[pullquote]اسرائیلی وزیراعظم کا پہلا اور تاریخی دورہِ متحدہ عرب امارات[/pullquote]
اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینٹ اتوار کو متحدہ عرب امارات پہنچ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد یہ کسی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کا اس ملک کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب علاقائی کشیدگی جاری ہے اور عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی تجدید کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی، ایران کے جوہری پروگرام اور تجارتی معاہدوں کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔
[pullquote]یوکرائن پر حملہ کیا تو روس ’سنگین نتائج‘ کے لیے تیار رہے، جی سیون[/pullquote]
دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک جی سیون نے برطانیہ میں جاری اپنے اجلاس کے حتمی علامیے میں روس کو خبردار کیا ہے کہ یوکرائن پر حملے کی صورت میں اسے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی خفیہ اطلاعات کے مطابق روس اگلے سال کے اوائل میں ایک لاکھ پچھہتر ہزار فوجیوں کے ساتھ یوکرائن پر کثیر محاذی حملہ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب روس ایسی خبروں کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع روس کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
[pullquote]ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے، جرمنی[/pullquote]
جرمنی کی نو منتخب وزیر خارجہ انالینا بئیربوک کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ تہران ویانا میں دنیا کے ساتھ اپنے جوہری مذاکرات میں سنجیدہ تھا۔ قبل ازیں ایران کے ایک اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا تھا کہ کسی جوہری معاہدے کے حوالے سے عالمی طاقتوں اور تہران حکومت کے مابین اختلافات برقرار ہیں۔
[pullquote]طوفانی بگولوں کی تباہی نے امریکا کو خوفزدہ کر دیا[/pullquote]
امریکا میں تباہ کن طوفانی بگولوں کے بعد صدر جو بائیڈن نے متاثرہ چھ ریاستوں کے لیے بلا روک ٹوک امداد کا وعدہ کیا ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ جس چیز کی بھی ضرورت ہے، ان کی حکومت اسے فراہم کرنے کا راستہ تلاش کرے گی۔ انہوں نے طوفان سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست کینٹکی کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان پر اتفاق کیا ہے۔ صرف اس ایک ریاست میں تقریبا ستر افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
[pullquote]سوشل میڈیا ’جمہوریت کے لیے خطرہ‘ ہے، ترک صدر[/pullquote]
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے سوشل میڈیا کو جمہوریت کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ ایردوان حکومت آن لائن جعلی خبروں اور غلط معلومات پھیلانے کو مجرمانہ کارروائی قرار دینے کے لیے قانون سازی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح انقرہ حکومت اس قانون کو آزادی رائے سلب کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ ترکی نے گزشتہ برس ایک قانون منظور کرتے ہوئے فیس بک، یو ٹیوب اور ٹویٹر جیسی ایک ملین سے زیادہ صارفین والی کمپنیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ملک کے اندر اپنے قانونی دفاتر قائم کریں اور ڈیٹا بھی ملک کے اندر ہی سٹور کریں۔
[pullquote]آسٹریا میں ہزاروں افراد کا لازمی ویکسینیشن کے خلاف مظاہرہ[/pullquote]
آسٹریا میں ہزاروں افراد نے کورونا اقدامات اور اعلان کردہ لازمی ویکسینیشن کے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ویانا کے مرکز میں ہونے والی ریلی میں تقریباً پندرہ ہزار لوگ شریک ہوئے۔ یورپ کے متعدد ممالک میں لاکھوں افراد کورونا وائرس کے خلاف ویکسین لازمی لگوانے کے قانون کے خلاف ہیں۔ حال ہی میں فرانس، بیلجیم، جرمنی اور دیگر ممالک میں بھی ایسے ہی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ ایسے متعدد مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا تھا۔
[pullquote]جی سیون ممالک روس، چین اور ایران کے خلاف مشترکہ موقف پر متحد[/pullquote]
دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون نے روس، چین اور ایران کے خلاف مشترکہ موقف اپنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ برطانیہ کے شہر لیورپول میں جاری اجلاس میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرائن میں فوجی مداخلت کی گئی تو اسے سنگین نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس اجلاس کا حتمی اعلامیہ اتوار کی شام تک جاری کیا جائے گا۔ جی سیون ممالک میں برطانیہ، جرمنی، فرانس، امریکا، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں۔ سن دو ہزار بائیس سے جی سیون ممالک کی سربراہی جرمنی کے پاس ہو گی۔
[pullquote]چین: مال بردار جہاز ڈوبنے سے کم از کم چار افراد ہلاک، سات لاپتہ[/pullquote]
چین کے مشرقی ساحل پر ایک مال بردار جہاز ڈوبنے سے کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حادثہ ساحلی شیڈونگ صوبے کے ینتائی شہر میں اتوار کی صبح پیش آیا۔ متاثرہ کارگو جہاز پر عملے کے چودہ اراکیں سوار تھے۔ ان میں سے تین کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ سات افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ حکام نے لاپتہ افراد کی بھی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]