شاید ہم نے کبھی نہ سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کا فیصلہ کر رکھا ہے حالانکہ انتہائی مجبوری کے عالم میں انتہائی لیٹ اپنی بہت سی ضدوںکو ری وزٹ بھی کر چکے ہیں مثلاً لائوڈ سپیکر سے لیکر فوٹو گراف یعنی تصویر تک، انجکشن سے لیکر خون اور اعضا کے ڈونیٹ کرنے تک، میڈیکل کالجز سے ڈائی سیکشن اور پھر پرنٹنگ پریس تک ہم نے کہاں کہاں ’’اڑی‘‘ نہیں لگائی اور منہ کی نہیں کھائی۔
آج کل جب میں مخصوص قسم کے ٹی وی پروگراموں میں جبہ و دستار کو ’’نامحرموں‘‘ کے ساتھ محو گفتار دیکھتا ہوں تو بس دیکھتا ہی رہ جاتا ہوں اور عجیب و غریب خیالات مجھے گھیر لیتے ہیں ۔مثلاً اسلام میں ٹیکسوں کیلئے صرف چار اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں ۔
نمبر1۔عشر
نمبر2۔خراج
نمبر3۔جزیہ
نمبر4۔زکٰوۃ
تو مجھے بتائیں کہ ہمیں جو بیسیوں قسم کے ٹیکسوں نے اژدھوں کی طرح لپیٹ رکھا ہے تو کیا یہ سارے ٹیکس ’’غیر اسلامی ‘‘ اور ’’غیر شرعی‘‘ ہیں ؟ ہر گز نہیں کیونکہ ظاہر ہے خراج و جزیہ کے تو زمانے ہی لد گئے جیسے اونٹوں، گھوڑوں، گدھوں، خچروں کے زمانے پرانے ہو گئے اور آج اگر چاروں ’’اسلامی ‘‘ ٹیکس بھی ہوں تو کیا یہ ایٹم بم بنانے ،مہنگے ترین جنگی جہاز خریدنے، بڑے چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے، موٹر ویز بنانے( کمیشن کک بیک کھانے سمیت) ایئر پورٹس بنانے وغیرہ وغیرہ وغیرہ 1000xکیلئے کافی ہوں گے؟
عرض کرنے کا مقصد یہ کہ اگر ہم شدید ترین جبر، دبائو، مجبوری یا خوف کے مارے قدم قدم پر لچک کا مظاہرہ کرنے کے بعد ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ اور ’’عید کے بعد پاجامہ پھونکنا‘‘ سے اب بھی باز نہیں آ رہے تو کب آئیں گے؟ مثالوں سے بھی نہ سیکھتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے جب سرسید احمد خان جیسے مہربان بارے کیسا کیسا ہذیان نہ اگلا گیا اور آج ہر للو پنجو انگلش میڈیم کی بغل میں گھسا ہوا ہے ۔
مومن کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ اپنے عہد کے تقاضوں کو سمجھتا ہے جس کو علی شریعتی نے یوں بیان کیا
CHANGING RULES FOR THE CHANGING NEEDS
UNCHANGING RULES FOR THE UN CHANGING NEEDS
جہانوں زمانوں کائناتوں کا خالق و مالک و رازق صرف رب العالمین
قرآن پاک آخری الہامی کتاب
ہمارے آقاؐ خاتم النبین
خطبہ حجتہ الوداع، آخری خطبہ اور یہی ازلی ابدی رولز
لیکن یہاں تو حال یہ کہ جب ٹریکٹر آیا تو فرمایا یہ ہمارے خلاف سازش ہے تاکہ یہ مشین ہماری زمینیں برباد کر دے۔ رائیونڈ میں پہلی بار بجلی لگانے کی کوشش ڈانگوں کے ذریعہ ’’ناکام‘‘ بنا دی گئی اور الزام یہ تھا کہ ’’بجلی والے ‘‘ہمارے بچے مارنا چاہتے ہیں ۔ انگریز نے برصغیر میں ریلوے ٹریک بچھانے شروع کئے تو پاکیزہ روحیں اس پروپیگنڈے میں مصروف ہو گئیں کہ فرنگی لوہے کے یہ پٹے اس لئے بچھا رہا ہے تاکہ ہمارا ہندوستان گھسیٹ کر انگلستان لے جائے ۔
سائیکل کا سنا تو سائیں لوکوں نے ملین ڈالر سوال اٹھایا کہ دو پہیوں پر تو کوئی شے کھڑی ہو ہی نہیں سکتی۔خود میں نے ایک عربی کو جہاز میں ممنوعہ گوشت کھاتے دیکھا تو پوچھا ’’یہ تو حرام نہیں ہے ؟‘‘ بدو نے مسکراتے ہوئے کہا ’’تم لوگوں کا اسلام ‘‘ ’’انڈین اسلام ‘‘ہے ’’برودر‘‘ یہ فارمی ہے ‘‘۔
ہم نے بہت سے رویے جبراً قبول تو کئے لیکن بہت سا وقت ضائع کرنے کے بعد اور انداز فکر کے اسی تسلسل نے تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بری طرح زنگ آلود کر دیا اور اسی لئے وہ مسلمان جنہوں نے سائنس کی بنیادیں رکھی تھیں، صدیوں سے کوئی بڑا اور فیصلہ کن سائنس دان پیدا نہیں کر سکے کیونکہ دماغ کا استعمال ہی بند ہو جائے تو بتدریج بیکار ہوتا چلا جاتا ہے یعنی "LOOSE IT OR USE IT” والی بات جسے”USE IT OR LOOSE IT”بھی کہا جاتا ہے ۔ دوسری طرف اگر ہم سیاسی نظام سے لیکر مالیاتی نظام تک پر کمپرومائز کر چکے ہیں تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟
کام تو ’’علماء‘‘ کا ہے، ہم جیسے تو اپنی حالت دیکھ کر کڑھ سکتے ہیں یا فرسٹریٹ ہو سکتے ہیں اور اب سابق چیف جسٹس آف پاکستان محمد منیر کی کتاب کے پیش لفظ سے چند سطریں کتاب کا نام ہے ’’جناح سے ضیاء تک‘‘
’’ یہ قوانین اس وقت منظور کئے گئے جب PNAکا بینہ میں تھی۔ یقیناً یہ انہی جماعتوں کی پیداوار ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ قیام پاکستان کی مخالف جماعتیں تاریخ کی عجب ستم ظریفی کی وجہ سے اس پوزیشن میں آ گئیں جہاں وہ نہ صرف قائد اعظم کے پاکستان کے تصور کو تباہ کر سکتی تھیں بلکہ انہوں نے ایسے قوانین بھی منظور کرالئے جو قرآنی احکامات کے منافی تھے۔ اللّٰہ غفور الرحیم ہے لیکن آرڈیننس میں اسکی رحمت کا شائبہ تک نہیں ملتا‘‘
محمد منیر 39 گلبرگ Vلاہور 8اگست 1949ء
آخری بات یہ کہ یقیناً کسی بہت بڑی غلطی کا مسلسل ارتکاب ہو رہا ہے ورنہ آج پورا عالم اسلام اپنی موجودہ شکست خوردہ ،پسماندہ حالت میں کیسے ہو سکتا ہے کہ اس سے تو دنیا کی امامت کا کام لیا جانا تھا اور اجتہاد کی تعریف کیا ہے؟
بشکریہ جنگ