گلگت : پاکستان انسٹیٹیوٹ فارپیس سٹیڈیز اور فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ کے زیر اہتمام گلگت میں ایک روزہ مشاورتی سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں نیشنل ایکشن پلان کے کردار کاجی بی کے تناظر میں جائزہ، نفرت انگیز تقاریر اور مواد کی روک تھام و تدارک، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور کالعدم تنظیموں کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی۔
سیمینار میں سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن، پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ، جمعیت علماء اسلام گلگت بلتستان کے صوبائی امیر مولانا عطاء اللہ شہاب، سابق ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان، ترجمان صوبائی حکومت گلگت بلتستان فیض اللہ فراق، پی ٹی آئی جی بی شعبہ ثقافت و کھیل کے صدر راجہ میر نواز میر، ترجمان مساجد بورڈ مولانا مقصود احمد،معروف کالم نگار و سوشل سائنٹسٹ عزیز علی داد، ضیاء اللہ شاہ، شاعر حبیب الرحمن مشتاق، شفقت انقلابی، صحافی عبدالرحمن بخاری، صدر میڈیا ورکرزایسوسی ایشن و کالم نگار فہیم اختر، صحافی جمیل نگری، عوامی ورکرز پارٹی کے رکن عنایت ابدالی، مکتب صوفیہ نوربخشیہ کے نمائندوں، سمیت بڑی تعداد میں سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
اجلاس میں نظامت کے فرائض معروف صحافی سبوخ سید نے ادا کئے جبکہ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے محمد عامر رانا بھی موجود تھے۔ اس موقع پر اپنی آراء دیتے ہوئے شرکاء نے نیشنل ایکشن پلان پر بلاتفریق عملدرآمد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے نقائص دور کرنے کا مطالبہ کیا۔شرکاء نے نیشنل ایکشن پلان، شیڈول فور اور انسداد دہشتگردی دفعات کے غلط استعمال کو بھی فوری روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ریاست شہریوں کو سہولیات دیں۔
انتخابات کے دوران مذہبی منافرت پر سخت گرفت ہونی چاہئے اور کسی بھی کونے سے دل آزاری والے خطابات، تقاریر اور مواد کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے۔ امن و امان کے لئے قانون کی عملدرآری لازمی ہے، لیکن اس میں تفریق نہیں ہونی چاہئے۔
شیڈول فور میں موجود کئی افراد کو اب تک یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ ان کا بنیادی جرم کیا ہے۔ عوام انتخابات اور انتخابی مہم کے دوران مذہبی کارڈ استعمال کرنے والوں کو عیاں کرے اور اس کے خلاف مزاحمت کریں۔