خیبرپختون خوا:جولائی میں اموات کی شرح میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ

کورونا کیسز کا گراف خیبرپختونخوامیں ہرماہ بلند سے بلند ترہوتا جا رہا ہے، مارچ کی نسبت اپریل اوراپریل کی نسبت مئی اموات کے لحاظ سے پورے ملک میں خیبرپختونخواسب سے بھاری رہا

خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے کہ جون کے بعد جولائی میں بھی آبادی کے تناسب سے خیبرپختونخوا میں اموات کی شرح ملک کے دیگرحصوں کی نسبت سب سے بلندہوگی۔

2017کی مردم شماری کے مطابق خیبرپختونخوا کی آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا17.1فیصد ہے لیکن یکم جون تک ملک بھرمیں کورونا کے باعث جواموات واقع ہوئی ہیں ان میں سے 30.7فیصد صرف خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئی ہیں

ملک کی نصف آبادی سے زائد پنجاب پاکستان کی آبادی کا 52.2 فیصد ہے لیکن یکم جون تک وہاں پورے ملک کے کوروناکیسز کے صرف32.2 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے بلوچستان میں صرف3 فیصد اورسندھ میں 31.2 فیصد کورونا کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں

شماریاتی طور پرجب کورونا کے کیسز کاجائزہ لیاگیا تویکم جون تک خیبرپختونخوامیں ملک کے مجموعی کیسز کا 13.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا تاہم یکم جون تک ریکوری ملک بھرکے کیسز کا 11.2 فیصد ہے۔

خیبرپختونخواکے شماریات کیاکہتے ہیں؟؟

16 مارچ کو خیبرپختونخوا کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا جس کے دو دن بعد 18مارچ کو صوبہ اورملک بھرمیں دواموات بھی خیبرپختونخوا کے مردان اور پشاور سے ہی رپورٹ ہوئیں،فروری میں پہلا کیس کراچی سے رپورٹ کیا گیا تھا.

جب کورونا کیسزکے متاثرہ افراد کی اموات اور صحت یابی کاجائزہ لیا گیا تو خیبرپختونخوا میں اموات کی شرح ملک کے دیگرحصوں کی نسبت سب سے بلند ہے، ملک میں تقریباً کورونا سے مرنےوالے ہرتیسرے شخص کا تعلق خیبرپختونخواسے ہوتا ہے اورایک اندازے کے مطابق خیبرپختونخوا سے روزانہ 12 سے 15 اموات اوسطاً ریکارڈ ہورہی ہیں

اسی طرح مارچ میں روزانہ 26 کیسز ،اپریل میں تقریباً 90 اورمئی میں روزانہ کی بنیاد پر خیبرپختونخوا سے اوسطاً 250 کیسزرپورٹ کئے جارہے تھے، جون میں یہ شرح 400 کیسزسے بڑھ گئی ہے

ملک بھر میں یکم مئی تک کورونا کے متحرک کیسزمیں 15.1فیصد کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا جب کہ نصف سے زائد آبادی والے پنجاب میں صرف 35.6 فیصد متحرک کیسزتھے جویکم جون کو بڑھ کر41.8 فیصد ہو گئے تاہم خیبرپختونخوا کے کیسز14.8 فیصد ہوگئے۔

یکم جون کوخیبرپختونخوا میں صحت یابی کی شرح ملک بھر کے 11.2فیصد تھی جبکہ پنجاب کی26.9،بلوچستان کی5.8 اورسندھ کی52.9 فیصد تھی اس کامطلب ہے کہ سندھ میں سب سے زیادہ لوگ کورونا سے اس وقت صحت یاب ہورہے ہیں۔

خیبرپختونخوامیں اموات کی شرح زیادہ کیوں ہے؟؟

ڈاکٹر سریر بادشاہ

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے ڈین اورطبی اعدادوشمارکے ماہرپروفیسرڈاکٹر سریربادشاہ کہتے ہیں خیبرپختونخوامیں اموات کی شرح ملک میں سب سے بلند ترہے، صوبائی حکومت اور وفاق کی جانب سے جواعداد وشمارجاری کئے جاتے ہیں اسی کا اگرجائزہ لیا جائے تو خیبرپختونخوامیں ٹیسٹوں کی شرح مزید بڑھانی ہوگی

ڈاکٹر سریر بادشاہ

ڈاکٹرسریربادشاہ کہتے ہیں خیبرپختونخوامیں بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹوں کااجراء کرنا ہوگا علاقائی رسم ورواج کی وجہ سے بیشترافراد ماسک نہیں پہنتے، اگرکسی شخص میں کوروناکے آثارنموداربھی ہوجائیں تو ٹیسٹ کرانے سے کتراتا ہے اور اگر وہ ہسپتال علاج کے لئے جاتا بھی ہے توعمومی طور پر وہ مرض کاآخری مرحلہ ہوتا ہے اور اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے اس نے بہت سے افراد کو کورونا سے متاثربھی کیا ہوتا ہے

ڈاکٹر سریر کے بقول اگرابتدائی مرحلے میں ٹیسٹ کیا جائے تو بہت سے لوگ قرنطینہ ہوکردوسروں تک وائرس پہنچانے کاسبب نہیں بن سکیں گے ، ابتدائی مرحلے میں علاج کا آغاز ہوگا اور صحت یابی کی شرح سب سے بلند ترہوگی۔ ڈاکٹر سریر بادشاہ کے مطابق فوتگی کی صورت میں جنازہ کو آسان تر بنانے کے ساتھ عوام کے دلوں اس مرض کے متعلق غلط توہمات کو ہٹانا ہوگا

صوبائی حکومت کاموقف کیاہے؟؟

صوبائی وزیرصحت تیمورسلیم جھگڑا سے کچھ عرصہ قبل کیسزاوراموات کے متعلق استفسارکیا گیا توانہوں نے کہاکہ ٹیسٹوں کی استعداد ساڑھے تین ہزار سے بڑھا دی گئی ہے، پول ٹیسٹنگ کا آغاز کیا گیا ہے لیکن پھربھی خدشہ ہے کہ خیبرپختونخوامیں کورونا سے متاثرہ افراد آنےوالے کیسزسے دس گنا زائد ہوں گے جن تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری ہیں

مارچ میں خیبرپختونخوا میں ایک بھی لیبارٹری نہیں تھی تاہم250 ٹیسٹوں سے آغاز کیا گیا اوراب روزانہ تقریباً3700 کے قریب ٹیسٹ کیے جارہے ہیں، عوام کاتعاون درکارہے۔

تیمورسلیم جھگڑا کہتے ہیں کہ کوئی بھی ہمارے کیسزکوچیلنج کرسکتا ہے لیکن کورونا کے باعث مرنے والوں کے اعداد وشمارخیبرپختونخوا میں سب سے درست ہیں تقریباً بیس سے زائداموات کے کیسزایسے ہیں جو مرنے کے بعد رپورٹ ہوئے ہیں ، خیبرپختونخوامیں ڈبلیوایچ اوکے پروٹول کے مطابق مرنے والوں کی اعدادشمارمرتب کی جاتی ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے