واشنگٹن(محمد نعمان خان) امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی اور موصولہ نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے امریکی سینیٹ کا کنٹرول ریپبلکن پارٹی سے چھین لیا ہے۔ اس پیش رفت کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق ڈیموکریٹس نے متعدد اہم ریاستوں میں کامیابی حاصل کرکے سینیٹ میں دوبارہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ شمالی کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر کی کامیابی بھی ڈیموکریٹس کے لیے اہم ثابت ہوئی، جبکہ جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کی۔ اوہائیو میں ڈیموکریٹ شیروڈ براؤن نے بھی کامیابی حاصل کی، جبکہ جنوبی کیرولائنا اور کنساس میں بھی ڈیموکریٹس نے اہم کامیابیاں سمیٹیں۔ ان نتائج نے روایتی طور پر ریپبلکن جماعت کے مضبوط سمجھے جانے والے علاقوں میں سیاسی تبدیلی کے آثار نمایاں کر دیے ہیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے نتائج میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کو برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مختلف امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کی کم از کم آٹھ نشستیں اپنے نام کی ہیں، تاہم ایوان میں حتمی اکثریت کا فیصلہ ابھی مکمل نتائج اور ووٹوں کی گنتی سے مشروط ہے۔
انتخابی نتائج کے ابتدائی تجزیوں کے مطابق مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ایران کے ساتھ جنگ اور صدر ٹرمپ کی حکومتی کارکردگی ووٹرز کے اہم انتخابی موضوعات رہے۔ ایگزٹ پولز میں تقریباً تین چوتھائی ووٹرز نے ملک کی موجودہ سمت پر ناراضی یا عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی واپسی سے صدر ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں، قانون سازی اور اہم حکومتی تقرریوں کے حوالے سے زیادہ سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم صدر کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کا آئینی اختیار برقرار رہے گا۔