرح اسٹیون لیوٹسکی اور ڈینیئل زِبلٹ اپنی کتاب How Democracies Die میں وضاحت کرتے ہیں کہ جمہوریت صرف فوجی بغاوتوں کے ذریعے زوال پذیر نہیں ہوتی، بلکہ اداروں کو بتدریج کمزور کرنے اور انتظامی اختیارات پر نگرانی و توازن کے نظام کو ختم کرنے سے بھی جمہوری نظام اندر سے کھوکھلا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کو نقصان صرف فوجی آمریتوں نے نہیں پہنچایا، بلکہ منتخب حکومتوں کے آمرانہ طرزِ عمل نے بھی اس عمل میں کردار ادا کیا ہے۔
اصل خطرہ وفاق کی کمزوری ہے۔ اگر صوبے وفاق پر اعتماد کھو دیں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے گریز کرنے لگیں اور وسائل کی تقسیم کے تنازعات شدت اختیار کر جائیں تو خود وفاقیت کا جواز سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ جب نسلی اور علاقائی شکایات لوگوں کو ریاست سے دور کرنے لگیں تو ریاستی اختیار اور سیاسی وحدت دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو ایسی صورتِ حال سے بچنے کی ضرورت ہے جس میں مسلسل جبر، سیاسی محرومی اور بداعتمادی وفاق کو متحد رکھنا بتدریج مشکل بنا دیں۔ صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنے کے بجائے ملک کو آئینی وفاقیت، سیاسی مکالمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو مضبوط بنانا چاہیے۔
پی ٹی آئی نے بھی بارہا سیاسی ناپختگی اور محاذ آرائی پر مبنی طرزِ سیاست کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، کسی سیاسی جماعت کی غلطیاں اس کے عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کا جواز نہیں بن سکتیں۔ جب ایک ہائبرڈ نظام عوام کے انتخابی فیصلے کو غیر مؤثر بنا دیتا ہے تو جمہوریت مزید کمزور ہوتی ہے۔ محض انتخابات کا انعقاد کافی نہیں؛ حقیقی جمہوریت کا تقاضا ہے کہ عوام کے فیصلے کا احترام کیا جائے اور اقتدار کے تمام مراکز کو جواب دہ بنایا جائے۔
طبقاتی جدوجہد، آزادیِ اظہار کی تحریکیں اور بنیادی حقوق کے لیے چلائی جانے والی مہمات حکومتی احکامات سے ختم نہیں ہو جاتیں۔ آمریت انہیں عارضی طور پر دبا تو سکتی ہے، لیکن ان کے بنیادی اسباب کو ختم نہیں کر سکتی۔ ریاست کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کی اصلاح کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو مستقبل میں سیاسی عدم استحکام اور وفاقی بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
اس بحران کا ایک اہم پہلو قدرتی وسائل پر کنٹرول بھی ہے۔ پاکستان کے معدنی ذخائر میں عالمی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کی جانب سے 1960 کی دہائی میں کیے گئے ارضیاتی سروے پاکستان کے معدنی وسائل کی قدر کے تخمینوں سے متعلق تھے، تاہم آج ان وسائل کی ممکنہ مالیت اس وقت کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے منسوب ایک حالیہ پوڈکاسٹ بیان میں پاکستان کے اہم معدنی وسائل کی ممکنہ مالیت سات کھرب ڈالر بتائی گئی۔ ان سے منسوب بیان کے مطابق، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کی ایک اہم وجہ اہم معدنیات میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی بھی ہے۔ ان بیانات اور تخمینوں کی آزادانہ طور پر تصدیق ضروری ہے۔ اس کے باوجود بنیادی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں: ان وسائل پر کنٹرول کس کا ہوگا؟ ان سے حاصل ہونے والی دولت سے فائدہ کون اٹھائے گا؟ اور مقامی آبادی کو اس میں کتنا حصہ ملے گا؟
اگر ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد معدنی وسائل کے استخراج میں تیزی آتی ہے تو شفافیت، مقامی آبادی کی شرکت اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ محض زمانی تعلق اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ اقدامات معدنی وسائل کے استخراج کو آسان بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ تاہم، عوام کو ریاستی پالیسیوں اور قدرتی وسائل کے استعمال پر سوال اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ جب وسائل سے مالا مال علاقوں کے عوام معاشی محرومی کا شکار رہیں، جبکہ ان کے وسائل سے دوسرے لوگ فائدہ اٹھائیں، تو سیاسی معیشت کے بنیادی تضادات مزید نمایاں ہو جاتے ہیں۔
سوشلسٹ نقطۂ نظر سے ان تضادات کا حل محض حکمرانوں کی تبدیلی میں نہیں، بلکہ سیاسی طاقت اور معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم میں مضمر ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق، مقامی خودمختاری اور فیصلہ سازی میں عوام کی بامعنی شرکت پائیدار امن کی بنیادیں ہیں۔ پاکستان مختلف آمرانہ، جمہوری اور ہائبرڈ نظاموں کے تجربات سے گزر چکا ہے، لیکن سیاسی محرومی، معاشی نابرابری اور عوامی احتساب کے مسائل بدستور موجود ہیں۔
پاکستان کو محض حکمرانوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ اپنے جمہوری اور معاشی نظام کی بنیادوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ سوشلسٹ جمہوریت ہے، جس میں سیاسی آزادیوں اور کثرتیت کے ساتھ وسائل پر جمہوری کنٹرول، دولت کی منصفانہ تقسیم، طبقاتی استحصال میں کمی اور فیصلہ سازی میں عوام کی بامعنی شرکت یقینی بنائی جائے۔۔ کوئی بھی متبادل نظام شہری آزادیوں کے تحفظ اور عوامی احتساب کو یقینی بنائے بغیر حقیقی آزادی فراہم نہیں کر سکتا۔
آج سوال یہ نہیں کہ کون سی سیاسی جماعت اقتدار میں رہنی چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ آیا ریاست عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور بنیادی حقوق کا احترام کرے گی یا نہیں۔ کیا ایمرجنسی اور گورنر راج دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے اور عوامی اعتماد بحال کرنے میں مدد دیں گے، یا سیاسی بیگانگی کو مزید گہرا اور وفاق کو مزید کمزور کریں گے؟ ریاست کی اصل طاقت جبر میں نہیں، بلکہ عوام کو تحفظ، عزت، معاشی انصاف اور اپنی تقدیر خود متعین کرنے کا اختیار دینے میں ہے۔