پشاور ہائیکورٹ میں کم عمری کی شادی کے قانون کو چیلنج کر دیا گیا

پشاور: (خالدہ نیاز) دو کم عمر انسانی حقوق کی کارکنوں 16 سالہ ماہام نفیس اور 17 سالہ لینا قمر نے خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 16 سال اور لڑکوں کی 18 سال مقرر کرنے کے قانون کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے شادی کی مختلف عمریں مقرر کرنا آئین میں دیے گئے مساوات، انسانی وقار اور تحفظ کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

ماہام نفیس کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو بھی لڑکوں کے برابر قانونی تحفظ ملنا چاہیے، جبکہ لینا قمر کے مطابق کسی لڑکی کے حقوق کا تعین اس صوبے کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے جہاں وہ رہتی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کے لیے یہ عمر 16 سال ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے