وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیری مزاری نے کہا ہے کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) فرنٹیئر کور (ایف سی) نے قتل ہونے والے طالب علم حیات بلوچ کے گھر جا کر ہر صورت انصاف ہونے کا یقین دلایا ہے۔
قومی اسمبلی سے خطاب میں شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ حیات بلوچ قتل کی میں نے خود مذمت کی تھی، قتل پر اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا، آئی جی ایف سی خود حیات بلوچ کے ورثاء کے پاس گئے اور انصاف ہونے کا یقین دلایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہےکہ فائرنگ کرنے والے اہل کار گرفتار کرلیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں فضا بدل رہی ہے، ہمیں ظلم کے خلاف اسمبلی میں بار بار آواز اٹھانی پڑے گی، حیات بلوچ کے قاتلوں کا سزا ضرور ملنی چاہیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے تربت میں جامعہ کراچی کے طالب علم حیات بلوچ کو فرنٹیئر کور کے اہلکار نے والد کے سامنے زمین پر لٹا کر گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔
بعدازاں ایف سی نے واقعے میں ملوث اہلکار کو پولیس کے حوالے کردیا تھا تاہم سوشل میڈیا پر اس ماوارائے عدالت قتل کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا تھا۔