سر جی۔۔۔ڈرائیں نہیں بات کریں

ایک قوم کی حیثیت سے اب تک ہم یہ نہیں سمجھ پائے کہ میڈ یا کی ضرورت کیوں ہوتی ہے میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے تواسکو ستون سمجھتے کیوں نہیں۔ ستون کھڑا رہے گا تو کام کرے گا ۔

ریٹنگ کے دباؤ میں گھر ے چند کند ذہن صحافی ،ایسے عناصر ہیں جو اس ستون کی طاقت سے آگاہ نہ ہونے کے وجہ سے پیڈ پروگرام، پروپیگنڈا اورفیک نیوز کے ذریعے اپناایجنڈا پھیلاتے ہیں۔ یکطرفہ موقف کو بھونڈے دلائل اور سوچی سمجھی سازش سے ثابت کر کے اس کو ملکی مفاد کا نام دے دیا جاتا ہے اور مہینے کے آخر میں تنخواہ اور دیگر پوشیدہ مراعات بھی وصول کر لی جاتی ہیں۔اب تنخواہ چینل کے اندر سے آتی ہے یا خفیہ زرائع سے،،، یہ تو بحث ہی الگ ہے۔

پاکسان میں شرح خواندگی 58 فیصد ہے،ایجنڈے پر عمل کرنے والوں پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ عوام سوچتی بھی ہے. مشاہدہ کرنے پر معلوم ہو جاتا ہے کہ کونسا صحافی،کس کی زبان بول رہا ہے۔

صرف صحا فی برادری کے بڑے حصے میں ہی غیرپیشہ وارانہ پن نہیں بلکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنا پیغام زبان زدِ عام کرنا ہو تو ایسا طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والا پروگرام کے شروع میں ہی اندازہ لگالیتا ہے کہ اسکرپٹ لکھنے والے نے کس سمت کا تعین کیا ہے۔

سیاسی حلقے بھی جب اپنی تشہیر کے لئے ٹیلی ویژن کا سہارا لیتے ہیں تو ان پر کیے گئے پروگرامز اتنے پر جوش ہوتے ہیںکہ اینکرز فی البدیہہ بولتے بولتے خود کو ایکسپوز کر دیتا ہے۔

افراد اور ادارے یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ مسائل اورخرابیوں پرکھل کر بات کریں اور اپنا نکتہ نظر پیش کریں مگر کسی اور ادارے کا حق تلف کر کے نہیں اور نہ ہی ایماندار صحا فیوں کے اظہارے رائے کے حق کو سلب کر کے،،،،

یہاں تو معاملات اس نہج تک جا پہنچے ہیں کہ اپنے عیب پر پردہ ڈالنے کے لئے کبھی کیبل آپریٹرز کو دھمکیاں دی جاتی ہیں، کبھی کسی اخبار کی تالا بندی کی کوشش کی جاتی ہے ، کبھی کسی چینل کی اورکبھی بات عزیز میمن کو قتل کرنے تک بھی پہنچ جاتی ہے ۔

ایسی زبان بندی کی کوشش کرنے والے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ ایسے ہتھکنڈوں سے پاکستان کو آگے لے جانے کی بجائے پیچھے دھکیل رہے ہیں۔اگرمیڈیا ریاست کا ستون ہے اور ریاست ہماری ہے تو جھگڑا کس بات کا ،ریاست کی ٹھیکیداری کی کوششیں کیوں؟

پارلیمنٹ، فوج اور میڈیا کو ایک مہلک امتزاج کے طور پر پیش نا کر کے بھی ملک کی خدمت کی جاسکتی ہے ؟؟

آزادی اظہار رائے پر اگر کوئی روک ٹوک نہ ہو تو اس سے ایک غیر جانبدار صحافی کا اعتماد بڑھے گا۔اگر کوئی سوال کرے گا تو جواب میں سوشلسٹ سسٹم کے میڈیا کی مثال نہیں دی جائے گی۔

بھارتی اینکر ارناب گوسوامی کے خلاف چن چن کے میڈیا پر پرگرام تو کئے جاتے ہیں مگر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ متعصب پروگرام کروا کر ہم نا چاہتے ہوئے کئی ارناب گوسوامی پیدا کر رہے ہیں۔

2008سے 2011تک جامعہ کراچی میں ہمارے اساتذہ بتاتے تھے کہ ذ رائع ابلاغ کے لئے مواصلات کاموثر ہونا انتہائی ضروری ہے۔ جب تک بولنے والے کے الفاظ کا چناﺅ، مقصد اور باڈی لینگوئج ٹھیک نا ہو،ناظرین کو اعتماد میں لینا مشکل ہوتا ہے۔اسی طرح جب ادارے اپنا پیغام یہ سوچے بغیر دیتے ہیں کہ دیگر ادارے،میڈیا اور عوام پر انکے مخصوص پیغام کا ادراک کیسے ہوگا تو پیچیدگی اور بڑھتی ہے۔

کمیو نیکیشن کے ٹارگٹ یعنی ناظرین کی بہت اہمیت ہے۔ کسی بھی معاملے کا پیشگی اداراک ہونا ایک بہت حساس معاملہ ہے اور بڑے بڑے دارنشور اس موڑ پہ منہ کے بل گرجاتے ہیں۔بات کہی جائے،بات سنی جائے اور بات سمجھی جائے اس کو ہی مواصلات کا مکمل نظام کہتے ہیں۔

اگر اخلاقیات، معاملات کی حساسیت اور جمہوری اقدار کا پاس نہ رکھا جائے تو ریاست میں بے چینی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ سوشل میڈیا کو بھی ریگیولیٹ کرنے کا شور مچ جاتاہے۔

جانبداری سے لکھنے اور بولنے کا رد عمل یہ ہو گا کہ صحافت میں آنے والی اگلی نسلیں انتشار کا شکار ہوں گی، ان کا جوش، انکی لگن ماند پڑ جائے گی جو کہ ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔قلم کی ذمہ داری کو سمجھنے والے ناپید نظر آرہے ہیں۔اور قلم کی طاقت کو غلط طریقے سے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہاہے۔

طاقتور ادارے بلیک میلینگ اور دھمکانے کا رستہ چھوڑ کر دلیل سے بات کریں تو اس ملک میں لیڈرز پیدا ہوںگے جن سے زیادہ ملکی مفاد کا کسی کو احساس نہیں ہوگا۔

خدارا اس ستون کی اہمیت کو سمجھیں،میڈیا کی غلطیوں کی نشاندہی کریں، مگر زباں بندی پتھرکے دور کی باتیں ہیں۔ قائد کے پاکستان کی نہیں۔

بہادر شاہ ظفر نے اسی رنگ میں کہا تھا کہ ۔۔۔
بات کرنی مجھے مشکل، کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تیری محفل ،کبھی ایسی تو نہ تھی

لہٰذا ضروری ہے کہ دلیل کا جواب دلیل ہو اور گالی کا جواب ظرف ہو۔ یہ اقدار صحافت پڑھانے والے پڑ ھا تو گئے مگر عمل اس سے کوسوں دور ہے۔

ہم دوسروں کے ڈر سے، نوکری جانے کے ڈرسے ،اٹھائے جانے کے ڈر سے، مارے جانے کے ڈر سے ،رک گئے ہیں یا پھر بھٹک گئے ہیں۔سر جی۔۔۔ڈرائیں نہیں بات کریں ،بات کرنے سے بات بنے گی۔

اگر یہی معاملات رہے جو آج دکھائی دے رہے ہیں اور ایک طرف کی بات ہوتی رہے تو خدشہ ہے کہ پاکستانی ارناب گوسوامی نا پیدا ہو جائے۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے