مسجد میں اعتکاف کے دوران ’جنسی زیادتی‘ کی کوشش کرنے والا گرفتار

اعتکاف کے دوران 15 سالہ بچے کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی کوشش کرنے کا یہ واقعہ ضلع گجرات کی تحصیل سرائے عالمگیر کے علاقہ ڈاک پوٹھی میں 14 مئی کو اس وقت پیش آیا جب 15 سالہ عادل حسین ایک مقامی مسجد میں اعتکاف کی غرض سے موجود تھے۔وہاں ان کے ساتھ تبریز نامی ایک اور نوجون بھی موجود تھا جس نے عادل حسین کو جنسی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔

ضلع گجرات کے تھانہ بولانی میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق عادل حسین کے والد افضال حسین نے بیان دیا کہ وہ 14 مئی کی شب ساڑھے 11 بجے اپنے بیٹے کو کھانا دینے مسجد پہنچے تو انہیں چیخ و پکار کی آواز آئی۔

افضال حسین کے مطابق جب ہم مسجد کے اندر پہنچے تو تو تبریز میرے بیٹے سے بدفعلی کی خاطر اس کے کپڑے اتارنے کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گیا . افضال حسین کے مطابق تبریز کے خاندان نے صلح کرنے کی کوشش کی مگر ہم نے صلح کو مسترد کرتے ہوئے پولیس کو جنسی حملے کی رپورٹ درج کروا دی ہے .

قاری شمس الدین نے اپنے ہی طالب علم مدرسے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
مفتی کفایت اللہ

پاکستان میں مساجد اور مدارس کے اندر بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کی خبریں عام ہیں . کچھ عرصہ پہلے مانسہرہ کے علاقے پھلڑہ میں بھی ایک بچے کو مدرسے کے مہتمم قاری شمس الدین نے جنسی ہوس تشدد کا نشانہ بنایا گیا . جے یو آئی ف کے رہ نما، سابق رکن اسمبلی اور وفاق المدارس کے رکن مفتی کفایت اللہ نے ملزم قاری شمس الدین کو روپوش کروائے رکھا تاہم بعد میں پولیس کی دھمکی پر تھانے میں پیش کیا . قاری شمس الدین کا ڈی این اے بچے سے میچ ہو گیا . جے یو آئی نے اس حرکت کی وجہ سے مفتی کفایت اللہ کو جے یو آئی مانسہرہ کے عہدے سے ہٹا دیا .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے