پنجاب کا 2 ہزار 246 ارب روپے کا بجٹ پیش

پنجاب حکومت نے مالی سال 21-2020 کے لیے 2 ہزار 240 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا۔

کورونا وائرس کے باعث لاہور کے مقامی ہوٹل میں ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کیا۔

بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج اور شور شرابا کیا اور وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران چینی چور آٹا چور کے نعرے لگائے اور بجٹ کاپیاں پھاڑ دیں، اپوزیشن اراکین اسپیکر ڈائس کےگرد بھی جمع ہوئے اورحکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

مالی سال 21-2020 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت پنجاب کو 1433 ارب روپے ملیں گے جب کہ صوبائی محصولات 317 ارب روپے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی مدد سے 32 ارب روپے سے بڑے شہروں میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب کے بجٹ میں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے لیے ایک ارب روپے، صاف پانی منصوبے کے لیے ڈھائی ارب روپے، سیاحت کے لیے 2 ارب روپے، محکمہ آب پاشی کے لیے 37 ارب 40 کروڑ روپے اور سڑکوں کی تعمیر کیلئے 15 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس پر 20 فیصد ریبیٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ پنجاب ای پے پورٹل کے تحت آن لائن ادائیگی پر 5 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا اور پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی پر 10 فیصد ریبیٹ دیا جائے گا۔

[pullquote]پراپرٹی ٹیکس کے نئے ویلو ایشن ٹیبل کا اطلاق مؤخر[/pullquote]

پراپرٹی ٹیکس کے نئے ویلو ایشن ٹیبل کا اطلاق ایک سال کے لیے مؤخر کیا گیا ہے اور پراپرٹی ڈیلر سے 50 روپے فی مربع فٹ ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے جب کہ پراپرٹی ڈویلپرز سے ایک سو روپے فی مربع فٹ ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے،سرکاری زمینوں کی لیز کرائے داری اور لینڈ یو ٹیلائزیشن پالیسی کی مد میں 20 ارب روپے وصولی متوقع ہے ،اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کی شرح 20 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے اور سنیما گھروں پر عائد انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی ایک سال کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز ہے ۔

[pullquote]فنی تربیت کیلئے 6 ارب 87 کروڑ روپے مختص[/pullquote]

فنی تربیت کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹرینگ اتھارٹی( ٹیوٹا) کے لیے 6 ارب 87 کروڑ روپے اورہنر مند نوجوان پروگرام کے لیے ڈیڑھ ارب روپے ،اسکلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 4 ارب 90 کروڑ روپے جب کہ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے لیے 4 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

بجٹ21-2020 میں پنجاب کے 10 اضلاع میں ساؤتھ پنجاب پاورٹی ایلی ویشن پروگرام کے تحت 2 ارب روپے ،ویمن انکم جنریشن اینڈ سیلف ریلائنس پراجیکٹ کے تحت ایک ارب 15 کروڑ روپے،پنجاب ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت 5 ا رب 36 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

[pullquote]جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ جولائی سے کام کرے گا[/pullquote]

مخدوم ہاشم جواں بخت نے بتایا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس جولائی سے کام شروع کریں گے،بجٹ میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

[pullquote]شعبہ صحت کیلئے 284 ارب، 20 کروڑ روپے مختص[/pullquote]

اس کے علاوہ شعبہ صحت کے لیے 284 ارب اور 20 کروڑ روپے، کورونا کی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے 13 ارب،کورونا سے متعلقہ ادویات کی خریداری کے لیے 26 ارب،مختلف شہروں میں اسپتال بنانے کے لیے 6 ارب، صحت انصاف کارڈ کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے لیے 11 ارب 46 کروڑ ،196 بنیادی مراکز صحت کے لیے ایک ارب ،چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن پروگرام کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

[pullquote]تعلیم کیلئے 391 ارب روپے مختص[/pullquote]

تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 391 ارب روپے رکھے گئے ہیں،اسکول ایجوکیشن کے لیے 350 ارب 10کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،5 لاکھ طالبات کو مفت کتابیں دی جائیں گی،اسکول،کونسلز کے لیے ساڑھے 13 ارب اور دانش اسکول کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے 37 ارب 56 کروڑ روپے اور لٹریسی اور غیر رسمی تعلیم کے لیے 3 ارب جب کہ اسپیشل ایجوکیشن کے لیے 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

[pullquote] ٹڈی دل اور ناگہانی آفات کیلئے 4 ارب روپے[/pullquote]

پنجاب حکومت نے ٹڈی دل اور ناگہانی آفات کے لیے 4 ارب روپے رکھے ہیں،پنجاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کو ایک ارب دیے جائیں گے۔

زراعت کے لیے 31 ارب 73 کروڑ ،پرائم منسٹر زراعت ایمرجنسی پروگرام کے لیے ایک رب 68 کروڑ ،لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے لیے 13 ارب 30کروڑ اور محکمہ جنگلات کے لیے 8 ارب 73 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

ورلڈ بینک کے تعاون سے پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت 16 شہروں میں 32 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے جب کہ پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

[pullquote]سستا ماڈل بازار ہر تحصیل کی سطح پر بنانے کی تجویز[/pullquote]

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سستا ماڈل بازار ہر تحصیل کی سطح پر بنانے کی تجویز ہے جب کہ پنجاب کی 62 تحصیلوں میں ریسکیو 1122 سروس کے لیے 4 ارب 16کروڑ روپے اور27 اضلاع میں موٹر سائیکل ایمبولینس سروسز کے لیے ایک ارب 3 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سیف سٹی اتھارٹی راولپنڈی کے لیے 9 ارب 23 کروڑ،نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے لیے ایک ارب ،لاہور ،فیصل آباد ،ملتان اور راولپنڈی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے 5ارب ،نیا پاکستان منزلیں آسان کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے