رات کو صحافی، صبح بے روزگار!

ہماری بھی فیملی ہے، ہمارے بھی بچے ہیں۔ انہیں پالنا ہے، ان کی ضروریات پوری کرنی ہیں۔ آخر کب تک ہر ایک یا دو سال بعد ہم بے روزگار ہوتے رہیں گے؟“ راحت شواری کی یہ بات اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتی ہے جس کا سامنا بہت سے مقامی صحافیوں کو کرنا پڑتا ہے۔

راحت شنواری نے 2007 میں ریڈیو سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ قبائلی علاقوں پر عالمی توجہ تھی، مختلف منصوبے جاری تھے اور انہیں مناسب معاوضہ بھی مل رہا تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ محنت، تجربے اور تعلیم کے ساتھ وہ اپنے خاندان کا مستقبل محفوظ بنا سکیں گے، لیکن یہ آسرا زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ منصوبے ختم ہوئے تو آمدن بھی ختم ہوگئی، اور یوں شروع ہوا بے یقینی کا ایک ایسا سلسلہ جس نے بار بار ان کے روزگار کو متاثر کیا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے قبائلی صحافی راحت شنواری کی کہانی صرف ایک فرد کی جدوجہد نہیں، بلکہ ان سینکڑوں مقامی صحافیوں کی آواز ہے جو برسوں صحافت کرنے کے باوجود آج بھی معاشی تحفظ کے منتظر ہیں۔

مختلف اداروں میں کام کرنے کے باوجود ان کی ملازمت مستقل نہ ہو سکی۔ ایک یا دو سال کام کرنے کے بعد منصوبہ ختم ہو جاتا اور وہ پھر روزگار کی تلاش میں نکل پڑتے۔

ان کے مطابق، صحافت میں برسوں کی محنت اور تجربے کے باوجود ملازمت کی کوئی ضمانت نہیں۔ طویل مدتی معاہدے، نہ مستقل تنخواہ اور نہ ہی اس بات کا یقین کہ اگلے مہینے روزگار برقرار رہے گا۔

بعض اخبارات میں تنخواہ کے بجائے اشتہارات لانے کی شرط ہوتی ہے، جبکہ ٹی وی اداروں سے ملنے والا چند ہزار روپے کا کمیونیکیشن الاؤنس بھی موبائل اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔

بالآخر مسلسل مالی دباؤ نے راحت شنواری کو اپنے خاندانی کاروبار کی طرف واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ مگر صحافت کا شوق انہیں اس شعبے سے مکمل طور پر دور نہ رکھ سکا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کا رخ کیا اور اپنی شناخت، لوگوں کے اعتماد اور یوٹیوب کے ذریعے آمدن کا ایک نیا راستہ تلاش کیا۔

راحت شواری کہتے ہیں کہ صحافیوں کو اپنے خاندانوں کی کفالت بھی کرنی ہوتی ہے۔ پورا دن محنت کرنے کے بعد اگر گھر واپسی پر جیب خالی ہو تو صرف صحافت کے شوق پر زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ ان کے نزدیک مسئلہ صرف کم تنخواہ کا نہیں، بلکہ اس غیر یقینی کا ہے جس میں صحافی ہر وقت ملازمت چھن جانے کے خوف میں رہتا ہے۔

صحافت کا شوق، معاشی عدم تحفظ اور صنفی امتیاز کی کہانی

سوات جیسے علاقے میں جہاں خواتین کا صحافت کے میدان میں قدم رکھنا کبھی آسان نہیں تھا، شائستہ حکیم نے 2013 میں اس شعبے کا انتخاب کیا۔ مگر ان کا یہ سفر سماجی رویوں، صنفی امتیاز، ممبرشپ کے حصول کی جدوجہد اور معاشی عدم تحفظ سے عبارت ہے۔

شائستہ حکیم کے مطابق، جب انہوں نے صحافت شروع کی تو سوات میں لوگوں کے لیے یہ بات قابلِ قبول نہیں تھی کہ کوئی خاتون بازاروں میں گھوم پھر کر رپورٹنگ کرے۔ انہیں صحافت میں اپنی جگہ بنانے کے ساتھ ساتھ پریس کلب کی ممبرشپ کے حصول کے لیے بھی کئی سال جدوجہد کرنا پڑی، لیکن انہیں تاحال ممبرشپ نہیں دی گئی۔

ان کے لیے سب سے کڑا وقت کورونا وبا کے دوران آیا، جب وہ خیبر ٹی وی سے وابستہ تھیں۔ ادارے میں عملہ کم کرنے کی خاطر انہیں بھی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ وہ اس وقت ادارے میں واحد خاتون صحافی تھیں، اس لیے ان کے خیال میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ ملازمت ختم ہونے کے بعد انہیں شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شائستہ حکیم کا کہنا ہے کہ صحافت میں تنخواہیں اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اے وی ٹی خیبر میں بھی انہیں خاطرخواہ معاوضہ نہیں ملتا تھا، تاہم وہ مالی فائدے کے بجائے اپنے کام کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔

ان کے نزدیک معاشی عدم تحفظ صرف انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ خواتین کی صحافت میں شمولیت کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی لڑکیاں اس شعبے میں آنے سے گریز کرتی ہیں ۔ صحافت میں خواتین کے لیے صرف سماجی رکاوٹیں عبور کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں باعزت روزگار، مساوی مواقع اور پیشہ ورانہ تحفظ بھی درکار ہے۔

پریس کلب کی امداد، مگر معاشی تحفظ اب بھی ایک سوال

پشاور پریس کلب کے سابق جنرل سیکرٹری اور موجودہ گورننگ باڈی کے رکن عرفان موسیٰ زئی کے مطابق، صحافیوں کو درپیش معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے پریس کلب اپنے ممبران کی مالی معاونت کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کے شعبے میں 80 سے 90 فیصد ملازمین کی تنخواہیں 50 ہزار روپے یا اس سے بھی کم ہیں، جس کے باعث ان کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

عرفان موسیٰ زئی کے مطابق، پریس کلب بے روزگار ہونے والے ممبران کی مالی مدد کرتا ہے، جبکہ رمضان پیکج، عیدالاضحیٰ کے موقع پر معاونت اور ماضی میں رپورٹنگ کے لیے موٹر سائیکلوں کی فراہمی بھی اسی فلاحی سلسلے کا حصہ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی صحافی کو ملازمت سے نکال دیا جائے یا ادارے میں ڈاؤن سائزنگ ہو تو پریس کلب کی کابینہ اس کی ملازمت بحال کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم، میڈیا اداروں کے مرکزی دفاتر کراچی اور لاہور میں ہونے کے باعث پشاور سے ان اداروں پر دباؤ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صحافیوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے کی ورکشاپس بھی منعقد کی جاتی ہیں، تاکہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔

پشاور پریس کلب کا مؤقف، مالی مشکلات کے باوجود صحافت

پشاور پریس کلب کی رکنیت اور صحافیوں کی معاشی صورتِ حال کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 اور 2025 کے رجسٹرڈ ارکان کو بھی شامل کیا جائے تو کلب کے مجموعی ارکان کی تعداد تقریباً 500 بنتی ہے، جن میں لگ بھگ 100 صحافی بے روزگار ہیں۔ اگر فری لانسرز اور دیگر بے روزگار صحافیوں کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد تقریباً 200 تک پہنچ جاتی ہے۔

پشاور پریس کلب کی گورننگ باڈی کے رکن اور سابق جنرل سیکریٹری عرفان موسیٰ زئی کے مطابق، پریس کلب انفرادی بنیادوں پر ہر صحافی کی مالی مدد نہیں کرتا، تاہم مختلف مواقع پر ارکان کی فلاح و بہبود کے لیے امدادی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات سے آٹھ سال سے رمضان المبارک میں مستحق صحافیوں کو امداد فراہم کی جا رہی ہے اور اس سال بھی رمضان پیکج کے تحت فی صحافی 40 ہزار روپے دیے گئے۔ اسی طرح عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے لیے ایک لاکھ روپے فراہم کیے گئے، تاکہ مالی مشکلات کا شکار صحافی بھی قربانی کے مذہبی فریضے میں شریک ہو سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2022 اور 2023 میں صحافیوں کو لیپ ٹاپ خریدنے کے لیے فی کس 60 ہزار روپے دیے گئے، جبکہ موٹر سائیکلوں کی فراہمی کے ذریعے بھی صحافیوں کی مدد کی گئی۔

عرفان موسیٰ زئی کے مطابق، بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باوجود صحافیوں نے شعبۂ صحافت کو مکمل طور پر نہیں چھوڑا، بلکہ وہ کسی نہ کسی صورت میں اپنے پیشے سے وابستہ ہیں۔

35 ہزار تنخواہ، دو ماہ کی تاخیر اور ایک اہم کہانی کا چھن جانا

پشاور صحافی اسماء گل کے مطابق، کم تنخواہ اور اس کی بروقت عدم ادائیگی نہ صرف ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتی ہے بلکہ رپورٹنگ کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک میڈیا ادارے میں فل ٹائم کام کرنے کے باوجود ان کی ماہانہ تنخواہ صرف 35 ہزار روپے تھی، جو دو ماہ سے رکی ہوئی تھی۔ اسی دوران انہیں پشاور میں خواتین کے مسائل پر ایک اہم اسٹوری کرنی تھی، لیکن ان کے پاس رکشے کا کرایہ تک نہیں تھا اور موبائل انٹرنیٹ پیکج بھی ختم ہو چکا تھا۔

جب انہوں نے دفتر سے ایڈوانس مانگا تو جواب ملا کہ بجٹ نہیں ہے۔ نتیجتاً وہ وقت پر اسٹوری فائل نہ کر سکیں اور ان کی جگہ کسی دوسرے صحافی کو بھیج دیا گیا۔

اسماء گل کے مطابق، اس واقعے نے انہیں احساس دلایا کہ کم تنخواہ صرف ذاتی پریشانی نہیں بلکہ صحافت کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہے۔

صحافت کو محض ڈگری حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے بچپن کے شوق کی تکمیل کے لیے اپنایا

مردان سے تعلق رکھنے والے صحافی عظمت اللہ شاہ نے تقریباً پندرہ سے سولہ سال قبل صحافت کو محض ڈگری حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے بچپن کے شوق کی تکمیل کے لیے اپنایا۔ اخبار اور رسائل پڑھنے کا شوق انہیں اس شعبے میں لے آیا، لیکن عملی صحافت میں قدم رکھنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ یہاں محنت کے باوجود معاشی استحکام حاصل کرنا آسان نہیں۔

عظمت علی شاہ کے مطابق، ابتدائی تین سے چار سال بطور جونیئر رپورٹر انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں ایک بین الاقوامی میڈیا ادارے سے وابستگی نے ان کی مالی حالت بہتر کی۔ بہتر تنخواہ اور نسبتاً کم ادارتی پابندیوں کے باعث انہیں امید تھی کہ وہ اپنے خاندان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں گے۔

تاہم، بین الاقوامی میڈیا اداروں میں ڈاؤن سائزنگ اور ملازمتوں میں کمی نے ان امیدوں کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق، بی بی سی اور ڈی ڈبلیو جیسے اداروں میں بھی پشاور میں کام کرنے والے صحافیوں کے مواقع محدود ہوئے، جبکہ وائس آف امریکہ کی سرگرمیوں کے خاتمے اور مشال نیوز کی بندش سے بھی متعدد صحافی متاثر ہوئے۔

اچھی تنخواہ ختم، اخراجات برقرار

عظمت کی کہانی بھی اسی معاشی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی ادارے میں بہتر تنخواہ کے باعث ان کے بچے اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور گھر کے اخراجات بھی اسی آمدن کے مطابق طے تھے۔ لیکن ملازمت ختم ہونے کے بعد ان کے لیے مالی معاملات سنبھالنا مشکل ہو گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ پشاور میں ایک یا دو کمروں کے عام گھر کا کرایہ تقریباً 25 سے 30 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس کے بل، راشن، بچوں کی فیس اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنا بے روزگاری کی صورت میں ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ آمدن ختم ہونے کے باوجود یہ اخراجات ختم نہیں ہوتے، اور بچوں کی تعلیم کو اسی معیار پر برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

پچاس ہزار تنخواہ میں گھر کیسے چلے؟

عظمت نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا اداروں میں مواقع کم ہونے کے بعد مقامی اور قومی میڈیا میں کام کرنا بھی آسان نہیں، کیونکہ یہاں تنخواہیں محدود ہیں۔ ان کے بقول، مقامی میڈیا میں بہت سے صحافیوں کو تقریباً 50 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں، جبکہ تجربہ کار صحافیوں کی تنخواہیں بھی عموماً 50 سے 70 ہزار روپے تک ہوتی ہیں۔

موجودہ مہنگائی میں اس آمدن سے گھر کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ یہی صورت حال صحافیوں کو اس پیشے کے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ صحافت کو محض شوق کے بجائے ایک باقاعدہ پیشہ بنانے کے لیے مناسب تنخواہ، روزگار کا تحفظ اور صحافیوں کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور روایتی صحافت کا زوال، پروفیسر بخت زمان

پشاور یونیورسٹی میں خدمات انجام دینے والے پروفیسر بخت زمان، جنہیں صحافت کے شعبے میں بیس سال سے زائد تجربہ حاصل ہے اور جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن پی ایچ ڈی اسکالر ہیں، کے مطابق روایتی صحافت دنیا بھر میں تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، موبائل جرنلزم، پوڈکاسٹنگ اور مصنوعی ذہانت نے صحافت کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن جدید مہارتوں سے ناواقف صحافیوں کے لیے روزگار برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق صحافت کے زوال میں حکومتی پالیسیوں اور آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کا کردار بھی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی تربیت، معاشی تحفظ اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے حکومت، پریس کلبز، صحافتی یونینز، محکمۂ اطلاعات اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

صحافیوں کی بے روزگاری اور معاشی مشکلات

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین کے مطابق، مقامی صحافیوں کی بڑی تعداد غیر مستقل بنیادوں پر کام کر رہی ہے اور بہت سے صحافیوں کے پاس باقاعدہ کنٹریکٹ تک موجود نہیں۔ روایتی میڈیا کے زوال اور ڈیجیٹل صحافت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے صحافیوں کے روزگار کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث ان کے معاشی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں صحافیوں کے معاشی تحفظ اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

صحافیوں کا معاشی تحفظ حکومت کی ذمہ داری

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے نمائندے کاشف الدین کے مطابق، مقامی صحافیوں کی بڑی تعداد غیر مستقل بنیادوں پر کام کر رہی ہے اور بہت سے صحافیوں کے پاس باقاعدہ کنٹریکٹ تک موجود نہیں۔ روایتی میڈیا کے زوال اور ڈیجیٹل صحافت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے صحافیوں کے روزگار کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث ان کے معاشی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

کاشف الدین کے مؤقف کو سامنے رکھتے ہوئے صحافیوں کے معاشی تحفظ، روزگار کے مواقع اور ملازمتوں کے استحکام کے لیے حکومتی اقدامات ضروری ہیں۔ مقامی صحافیوں کے لیے مالی معاونت، تربیتی پروگرام اور جدید صحافتی مہارتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، جبکہ میڈیا اداروں کو صحافیوں کے لیے باقاعدہ معاہدوں اور مناسب معاوضے کے نظام کی طرف لانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔

پروفیسر بخت زمان کے مطابق، صحافت کی بقا اور بہتری کے لیے حکومت، پریس کلبز، صحافتی یونینز، محکمۂ اطلاعات اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ صحافیوں کو ڈیجیٹل جرنلزم، موبائل جرنلزم، ویڈیو ایڈیٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تربیت دی جائے، جبکہ آزاد صحافت اور آزادیٔ اظہار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ اس کے ساتھ صحافتی اداروں کی معاشی مشکلات کم کرنے اور صحافیوں کے روزگار کو محفوظ بنانے کے لیے بھی مؤثر پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔

کنسلٹنٹ ایڈیٹر: آپ کی اسٹوری اشاعت کےلیے منظور کی جاتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے