[pullquote]بھارت میں کووڈ انیس کے سبب ہلاکتیں تین لاکھ سے بڑھ گئیں[/pullquote]
بھارت میں کووڈ انیس کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ بھارتی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کووڈ انیس کے سبب 4,454 اموات ہوئیں جبکہ نئے انفیکشنز کی تعداد 222,315 ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح بھارت میں یہ وائرس اب تک تین لاکھ چار ہزار کے قریب افراد کی جان لے چکا ہے جبکہ اس انفیکشن سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد 27 ملین کے قریب پہنچ چکی ہے۔ بھارتی وزارت صحت کی طرف سے اس تعداد کی تصدیق ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں ایک طرف تو اس مہلک وائرس کے سبب یومیہ ہلاکتیں اور نئے انفیکشنز کی ریکارڈ تعداد نوٹ کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ملک میں ویکسینیشن مہم سست روی کا شکار ہے۔
[pullquote]اٹلی میں کیبل کار حادثہ، 14 افراد ہلاک[/pullquote]
اٹلی میں اتوار کو ایک کیبل کار حادثے میں ایک نو سالہ بچے سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو انتہائی زخمی بچے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی کیبل کار اٹلی کے شمالی پہاڑی علاقے میں 2016 میں تعمیر کی گئی تھی اور یہ ماجوری جھیل کے کنارے پر موجود سیاحتی مقام اسٹریسا سے مانتی متارون نامی پہاڑ کی 1500 میٹر بلند چوٹی تک جاتی ہے۔ اطالوی ایمرجنسی سروسز کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اطالوی صدر سرجیو ماتاریلا اور وزیر اعظم ماریو دراگی نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ حادثے کی وجوہات ابھی واضح نہیں۔
[pullquote]بیلاروس میں جہاز کو زبردستی اتار کر اپوزیشن کارکن کی گرفتاری: امریکا اور یورپی یونین کی مذمت[/pullquote]
امریکا نے بیلاروس میں ایک ہوائی جہاز کا رُخ موڑ کر اسے دارالحکومت منسک میں اتارنے اور ایک اپوزیشن کارکن کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے مطابق بیلاروس کے حکمران الیکسانڈر لوکاشینکو کے اس حیران کن عمل نے امریکی شہریوں سمیت 120 مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔ بلنکن نے گرفتار کیے جانے والے رومن پروٹاسیوچ کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین آج پیر کے روز یورپی کمیشن سے رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ بیلاروس کو ہائی جیکنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
[pullquote]اسکول کے نئے سال سے قبل بچوں کی ویکسینیشن کی جائے، جرمن وزیر تعلیم[/pullquote]
جرمن وزیر تعلیم آنیا کارلیچک نے اسکول کے نئے سال کے آغاز سے قبل طلبہ کی ویکسینیشن پر زور دیا ہے۔ کارلیچک نے امید ظاہر کی کہ تمام وفاقی ریاستوں میں 12 سے 15 برس کے بچوں کو ویکسین لگانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کارلیچک کی خواہش پر آئندہ ہفتے وفاقی اور ریاستی سطح پر ویکسینیشن کے موضوع پر ہونے والے اجلاس میں اس معاملے پر بھی بات ہو گی۔ یورپی میڈیسن ایجنسی اس وقت بائیون ٹیک فائزر کی تیار کردہ ویکسین 12 سے 15 برس کے بچوں کو لگانے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔
[pullquote]عالمی ادارہ صحت کا سالانہ اجلاس[/pullquote]
کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کے پس منظر میں عالمی ادارہ صحت کی سالانہ میٹنگ کا آغاز آج پیر کے روز سے ہو رہا ہے۔ 194 ممالک کی اس ورچوئل میٹنگ میں مستقبل میں کسی وبا کے پھیلاؤ کے حوالے سے بہتر تیاری کے بارے میں غور وخوض ہو گا۔ یہ میٹنگ ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب کورونا کی وبا کی تیسری لہر نے دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ یہ وبا اب تک دنیا بھر میں 34 لاکھ 63 ہزار سے زائد جانیں لے چکی ہے جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 167 ملین سے زائد ہے۔
[pullquote]’جب تک عوام موجود ہیں، میری پارٹی بھی موجود رہے گی‘ سوچی[/pullquote]
میانمار کی مقید سیاسی رہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ جب تک عوام موجود رہیں گے ان کی سیاسی جماعت بھی موجود رہے گی۔ سوچی کے وکیل مِن مِن سو کے بقول سوچی نے یہ بات فروری میں گرفتاری کے بعد آج پہلی مرتبہ عدالت میں پیشی کے موقع پر کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوچی نے اپنے عوام کی صحت کے بارے میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کا قیام ہی عوام کے لیے عمل میں آیا تھا اور اسی لیے یہ اس وقت تک موجود رہے گی جب تک عوام موجود ہیں۔ یکم فروری کو میانمار کی فوج نے سیاسی حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو