سیہون دھماکا:ہلاکتیں 80ہوگئیں، دھمال معمول کے مطابق کرنے کا اعلان

سیہون: عقیدت مندوں اور زائرین کی دعاؤں، منتوں اور دھمال کے دوران درگاہ لعل شہباز قلندر میں ہونے والے خوفناک خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 80 تک پہنچ گئی۔

سیہون تعلقہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کے مطابق تعلقہ ہسپتال میں موجود 75 لاشوں میں سے 13 کی شناخت اب تک ممکن نہیں ہوسکی اور وہ تاحال ہسپتال میں ہی موجود ہیں تاہم بقیہ میتوں کو شناخت کے بعد لواحقین کے سپرد کردیا گیا۔

ایم ایس محمد معین الدین صدیقی کے مطابق تعلقہ ہسپتال لائی گئی 75 لاشوں میں 55 مرد، 13 عورتیں اور 07 بچے شامل تھے۔

دوسری جانب نواب شاہ ہسپتال منتقل گئے زخمیوں میں سے بھی 5 افراد جان کی جازی ہار گئے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 210 زخمیوں کو تعلقہ ہسپتال سیہون لایا گیا تھا۔

80 افراد کی جان نگلنے اور سیکڑوں کو زخمی کرنے والے اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

دھماکے کے بعد جائے وقوع پر سخت سیکیورٹی اور پولیس کے پہرے کے باوجود صبح سویرے زائرین کی بڑی تعداد درگاہ کے سیل دروازوں پر آپہنچی اور رکاوٹوں کو توڑ کر اندر داخل ہوگئی۔

جبکہ مشتعل افراد کی بڑی تعداد نے اے ایس پی سیہون کے گھر اور دفتر کا گھیراؤ کرلیا اور وہاں موجود پولیس موبائل کو نذر آتش کردیا، جس کے بعد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی۔

دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں میں واقع مزاروں کی بھی سیکیورٹی سخت کردی گئی۔

بی بی پاک دامن کو تاحکم ثانی بند کردیا گیا، رپورٹس ہیں کہ کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کو بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا۔

لعل شہباز قلندر کے مزار پر قائم سخت سیکیورٹی کے باوجود مزار کے سرپرست ڈاکٹر سید مہدی رضا شاہ کا کہنا ہے کہ جمعے کی شام بھی دھمال معمول کے مطابق ہوگا۔

‘حملہ آور مرد تھا’

دھماکے کے مقام اور درگاہ کے فرش کو تاحال صاف نہیں کیا گیا اور فرانزک و تحقیقاتی ٹیموں کی جانب سے دھماکے کے مقام سے شواہد اکھٹا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) انویسٹی گیشن راجا عمر خطاب کے مطابق ابتدائی انکوائری میں حملہ آور کی نشاندہی کی جاچکی ہے اور وہ کوئی خاتون نہیں بلکہ مرد تھا۔

راجا عمر خطاب نے کہا کہ حملہ آور درگاہ میں کس راستے سے اور کب داخل ہوا اس کا پتہ لگانے کے لیے تمام سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج دیکھی جائے گی۔

گذشتہ رات ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’خودکش دھماکا درگاہ میں خواتین کے حصے میں ہوا، جبکہ دھماکے کی جگہ سے ملنے والے سر کے خدو خال سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور خاتون تھی۔‘

‘کہیں نہ کہیں چُوک ہوئی ہے’

دھماکے کے بعد سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مزار پہنچنے والے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے دھماکے کو ‘سیکیورٹی لیپس’ قرار دے دیا۔

میڈیا سے گفتگو میں اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ ‘مزار میں 50 سے زائد اہلکاروں کی ڈیوٹی ہوتی ہے جبکہ ہر شفٹ میں 30 کے قریب اہلکار یہاں موجود ہوتے ہیں جن کا انچارج انسپکٹر ہوتا ہے۔

آئی جی سندھ کے مطابق، ‘کہیں نہ کہیں چوک ہوئی ہے جس کی وجہ سے حملہ آور مزار کے اندر داخل ہوا’۔

دھماکے کے نتیجے میں معصوم جانوں کے ضیاع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے 3 روزہ سوگ کے اعلان کے بعد سندھ کی تمام اہم عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔

دھماکے کے بعد مراد علی شاہ نے درگاہ میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا دورہ کیا تھا اور اعلیٰ سطح اجلاس میں اہم ہدایات جاری کی تھیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بھی صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں دھماکے میں استعمال ہونے والے بارودی مواد کی مقدار 7 سے 8 کلو گرام ہوسکتی ہے جبکہ پہلی بار بارودی مواد میں 9 ایم ایم کی گولیوں کے استعمال کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔

دھماکے کے مقام سے بڑی تعداد میں 9 ایم ایم کی گولیوں کے خول برآمد ہوئے ہیں اور اس حوالے سے مزید انکوائری جاری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے