کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا رہے، میونسپل ٹیکس مصطفیٰ کمال کے دور میں لگا

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کاکہنا ہےکہ بلدیہ عظمٰی کراچی (کے ایم سی) کے وسائل بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، کے الیکٹرک کے ذریعے ٹیکس وصولی سے سات ارب روپے تک وصولی متوقع ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضٰی وہاب کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کی دکانوں سے سالانہ 15 کروڑ روپے اور 11 پیٹرول پمپس سے سالانہ کرایہ صرف 70 لاکھ روپے ملتا ہے، کرایہ بڑھاتے ہیں تولوگ عدالتوں سے حکمِ امتناع لے آتے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب کاکہنا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا، 2008 میں میونسپل ٹیکس سابق ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں لگایا گیا تھا، کے الیکٹرک کے ذریعے ٹیکس وصولی سے سات ارب روپے تک وصولی متوقع ہے، فیصلہ شہریوں کو کرنا ہےکہ کے ایم سی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے یا خیرات پر چلانا ہے ۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی کا کہنا تھا کہ وفاق سیاست کے بجائے میونسپل یوٹیلٹی ٹیکس وصولی میں کے ایم سی کی مدد کرے، گورنر کو سیاست کا آئینی حق نہیں، گورنر سندھ نے سیاسی مخالفت کی،وفاقی وزرا اور گورنر سندھ ٹیکس ریکوری کے مخالف ہیں ، ان کے منہ سے ایڈوانس ٹیکس اور پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر ایک لفظ نہیں نکلتا، کراچی سے زیادہ ترقیاتی کام سیالکوٹ میں ہورہے ہیں، وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ کراچی کا ساتھ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سابق میئر کی طرح اختیارات و وسائل کی کمی کا رونا نہیں روئیں گے بلکہ وسائل بڑھانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، کے ایم سی کی ملکیت کو کرائےکی مد میں شدید نقصان پہنچایا گیا اس حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

خیال رہےکہ حکومت سندھ نے کے الیکٹرک بلوں کے ذریعے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا فائر اورکنزروینسی ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کے ایم سی مختلف قسم کے 13 ٹیکس وصول کرتی ہے، کے ایم سی اس وقت فائر ٹیکس اور کنزروینسی ٹیکس سے سالانہ 21 کروڑ روپے وصول کرتی ہے، اگرکے الیکٹرک کےایم سی کے یہ دو ٹیکسز 25 لاکھ صارفین سے وصول کرے تو کے ایم سی کو سالانہ7 سے 9 ارب روپے ملیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے