معروف عالم دین علامہ طالب جوہری 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئے .

ممتاز شیعہ عالم اور ذاکر اہل بیت علامہ طالب جوہری انتقال کر گئے . ان کی عمر 81 برس تھی . وہ کئی روز سے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے .

علامہ طالب جوہری پاکستان کے ممتاز اسلامی اسکالر ، مذہبی رہنما ، عوامی اسپیکر ، قرآنی مترجم ، اردو شاعر ، مورخ اور شیعہ مسلک کے فلسفی تھے ۔ وہ 27 اگست 1938 کو پٹنہ – بہار (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد مولانا محمد مصطفی جوہر ایک ممتاز اسکالر اور ایک اردو شاعر تھے جو اہل بیت سے متعلق شاعری کے لئے مشہور تھے۔

علامہ طالب جوہری نے آیت اللہ العظمی سید ابو القاسم الخوئی کے زیر اہتمام نجف اشرف عراق میں اسلامی الہیات کی تعلیم حاصل کی۔ وہ آیت اللہ شہید سید باقر الصدر کے طالب علم تھے۔ علامہ طالب جوہری آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے کلاس فیلو بھی رہے ، آیت اللہ سیستانی ان کے سینئرز میں شامل تھے۔ علامہ ذیشان حیدر جوادی بھی نجف میں ان کے ایک کلاس فیلو رہے .

علامہ طالب جوہری نے احسن الحدیث ، حدیث کربلا، ذکر معصوم، نظام حیاتِ انسانی، خلفائے اثناء عشر ، علامات ظہور مہدی جبکہ فلسفے میں عقلیات معاصر اور شاعری میں حرف-نمو ، پس آفاق اور شاخ صدا کے نام سے کتابیں لکھیں .

علامہ طالب جوہری کئی عرصے تک پاکستان ٹیلی ویژن پر شام غریباں کی مجلس پڑھتے رہے . نشتر پارک سے انہوں نے مجالس کا آغاز نشتر پارک سے کیا . وہ اپنے انداز خطابت اور نکتہ دانی کے لیے مشہور تھے . ان کا اسلوب خطابت منفرد اور یکتا تھا . وہ اپنے موضوع پر اپنے رنگ میں‌ دلائل لا کر سامعین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ورطہ حیرت میں ڈالنے کافن بخوبی جانتے تھے .

علامہ طالب جوہری پہلے ناظم آباد میں مقیم تھے تاہم بعد میں وہ انچولی منتقل ہو گئے . اس وقت انچولی کی مسجد خیر العمل کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد ان کے آخری دیدار کے لیے موجود ہے . ان کی نماز جنازہ آج بعد از نماز ظہرین کراچی میں ادا کی جائے گی .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے