یومِ استحصالِ کشمیر پر ملک بھر کی طرح آزاد کشمیر میں بھی ریلیاں نکالی گئیں اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کے سامنے دھرنا دیا گیا۔
مقبوضہ کشمیر کی عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی بربریت کے خلاف پورے آزاد کشمیر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
مظفرآباد میں پاسبان حریت کی کال پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا گیا جس میں بچے اور خواتین بھی شریک ہوئے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیرکا حل استصواب رائے سے ہی ممکن ہے، کشمیریوں کو بنیادی حق خودارادیت دینا اقوام عالم کی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن میں یادداشت پیش کی۔
راجا فاروق حیدر کے ہمراہ ممبران اسمبلی کابینہ اور سیاسی قائدین بھی فوجی مبصر مشن پہنچے۔
[pullquote]’کشمیری اب سفارتی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات چاہتے ہیں'[/pullquote]
اس موقع پر راجا فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر ایک سال سے بھارتی فوج کے محاصرے میں ہے،لائن آف کنٹرول پر رہنے والے کشمیریوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نے جلد اپنی منزل سری نگر کی طرف جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیری پاکستان سے اب سیاسی سفارتی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات چاہتے ہیں، اب اخلاقی ، سیاسی ، سفارتی مدد سے معاملہ آگے جاچکا ہے، بھارت کے اقدامات کو روکا نہ گیا تو خطے کو درپیش خطرہ بڑھ جائے گا۔
[pullquote]دنیا بھر میں کشمیری عوام سے یکجہتی کیلئے آج یوم استحصال منایا گیا[/pullquote]
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے یوم استحصال منایا گیا۔
گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے اپنے ساتھ غیر قانونی طریقے سے ضم کر لیا تھا، ساتھ ہی جموں اور لداخ کو کشمیر سے الگ کرنے کی غیر قانونی کوشش کی تھی جس کے بعد سے وادی بھر میں سخت کرفیو اور لاک ڈاؤن ہے۔
اقوام متحدہ اپنی قراردادوں میں واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ خود کشمیری ایک ریفرنڈم کے ذریعے کریں گے۔
آج 5 اگست کو بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ‘یوم استحصال’ منایا گیا۔
کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے حکومت اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بھی متحد ہیں۔
یوم استحصال کے موقع پرکشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان نے آج مظفر آباد کا دورہ کیا اور آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب بھی کیا۔
ملک بھر میں شہر شہر، گلی گلی، مظلوم کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور کئی مقامات پر سائرن اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ، جیکب آباد، کندھ کوٹ، بدین، تھرپارکر اور سانگھڑ میں ریلیوں میں شہریوں اور سرکاری افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ملتان اور فیصل آباد میں بھی مظاہرے کیے گئے جب کہ گوجرانوالا میں سائرن بجتے ہی شہر کی سڑکوں پر ٹریفک رک گیا۔
سیالکوٹ، جھنگ، مظفر گڑھ، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا، حافظ آباد، منڈی بہاء الدین، حافظ آباد، لیہ، گوجرہ، وہاڑی، لودھراں، نارووال، چکوال، خانیوال اور گجرات میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔
باب خیبر کو پاکستان اور کشمیر کے پرچموں سے سجا دیا گیا جب کہ گلگت، پاراچنار، شمالی وزیرستان میں ریلیوں میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے ’جا چھوڑ دے میری وادی‘ کے عنوان سے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں نامور اداکار، گلوکار، کھلاڑی اور صحافی شامل ہیں۔